حکومت کا چیف الیکشن کمشنر پر بڑا وار ناکام ہوگیا


وفاقی حکومت کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان پر کیا جانے والا ایک بڑا وار تب ناکام ہوگیا جب سپریم کورٹ آف پاکستان نے ان کی ناایلی کیلئے دائر کردہ درخواست خارج کر دی۔
چیف الیکشن کمشنر کے خلاف دائر کردہ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ کوئی ریٹائرڈ بیوروکریٹ اس عہدے پر تعینات نہیں کیا جاسکتا اور صرف ریٹائرڈ جج ہی اس عہدے کا اہل ہوتا ہے۔ 15 ستمبر کے روز عدالت عظمیٰ کے قائم مقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سکندر سلطان راجا کی بطور چیف الیکشن کمشنر تعیناتی کے خلاف اپیل پر سماعت کی۔ دوران سماعت جسٹس بندیال نے درخواست گزار علی عظیم آفریدی سے کہا آپ کہتے ہیں ریٹائرڈ بیوروکریٹ کو چیف الیکشن کمشنر نہیں لگایا جا سکتا لیکن آپ کے پاس اپنے موقف کے حق میں کوئی قانونی دلائل نہیں ہیں؟ جسٹس عمر عطا بندیال نے درخواست گزار وکیل سے دریافت کیا کہ آپ نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے لیے چیف جسٹس سے مشاورت ہونی چاہیے، کیا آپ نے چیئرمین نیب تعیناتی کیس کا فیصلہ پڑھا ہے؟ قائم مقام چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ چیف الیکشن کمشنر اور چیئرمین نیب جوڈیشل افسران نہیں ہوتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ درخواست میں آپ نے آئینی ترمیم کو بھی چیلنج کیا ہے، آئین کے مطابق کسی آئینی ترمیم کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے درخواست گزار کو کہا کہ ہم آپکی اس کوشش کو سراہتے ہیں کیونکہ آپ نے آئینی نقطہ اٹھایا لیکن بادی النظر میں آپ کی درخواست منظور نہیں کی جاسکتی۔
بعدازاں عدالت نے رجسٹرار سپریم کورٹ آفس کی جانب سے ایڈوکیٹ آفریدی کی دائر کردہ درخواست پر لگائے گئے اعتراضات برقرار رکھتے ہوئے اپیل اور آئینی درخواست دونوں خارج کر دیں۔ یاد رہے کہ یہ درخواست پر وفاقی وزراء کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر پر بیہودہ الزامات لگائے جانے کے اگلے ہی روز دائر کی گئی اور یہ خیال کیا جارہا تھا کہ اس میں وفاقی حکومت کا ہاتھ ہے۔
خیال رہے کہ جنوری 2021 میں سکندر سلطان راجا کو 5 سال کے لیے چیف الیکشن کمشنر تعینات کیا گیا تھا۔ حکومت اور اپوزیشن، ای سی پی سربراہ اور اراکین کے تقرر کے معاملے پر طویل ترین ڈیڈلاک اور مختلف مشاورتی اجلاسوں کے بعد ان کے نام پر متفق ہوئی تھیں حالانکہ انکا نام حکومتی جماعت تحریک انصاف کی جانب سے آیا تھا۔ تاہم حال ہی میں حکومت کی جانب سے آئندہ انتخابات میں الیکٹرانگ ووٹنگ مشین کے استعمال پر اصرار پر الیکشن کمیشن کے اعتراض کے باعث حکومتی وزرا اور عہدیداران کی جانب سے کمیشن اور اس کے سربراہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ الیکشن کمیشن نے وفاقی وزرا فواد چوہدری اور اعظم سواتی کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر پر لگائے گئے الزامات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ان سے ثبوت طلب کرلیا ہے۔ الیکشن کمیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے سے ان کے ادارے پر حملہ کا بنیادی مقصد چیف الیکشن کمشنر کو دباؤ میں لانا ہے لیکن ایسی ہر کوشش ناکام ہو گی۔
یاد رہے کہ سکندر سلطان راجا نے 1987 میں سرکاری ملازمت شروع کی تھی۔ وہ اپنی سروسز کے دوران مختلف عہدوں پر تعینات رہے اور 22 ویں گریڈ کے عہدے سے کچھ ماہ قبل ہی بطور سیکریٹری ریلوے ریٹائرڈ ہوئے جبکہ وہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے پیٹرولیم سیکریٹری اور چیف سیکریٹری کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹس بھی رہے۔
انہوں نے صوبائی سیکریٹری آف کمیونکیشن اینڈ ورکس، سروسز اور جنرل ایڈمنسٹریشن کے فرائض بھی انجام دیے، اس کے علاوہ وہ مختصر مدت کے لیے پنجاب میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری تعینات ہونے سے قبل بلدیاتی حکومت کے سیکریٹری بھی رہے۔ راجہ سکندر سعید مہدی کے داماد ہیں، جو سابق وزیراعظم نواز شریف اور اسلام آباد کے چیف کمشنر عامر احمد علی کے برادر نسبتی کے پرنسپل سیکریٹری رہ چکے ہیں اور آج کل عمران خان کے کافی قریبی سمجھے جاتے ہیں۔ سکندر سلطان راجا کے والد آرمی افسر تھے جبکہ ان کی اہلیہ رباب سکندر پاکستان کسٹمز میں 21 ویں گریڈ کی افسر ہیں۔

Back to top button