خاتون وائس چانسلر کے گورنر شاہ فرمان پر سنگین الزامات


ویمن یونیورسٹی صوابی کی وائس چانسلر شاہانہ عروج کاظمی نے وزیر اعظم عمران خان کے نام ایک خط میں گورنر خیبر پختونخواہ شاہ فرمان کی جانب سے انھیں اور یونیورسٹی کی خواتین اساتذہ کو ہراساں کرنے، ان پر دباؤ ڈالنے اور سیاسی استحصال کا نشانہ بنانے کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب گورنر شاہ فرمان نے خاتون وائس چانسلر کو 90 روز کے لیے معطل کر دیا ہے۔
صوابی یونیورسٹی کی وائس چانسلر نےخط میں وزیر اعظم عمران خان سے کہا ہے کہ مجھے پہلے دن سے میرٹ پر چلنے کی وجہ سے صوبائی تعصب کا نشانہ بنایا گیا اور گھٹیا الزامات عائد کئے گئے جن کے خلاف میں نے گورنر کو خط بھی لکھا لیکن شاہ فرمان اور حکومت دونوں نہ صرف خاموش رہے بلکہ راسانی کے تدارک کی بجائے میر ے ہی خلاف ہی بے بنیاد الزامات لگا خر انکوائری شروع کردی گئی۔ شاہانہ کاظمی کے مطابق گورنر شاہ فرمان نے انصاف کرنے کی بجائے میرے ساتھ ہتک آمیز رویہ اختیار کیا اور مجھ پر عہدہ چھوڑنے کے لیے حکومتی عہدیداروں کی جانب سے دبائو ڈالا گیا جس کے تما م شواہد میرے پاس موجود ہیں۔
صوابی یونیورسٹی کی وائس چانسلر نے اپنے خط میں وزیراعظم عمران خان کو آگاہ کیا ہے کہ اس تمام تر زیادتی کے بعد گورنر کی بنائی گئی انکوائری کمیٹی نے مجھے سنے بغیر ہی ملزم قرار دیتے ہوئے 90 روز کی جبری رخصت پر بجھوا دیا جو کہ ایک قابل مذمت فعل ہے اور جس سے پورے ملک کے اساتذہ کی تذلیل ہوئی ہے۔ وائس چانسلر شاہانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کسی یونیورسٹی میں کبھی بھی کسی گورنر کے ایما پر نی تو کسی وائس چانسلر کے خلاف کبھی کوئی انتقامی کاروائی ہوئی ہے اور نہ ہی کسی وی ڈی کو 90 روز کے لیے معطل کیا گیا ہے۔ تاہم خیبرپختونخوا میں ایسا اس لئے ہو رہا ہے کہ یہاں جنگل کا قانون رائج ہے اور کوئی کسی کو پوچھنے والا نہیں۔
وائس چانسلر شاہ کاظمی نے کہا کہ سارا مسئلہ یہ ہے کہ وہ میرٹ پر چلتی ہیں اور کسی معاملے میں ناجائز سفارش اور دباؤ قبول کرنے سے انکاری ہیں جو کہ صوبائی حکومت اور گورنر شاہ فرمان کو قابل قبول نہیں ہے اس لیے وہ ان پر جھوٹے الزامات لگا کر انہیں یونیورسٹی سے نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم کو لکھا کہ انہیں سیاسی دباؤ اور استحصال کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور اس سارے عمل میں اعلیٰ حکومتی عہدے دار ملوث ہیں۔انکا۔کہنا تھا کے کسی بھی یونیورسٹی کو اس طرح ذاتی جاگیر سمجھ کر نہیں چلایا جاسکتا جس طرح کے صوبے کے گورنر چلانا چاہتے ہیں اور اس عمل۔کو روکا نہ گیا تو صوبے میں اعلیٰ تعلیم کا جنازہ نکل جائے گا۔
دوسری جانب گورنر خیبر پختونخواہ شاہ فرمان نے وائس چانسلر کے عائد کردہ تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کی یونیورسٹیوں میں مالی اور انتظامی بحران ہے، میرٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھرتیوں کی گئی ہیں اور اقرباء پروری عروج پر ہے۔ وائس چانسلر نے فیسوں کا تمام بوجھ غریب طلباء پرڈال دیا ہے اور انتظامی عہدوں پر بھی اساتذہ کام کررہے ہیں۔ چنانچہ چانسلر کی حیثیت سے مجھے شکایات ملیں جس پر میں نے فوری طور پر گورنر انسیکشن ٹیم کو تحقیقات کا حکم دیا اور اس کی رپورٹ کی روشنی میں قانونی طریقہ کار کے مطابق کاروائی کی منظوری دی جس میں کسی قسم کی ذیادتی کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔شاہ فرمان نے کہا کہ مجھ پر صوبائی تعصب کے الزامات مضحکہ خیز ہیں کیونکہ صوبے کی تمام یونیورسٹیوں کے بڑوں کے خلاف انکوائریاں چل رہی ہیں، حال ہی میں گومل اور سوات یونیورسٹیوں کے دو وائس چانسلرز کے خلاف بھی کارروائی کی گئی اور ان دونوں کا تعلق خیبرپختونخواہ سے ہے ۔انھوں نے کہا کہ انکوائری کے بعد وائس چانسلر کو گورنر کے سامنے خود اپنے دفاع کا موقع دیا جاتا ہے، علاوہ ازیں عدالت جانے کا آپشن بھی موجود ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ویمن یونیورسٹی صوابی کی وائس چانسلر شاہانہ عروج کاظمی نے بھی پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے، ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں اور عدالت کا ہر فیصلہ قبول کریں گے۔ انکا کہنا تھا کہ گورنر انسپکشن ٹیم نے ویمن یونیورسٹی صوابی کی خاتون وائس چانسلر کے خلاف شکایات پر انکوائری کر کے ان پر بے ضابطگیوں اور بد انتظامی کے سنگین الزامات لگائے تھے جس پر میں نے انھیں 90 روز کی جبری رخصت پر بھیج دیا تھا۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان خاتون وائس چانسلر کی جانب سے لکھے گئے خط کے جواب میں کیا کرتے ہیں۔

Back to top button