حکومت نے پرائز بانڈز پر پابندی کس وجہ سے لگائی؟

ماضی میں اسٹیبلیشمنٹ کے غلط فیصلوں کے اثرات اب تیزی سے سامنے آنے لگے ہیں، حکومت نے ایف اے ٹی ایف کی شرائط پوری کرنے کےلیے 7500 اور 15 ہزار روپے مالیت کے انعامی بانڈز ختم کردیئے ہیں اور عوام کو ان بانڈز کی واپسی کے لیے 31 دسمبر تک مہلت دے دی ہے۔
حکومت پاکستان کے فنانس ڈویژن کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے اعلان کیا گیا ہے کہ 15000 اور 7500 روپے مالیت کے پرائز بانڈز 31 دسمبر 2021 تک کیش اور واپس کیے جا سکتے ہیں، اس کے بعد ان کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی۔ تاہم حکومت نے 15000 اور 7500 روپے مالیت کے پرائز بانڈز رکھنے والے افراد کو یہ سہولت بھی فراہم کی ہے کہ وہ ان بانڈز کو 25000 اور 40000 والے پرئیمیر پرائز بانڈز میں بھی تبدیل کرا سکتے ہیں جو دونوں کے درمیان مالیت کا فرق ادا کر کے تبدیل کرائے جا سکتے ہیں۔
ایسا اسٹیٹ بینک کے فیلڈ آفسز اور چھ کمرشل بینکوں کی برانچوں کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔ حکومت کے اعلان کے مطابق 7500 اور 15000 روپے مالیت کے یہ پرائز بانڈز اسپیشل سیونگ سرٹیفکیٹس اور ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹس سے بھی بدلے جا سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ حکومت کی جانب سے 15000 اور 7500 روپے مالیت کے پرائز بانڈز پر پابندی کے تازہ ترین اقدام سے پہلے 40000 اور 25000 روپے مالیت کے پرائز بانڈز پر بھی حکومت پابندی لگا چکی ہے۔ حکومت کی جانب سے 40000، 25000، 15000 اور 7500 روپے مالیت کے پرائز بانڈز پر پابندی کے بعد اب مارکیٹ میں سب سے بڑا پرائز بانڈ 1500 روپے مالیت کا ہے۔ اس کے علاوہ 750، 200 اور 100 روپے مالیت کے پرائز بانڈز مارکیٹ میں موجود ہیں۔
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ یہ عمل ایف اے ٹی ایف کی شرائط کے تحت ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے آئی ایم ایف اور عالمی بینک بھی پاکستان سے پرائز بانڈز پر پابندی کا کہہ چکے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ بڑی مالیت کے پرائز بانڈز منی لانڈرنگ اور کالے دھن کو سفید کرنے کا سب سے آسان ذریعہ بن چکے ہیں۔ یہ بانڈز کرنسی نوٹوں کی طرح استعمال ہوتے ہیں کہ جس میں ایسی ٹرانزیکشنز کی جاتی ہیں جن میں غیر قانونی لین دین شامل ہو۔ جب کسی کا بانڈ لگ جاتا ہے تو کالے دھن میں ملوث افراد ان سے یہ بانڈ خرید لیتے ہیں اور انہیں رقم ادا کرکے اپنی غیر قانونی دولت کو سفید کرتے ہیں۔
لیکن کئی معاشی ماہرین نے 7500 اور 15000 روپے مالیت کے پرائز بانڈز پر پابندی کو خوش آئند قرار دیا ہے اور کہا کہ دنیا میں تو یہ اس پر بہت عرصہ پہلے پابندی لگ چکی ہے یعنی بیرئیر پرائز بانڈ کی خرید و فروخت نہیں کی جا سکتی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بیرئیر پرائز بانڈ پر پابندی ہر صورت لگنی چاہیے کیوں کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ جس کی جیب سے یہ بانڈ نکلے وہ اسی کا قرار پائے۔ رجسٹرڈ پرائز بانڈز صحیح طریقہ کار ہے کہ جس کے نام پر جاری ہوا ہو وہی دوبارہ اسے بینک میں جمع کرا سکے یا انعام لگنے کی صورت میں کیش کرا سکے۔ ماہرین نے اسے معیشت کو دستاویزی بنانے کی طرف بھی ایک اہم قدم قرار دیا اور کہا اس کے ذریعے جہاں کالے دھن کو سفید کرنے کا سلسلہ رک جائے گا تو اس کے ساتھ معیشت کی زیادہ بہتر دستاویز صورت ابھرے گی۔
ماہر معیشت ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے اس بات کی تصدیق کی پرائز بانڈز کالے دھن کو سفید کرنے کا سب سے آسان ذریعہ ہے جس پر پابندی لگنی چاہیے۔ انہوں نے کہا وہ پانچ سال سے حکومت سے کہہ رہے تھے کہ وہ اس سلسلے میں اقدامات اٹھائے اور بلیک اکانومی کے اس ذریعے کو بند کرے۔
خیال رہے کہ پرائز بانڈز قومی بچت اسکیموں کا حصہ ہیں جن میں ہونے والی سرمایہ کاری کے ذریعے اکٹھا ہونے ولی رقم حکومت اپنے مالی خسارے کو پورا کرنے کےلیے استعمال کرتی ہے۔بڑی مالیت کے پرائز بانڈز پر پابندی کے بعد لوگ رجسٹرڈ پرائز بانڈز پر جانے سے کترا رہے ہیں۔ ایسی صورت میں کیا حکومت کو بجٹ خسارے پورا کرنے کےلیے کوئی مشکل پیش آ سکتی ہے۔ 15000 اور 7500 روپے مالیت کے پرائز بانڈز میں سو ارب روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔
اس سلسلے میں ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے کہا اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑنے والا کیوں کہ حکومت اب کمرشل بینکوں سے بہت زیادہ پیسہ اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا پرائز بانڈز میں دو تین سو ارب روپے کی سرمایہ کاری ہوئی ہے، دوسری جانب حکومت کے جانب سے لیے جانے والے 11500 ارب روپے کے سامنے یہ کوئی خاص حیثیت نہیں رکھتی۔ ان کے مطابق اگر لوگ پرائز بانڈز اپنے نام پر رجسٹرڈ نہیں کرانا چاہتے اور اب اپنی بچت کو ڈالروں میں لگانا چاہتے ہیں تو حکومت کو اس کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔ انہوں نے اس سلسلے میں حکومت کو ڈالر اکاؤنٹ پر پابندی لگا دینی چاہیے تاکہ لوگ ڈالر اپنے پاس نہ رکھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے 20 ارب ڈالر ذخائر میں سے سات ارب ڈالر تو لوگوں کے کمرشل بینکوں کے اکاؤنٹس میں پڑے ہیں۔ اس صورت میں لوگ قومی بچت کی اسکیموں کی طرف آئیں گے۔
