حکومت کا الیکشن کمیشن سے استعفیٰ کا مطالبہ

وفاقی وزراء شبلی فراز اور فواد چوہدری کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ الیکشن کمیشن ناکام ہو چکا ہے، الیکشن کمیشن نیوٹرل ایمپائر کا کردار ادا نہیں کررہا اس لیے اسے بحیثیت مجموعی استعفیٰ دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں کا اعتماد الیکشن کمیشن سے اٹھ چکا ہے، نیا الیکشن کمیشن بنے جس پر سب کا اعتماد ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے اراکین فوری استعفیٰ دیں اور پارلیمان کو موقع دیا جائے کہ نیا الیکشن کمیشن تشکیل دیا جائے، جس پر سب کا اعتماد ہو۔ شفقت محمود نے کہا کہ تحریک انصاف سب سے بڑی جماعت ہے اسے الیکشن کمیشن پر کوئی اعتماد نہیں، دیگر جماعتوں سے بھی پوچھا جائے تو انہیں اس پر اعتماد نہیں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا الیکشن کمیشن کے خلاف کوئی ریفرنس دائر نہیں کریں گے۔
وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے معاون خصوصی شہباز گل پر انڈے اور سیاہی پھینکنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم لیگ(ن) کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ وہ سیاست کو کس طرف لے جانے کی کوشش کررہے ہیں۔ شفقت محمود نے کہا کہ آج شہباز گل کے ساتھ جو ہوا ہے، اگر یہ اسی طرح چلتا رہا تو سیاست ایک حد سے بڑھ کر تشدد پر آ جائے گی اور اس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ(ن) کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ وہ سیاست کو کس طرف لے جانے کی کوشش کررہے ہیں، اس کلچر کو فروغ دینے کا جو وطیرہ بنایا گیا ہے اس کو ختم کریں اور سیاست کو سیاست سمجھ کر کریں۔ سینیٹ الیکشن کے بارے میں وزیر اعظم عمران خان کا بڑے عرصے سے یہ مطالبہ تھا کہ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کی سیاست میں پیسے وغیرہ کی سرگرمیوں کو ختم ہوں تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعے ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ 2015 میں جب نواز شریف نے اوپن بیلٹ کا قانون لانے کی کوشش کی تو وزیراعظم نے مسلم لیگ(ن) سے سیاسی اختلافات کے باوجود اس کا خیرمقدم کیا کیوں کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری سیاست صاف و شفاف ہو۔ انہوں نے کہا کہ 2018 میں پھر منڈیاں لگیں اور تحریک انصاف واحد پارٹی ہے جس نے اپنے اراکین کے خلاف ایکشن لیا جن کے بارے میں پتہ چلا کہ انہوں نے پیسے کی لین دین کی۔ ان کا کہنا تھا کہ 2021 کے سینیٹ انتخابات کےلیے ہم نے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کیا جس پر اعلیٰ عدلیہ نے کہا کہ اگر آپ نے ووٹنگ کا طریقہ کار بدلنا ہے تو اس کےلیے آئینی ترمیم ہونی ضروری ہے لیکن انہوں کچھ اور بھی ہدایت اور 218(3) کا حوالہ دیا جو اس بارے میں بڑی واضح ہے۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ یہ شق کہتی ہے کہ یہ الیکشن کمیشن کا یہ فرض ہوگا کہ وہ انتخاب کا انتظام کرے اور اسے منعقد کرائے اور ایسے انتظامات کرے جو اس امر کے اطمینان کےلیے ضروری ہوں کہ انتخاب ایمانداری، حق اور انصاف کے ساتھ اور قانون کے مطابق منعقد ہو اور یہ کہ بدعنوانی کا سدباب ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے چیف الیکشن کمشنر سے وفد کی صورت میں ملاقات کر کے استدعا کی کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ووٹ خفیہ رکھنے کا معاملہ ایسا نہیں ہے کہ جس میں تبدیلی نہیں ہو سکتی اور اس کا کوئی ایسا طریقہ ہونا چاہے کہ اگر آپ نے بدعنوان طریقوں کو روکنا ہے تو اس کا کوئی طریقہ بنایا جائے اور استدعا کی کہ اس پر کوئی نشانی آج ئے تاکہ اگر ضرورت پڑے تو موقع پر موجود لوگوں کو بے شک نظر نہ آئے لیکن اگر بعد میں ضرورت پڑے تو اس کی تحقیق کی جا سکے لیکن ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس کو مسترد کردیا گیا اور کمیٹی بنا کر کہا گیا کہ آئندہ ہوگا۔
