TTPنے پشاور حملےسے راہ فرار کیوں اختیار کی؟

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کی پولیس لائنز مسجد میں 30 جنوری کو ہونے والے دھماکے پر شدت پسند گروہوں کے مابین ذمہ داری قبول کرنے کے معاملے پر اختلاف سامنے آیا ہے۔اس واقعے کی ذمہ داری ابتدا میں تحریک طالبان پاکستان کے ایک گروپ کی جانب سے قبول کی گئی تھی تاہم افغان طالبان کی جانب سے اس کی مذمت کے بعد ٹی ٹی پی کی مرکزی شوریٰ نے اس واقعے سے برات کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی۔تاہم سکیورٹی ماہرین کا خیال ہے کہ ابتدا میں ذمہ داری قبول کرنا مگر بعدازاں افغان طالبان کے ردعمل کو دیکھتے ہوئے اس سے برات کا اظہار کرنا ٹی ٹی پی کی حکمت عملی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔تاہم ٹی ٹی پی سمیت متعدد شدت پسند گروہوں نے جہاں اس واقعے کی مذمت کی ہے وہیں سخت گیر شدت پسند تنطیم نام نہاد دولت اسلامیہ کے حامیوں نے اس کو سراہا ہے۔بعض ماہرین کا خیال ہے کہ 100 سے زائد نمازیوں کی ہلاکت کے بعد عوامی سطح پر غم و غصہ پایا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ٹی ٹی پی اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے سے کترا رہی ہے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ٹی ٹی پی کے کچھ کمانڈرز کی جانب سے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ تنظیم قبائلی بنیادوں پر تقسیم ہو رہی ہے۔

 

خیال رہے کہ ٹی ٹی پی مہمند شاخ کے دو اہم کمانڈرز سربکف مہمند اور عمر مکرم خراسانی کی جانب سے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔دونوں کمانڈرز نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ یہ حملہ ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈر عمر خالد خراسانی (اصل نام عبدالولی) کی ہلاکت کا بدلہ ہے اور یہ خودکش حملہ مہمند سے ہی تعلق رکھنے والے 25 سالہ طالبِ علم حذیفہ نے کیا۔ٹی ٹی پی کے ان کمانڈرز کے بیانات کے کچھ گھنٹے بعد افغانستان میں طالبان حکومت کی وزارتِ خارجہ نے ایک اعلامیے میں پشاور دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے اسے اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیا تھا۔حملے کے لگ بھگ آٹھ گھنٹے بعد ٹی ٹی پی کے مرکزی ترجمان محمد خراسانی نے ایک وضاحتی بیان میں اس حملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔اُن کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی مساجد، مدارس، جنازگاہ اور دیگر مقدس مقامات پر حملے نہیں کرتی۔

 

قانون نافذ کرنے والے افسران اور سکیورٹی ماہرین کا ایک حلقہ یہ سمجھتا ہے کہ ٹی ٹی پی مہمند کے کمانڈرز کی جانب سے ذمے داری قبول کرنے کے بعد مرکزی تنظیم کا اظہارِ لاتعلقی ظاہر کرتا ہے کہ وہ اس بڑے پیمانے پر ہونے والی جانوں کے ضیاع کے بعد عوامی ردِعمل سے بچنا چاہتی ہے۔نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے سابق کوآرڈینیٹر اور سابق آئی جی خیبرپختونخوا احسان غنی کہتے ہیں کہ ٹی ٹی پی کی جانب سے حملے کی ذمے داری قبول نہ کرنا ان کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ احسان غنی کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ یہ حملہ تنظیم کی مرکزی قیادت کی مرضی سے نہیں ہوا۔اُن کے بقول ٹی ٹی پی خیبرپختونخوا اور قبائلی اضلاع کے مختلف علاقوں میں سرگرم شدت پسند تنظیموں کا اتحاد ہے اور یہ افغان طالبان کی طرح ایک منظم تنظیم نہیں ہے۔

