حکومت ڈالر کی بلیک مارکیٹ روکنے میں ناکام کیوں؟

ملک میں معاشی ابتری کے باوجود حکومت کی تمام تر توجہ سیاسی کارروائیوں پر مرکوز ہے، جبکہ پاکستان میں ڈالر کے سرکاری ریٹ میں اضافے کے باوجود گرے مارکیٹ میں ڈالر کا کاروبار عروج پر ہے۔انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ کے مقابلے میں گرے مارکیٹ میں ڈالر کا ریٹ 25 سے 30 روپے زیادہ ہونے کی وجہ سے ہر گزرتے دن کے ساتھ غیرقانونی طریقے سے ڈالر کی خرید و فروخت کا کاروبار پروان چڑھتا جا رہا ہے۔فاریکس ڈیلرز کا کہنا ہے کہ گرے مارکیٹ کا وجود کئی دہائیوں سے ہے، موجودہ معاشی صورتحال میں حکومت نے جو فیصلے کیے ہیں، ان سے قانونی طریقوں سے ڈالر کی خرید و فروخت کرنے والوں کو نقصان اور گرے مارکیٹ والوں کو فائدہ ہوا ہے۔
ایکسچینج کمپنیز ایسو سی ایشن آف پاکستان کے سیکرٹری ظفر پراچہ کے مطابق ملک میں مسلسل ڈالر کی طلب و رسد میں فرق اور ڈالر کی قلت نے گرے مارکیٹ کو اوپن اور انٹربینک مارکیٹ سے زیادہ طاقتور بنا دیا ہے، حکومت کی غلط پالیسیوں نے گرے مارکیٹ میں کام کرنے والوں کے لیے آسانیاں پیدا کر دی ہیں۔ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ جمعرات کو کاروباری اوقات کے ابتدائی حصے میں انٹر بینک میں ایک امریکی ڈالر کی قیمت 269 روپے ہے اور اوپن مارکیٹ میں 270 روپے ہے جبکہ گرے مارکیٹ میں یہ قیمت 297 روپے چل رہی ہے۔جب مارکیٹ میں ڈالر نایاب ہوجاتا ہے تو ریٹ کھولا جاتا ہے، یہ ریٹ کہیں بھی ظاہر نہیں کیا جاتا لیکن ڈالر کی خرید و فروخت ہو رہی ہوتی ہے، دوسرا طریقہ یہ ہے کہ بیرون ممالک سے پیسے بھیجنے والوں کو مارکیٹ کے مقابلے میں 20 سے 30 روپے اضافی ریٹ دیئے جاتے ہیں، بنا کسی دستاویزاتی عمل کے کرنسی خرید لی جاتی ہے اور پھر اپنے من مانے ریٹ پر فروخت کی جاتی ہے۔
سینئر صحافی اور تجریہ کار خرم حسین نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو قانونی طریقےسے ملک میں پیسے بھیجنے والوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنی ہوں گی، ملک میں ڈالر کی سپلائی بہتر ہوگی تو خود بہ خود گرے مارکیٹ کم ہوتی جائے گی، معاشی ماہر عبدالعظیم نے اردو نیوز کو بتایا کہ قرضوں کا حجم بڑھ رہا ہے، ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور ڈالر کی مسلسل قلت کی وجہ سے روپیہ اپنی قدر کھو رہا ہے۔دوسری جانب ظفر پراچہ گرے مارکیٹ بڑھنے کا ذمہ داری حکومت کو قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مرکزی بینک کی جانب سے امپورٹرز اور ایکسپورٹرز کو کہا جاتا ہے کہ ایل سی کے لیے خود ڈالر کا انتظام کریں، جب سرکاری سطح پر ڈالر کی سپلائی ہی نہیں ہوگی تو کیسے ڈالر لائے جائیں گے؟
اس کے علاوہ ملک سے ڈالر کی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے بہت سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کراچی سمیت ملک کے دیگر شہروں سے ڈالر خریدا جاتا ہے اور پشاور میں فروخت کر دیا جاتا ہے جہاں سے باآسانی ڈالر اچھے ریٹ پر افغانستان سمگل ہو جاتا ہے، سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجے گئے پیسوں میں واضح کمی ہوئی ہے۔گزشتہ برس نومبر میں بینکوں کے ذریعے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر میں 14 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ دسمبر کے دوران اس میں 3.2 فیصد کی مزید کمی ہوئی ہے جس کے بعد ترسیلاتِ زر میں سالانہ بنیادوں پر کمی 19 فیصد ہوگئی، یہی نہیں بلکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بتایا کہ مالی سال 2023 کی پہلی ششماہی میں بیرون ملک سے ترسیلات زر کی مد میں آنے والے 14.1 ارب ڈالر گزشتہ سال کی پہلی ششماہی میں آنے والے فارن ایکسچینج سے11.1 فیصد کم ہیں۔
