خالد بن ولید کو ہٹانے کی مثال کس کو سنائی جا رہی ہے؟

اسلام آباد میں نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے بعد فوجی اور حکومتی قیادت کے مابین اختلافات کی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے معروف تجزیہ کار عاصمہ شیرازی نے کہا ہے کہ اسلام آباد کے ڈرائینگ رومز میں تبدیلی کی افواہوں نے حقیقت کا رُوپ دھار لیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کپتان کو جنہوں نے امیرالمومنین بنایا ہے انھی کو خالد بن ولید کے بطور سپہ سالار ہٹائے جانے کی مثالیں بھی سنائی جا رہی ہیں۔ لیکن فوج کا ادارہ کسی طور اپنے اندر کے ڈسپلن کو نہ تو ریزہ ریزہ ہونے دے گا اور نہ ہی اپنے اندرونی معاملات اُن ہاتھوں میں دے گا جن کو خود تراشا گیا ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ اب ہو گا کیا؟ کیا سابق وزرائے اعظم کی طرح عمران خان کو بھی ’ٹف‘ ٹائم دیا جائے گا اور کیا کوئی نیا میمو گیٹ یا ڈان لیکس جیسا معاملہ تو کھڑا نہیں ہو جائے گا؟
بی بی سی کے لیے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ زمانہ چال چل گیا اور چال بھی اُن کے ساتھ جو ہر چال کو ڈھال فراہم کرتے ہیں۔ چال بھی ایسی غضب کی کہ نہ اُگلی جائے نہ ہی نِگلی۔ دوسروں کے خلاف چالیں چلنے والے اس مرتبہ خود ہی چال کا شکار ہو گے۔ وہ کہتی ہیں کہ خواہشات مفادات کو جنم دیتی ہیں اور مفادات سمجھوتوں کو۔ جب تک مقاصد مشترکہ تھے، صفحہ اپنی جگہ رہا، تحریر بھی ایک سی رہی۔ ایسے میں گذشتہ تین برسوں میں کیا کچھ نہیں ہوا، صحافت ہو یا سیاست، معیشت ہو یا معاشرت، اقدار ہوں یا انداز، کسی شعبے کو، کسی پیشے کو درگزر نہیں کیا گیا۔ایک ایک کر کے تحریر اور تقریر پر قدغنیں لگیں۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب قومی اسمبلی میں حزبِ اختلاف کی اگلی دو قطاروں پر براجمان قیادت کو جیل میں بند کر دیا گیا۔
عاصمہ کہتی ہیں کہ یہ سب کچھ احتساب کے نعرے کی آڑ میں اور انصافی ایجنڈا کے تحت ہوا۔ دوسرا رُخ دکھانے والے میڈیا کو ’لفافے‘، بدعنوان اور نہ جانے کن کن القابات سے نوازا گیا۔ سوشل میڈیا میں تنقیدی اور مخالف آوازوں کو ڈس کریڈٹ کرنے کی مہم شروع کی گئی جو آج بھی جاری ہے۔ گذشتہ ہفتے کپتان حکومت کا احتساب کا بیانیہ ایک صدارتی آرڈیننس کی صورت دفن ہوا تو تدفین کے ساتھ ہی ایک صفحے کی عمارت تیار کرنے والے ادارے کے خلاف مہم کا خاموشی سے آغاز کر دیا گیا۔ لیکن دوسری طرف کا تحمل بھی قابل داد ہے، یہی کوشش کسی ’اور‘ سیاسی جماعت نے کی ہوتی تو اُسے ’میمو‘ اور ’ڈان لیکس‘ سے بھی سخت صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا۔آرمی چیف کی توسیع کے نوٹیفیکشن کا معاملہ تھوڑی سی جَگ ہنسائی کے بعد طے ہو گیا تھا مگر ڈی جی آئی ایس آئی کا نوٹیفیکشن ادارے کے لیے ہی ’شرمندگی‘ کا باعث بنانے کی کوشش قرار دی گئی ہے۔
عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ حالیہ تقرری اور تبادلے کی فضا گذشتہ کئی ماہ سے بنی ہوئی تھی، یہ طے تھا کہ تبادلہ ہو گا مگر پھر ایسا کیا ہوا کہ فیصلے کے فوری بعد تنازع کھڑا ہو گیا۔ اسلام آباد کے ڈرائینگ رومز میں ’تبدیلی‘ کی افواہوں نے حقیقت کا رُوپ دھار لیا۔
ان کا حکم ہے کہ یہ معاملہ حل ہونا ہی ہے، کیونکہ فوج کا ادارہ کسی طور اپنے اندر کے ڈسپلن کو نہ تو ریزہ ریزہ ہونے دے گا اور نہ ہی اپنے اندرونی معاملات اُن ہاتھوں میں دے گا جن کو خود تراشا گیا ہے۔ لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ اب ہو گا کیا؟ کیا سابق وزرائے اعظم کی طرح عمران کو بھی ’ٹف‘ ٹائم دیا جائے گا؟ کیا کوئی اور میمو یا ڈان لیکس آئے گا؟ وہ یاد دلاتی ہیں کہ موجودہ سیٹ اپ کھلاڑیوں کا ہے لیکن کیا ہوا کہ کھلاڑی پرفارم نہیں کر پائے، ھالانکہ وہ صادق اور امین بھی ہیں اور ’کرپٹ عناصر‘ کے خلاف بھی؟ انکا۔کہنا ہے کہ ایک صفحے کی آڑ میں جس طرح ملکی مفادات کو ذاتی حساب کتاب میں چُکتا کیا گیا ہے اس کی بھی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ بقول شخصے، کھلاڑی ہر چیز سے جائے مگر کھیل سے نہ جائے۔ عمران خان کی ایک حالیہ تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے عاصمہ کہتی ہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ کپتان کو جنہوں نے امیرالمومنین بنایا ہے انھی کو خالد بن ولید کے بطور سپہ سالار ہٹائے جانے کی مثالیں بھی سنائی جا رہی ہیں۔ بااثر حلقے اپنی ٹیم کو ریاست مدینہ کے تناظر میں مذہبی کارڈ کے لیے بھی تیار کر رہے ہیں۔ خبر رکھنے والے ہوشیار کہ آنے والے وقت میں اس کا بھرپور مظاہرہ بھی دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
عاصمہ کہتی ہیں کہ کھلاڑی جانتا ہے کہ آخری میچ کی آخری گیند تک لڑنا ہے۔ اس کے لیے کسی حد تک جایا جا سکتا ہے۔ ملک میں تقریباً ہر چیز ہاری جا چُکی ہے اب کی بار مقابلہ ’طاقتورالیون‘ کا ’بااثر الیون‘ کے ساتھ ہے۔ ایسے میں کس کے کس پر کس عمل سے اثرات ہوں گے، یہ دیکھنے کا مرحلہ بہر حال دلچسپ ہو گا۔