 

سکیورٹی اُمور کے ماہرین کہتے ہیں کہ ٹی ٹی پی مہمند کی جانب سے پشاور حملے کی ذمے داری قبول کرنے سے اس تاثر کو تقویت مل رہی ہے کہ تنظیم کی بعض شاخیں مرکزی تنظیم کے بجائے قبائلی بنیادوں پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔فخرکاکاخیل کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کی جانب سے نئی تنظیم سازی میں قبائلی بنیادوں کے بجائے تنظیمی بنیادوں پرمختلف علاقوں کے ذمے دار بنائے گئے ہیں تاکہ تنظیم میں قبائلی بنیادوں پر اختلافات پیدا نہ ہوں۔اُن کے بقول ٹی ٹی پی مہمند کے کمانڈروں کا حالیہ پشاور حملے کی ذمے داری قبول کرنے اور مرکزی تنظیم کی لاتعلقی سے یوں لگ رہا ہے کہ تنظیم میں قبائلی بنیادوں پراختلافات دوبارہ پیدا ہوچکے ہیں۔

 

پشاور یونیورسٹی میں شعبہ ابلاغِ عامہ کے پروفیسر ڈاکٹر سید عرفان اشرف کا کہنا ہے عوام کے خوف کے باعث شدت پسند تنظیمیں اب ذمے داری لینے سے پیچھے ہٹ گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس لیے پیچھے نہیں ہٹیں کہ بڑے پیمانے پر پولیس اہل کار ہلاک ہوئے ہیں۔ پولیس تو گزشتہ نو ماہ سے ان کے نشانے پر ہے بلکہ مسجد کو نشانہ بنائے جانے کی وجہ سے وہ یہ نہیں چاہتے کہ عوام میں ان کے خلاف منفی تاثر پھیلے۔سکیورٹی تجزیہ کار عامر رانا کا کہنا ہے کہ بظاہر ایسا محسوس ہو رہا کہ ذمہ داری قبول کر کے اس سے برات کا اظہار کرنا ٹی ٹی پی کی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے کیونکہ ایک گروپ کی طرف ذمہ داری قبول کی گئی اور اس کے کافی دیر بعد ٹی ٹی پی کا متضاد بیان سامنے آیا۔ٹی ٹی پی کی مرکزی شوریٰ کی جانب سے ذمہ داری قبول نہ کرنے کا بیان افغان طالبان کی جانب سے اس واقعے کی مذمت کرنے کے کچھ دیر بعد آیا، جو ان کی حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے۔ ٹی ٹی پی کہہ چکی ہے کہ وہ عوامی مقامات کو ٹارگٹ نہیں کریں گے مگر ماضی میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ وہ یہ سب کام کرتے رہے ہیں، خاص طور پر خراسانی گروپ جس نے ابتدا میں پشاور دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

 

اس سوال کے جواب میں کہ کیا ذمہ داری قبول کرنے کا معاملہ ٹی ٹی پی میں اندرونی اختلافات کو ظاہر کرتا ہے؟عامر رانا کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ایسا نہیں ہے۔مختلف معاملات پر اختلاف رائے ہوتا ہے اور چونکہ گذشتہ ایک سال کے دوران بہت سے شدت پسند گروپ اپنی شرائط پر ٹی ٹی پی میں شامل ہوئے ہیں۔ ٹی ٹی پی کو معلوم ہے کہ کچھ مختلف کرنے سے وہ افغان طالبان کی حمایت سے محروم ہو سکتے ہیں۔سابق سیکریٹری داخلہ سید اختر علی شاہ پشاور دھماکے کو بڑا سکیورٹی لیپس قرار دیتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا مسئلہ صوبائی نہیں بلکہ وفاقی سطح پر ڈسکس ہونا چاہیے۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ دہشت گردی کے حوالے سے از سرنو غیر مبہم پالیسی کا تعین کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ افغان پالیسی کا بھی ازسرہ نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

Back to top button