عامر اور فواد میں سے کس کے تھپڑ کی گونج زیادہ ہوگی


پاکستانی سوشل میڈیا پر اس وقت تحریک انصاف کے رکن اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی جانب سے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو تھپڑ مارنے کی دھمکی زیر بحث ہے اور پی ٹی آئی کے سپورٹرز عامر لیاقت پر تنقید کر رہے ہیں حالانکہ ان کا تعلق بھی حکومتی جماعت سے ہے جنہوں نے حال ہی میں قومی اسمبلی سے استعفی دے دیا تھا۔ ابھی تک وزیراعظم عمران خان نے ان کا استعفیٰ تو قبول نہیں کیا لیکن انہیں منانے کی کوئی حکومتی کوشش بھی نہیں کی گئی جس پر وہ سیخ پا ہیں۔

اسی دوران عامر لیاقت نے فواد چوہدری کو اپنے معاملات سے فاصلہ رکھنے کا مشورہ دیتے ہوئے ’تھپڑ‘ کی وارننگ دی تو وہ خود پارٹی ورکرز کی تنقید کا نشانہ بن گئے۔ عامر لیاقت حسین نے ایک ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ’فواد چوہدری صاحب میرے معاملات سے فاصلہ رکھیں مناسب رہے گا، ورنہ میرا تھپڑ آپ کے تھپڑ کے آگے ٹِک نہیں سکے گا، بہتر ہے خاموش رہیں‘۔ عامر لیاقت حسین نے اپنی اس تنبیہہ بھری ٹویٹ میں فواد چوہدری کو مینشن کیا تو ساتھ ہی پارٹی سربراہ اور وزیراعظم عمران خان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی مینشن کیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلات فواد چوہدری کی جانب سے عامر لیاقت کی ٹویٹ پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ یاد رہے کہ فواد چوہدری ماضی میں دو اسٹیبلشمنٹ نواز صحافیوں سمیع ابراہیم اور مبشر لقمان کو بھرے مجمع میں تھپڑ رسید کر چکے ہیں جس کا حوالہ عامر لیاقت نے اپنی ٹویٹ میں دیتے ہوئے یہ دھمکی دی ہے کہ ان کا تھپڑ ان تھپڑوں سے بھی ذیادہ زوردار ہوگا۔

اپنی ازدواجی زندگی اور مختلف تنازعات کی وجہ سے خبروں میں رہنے والے عامر لیاقت حسین کی ٹویٹ پر تبصرہ کرنے والے پی ٹی آئی کے حامی صارفین نے ان کے اعلان پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ جواب دینے والوں میں سے کچھ یہ تک کہہ گئے کہ اگر پی ٹی آئی نے گزشتہ انتخابات میں ٹکٹ نہ دیا ہوتا تو عامر لیاقت حسین پانچ ہزار ووٹ بھی نہیں لے سکتے تھے۔ خرم شیخ نامی صارف نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ آپ کو کیا مسئلہ ہو گیا اور فواد صاحب نے کیا کہہ دیا لیکن آپ خود سمجھدار آدمی ہیں۔ کیا اس طرح پوری دنیا کے سامنے انہیں ایسے الفاظ بولنا مناسب ہے؟‘

اپنی حالیہ ٹویٹ سے ایک ہفتہ قبل عامر لیاقت حسین نے ٹوئٹر پر ہی اسمبلی رکنیت سے استعفی دینے کا اعلان کیا تھا۔ ریپلائز کا آپشن بند کر کے کی گئی ٹویٹ میں انہوں نے یہ نہیں بتایا تھا کہ انہوں نے پارلیمانی روایت کے تحت اسمبلی کا استعفی سپیکر قومی اسمبلی کو بھیجوایا ہے یا نہیں البتہ پارٹی اور وزیراعظم عمران خان کے مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا تھا

اپنی ٹویٹ کے بعد ’استعفی کہ وجہ بتاتے ہوئے عامر لیاقت حسین نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر استعفی دینے کی وجہ بتا دی تو سب ہل کر رہ جائیں گے، قیامت آ جائے گی۔ میرا گھر تباہ ہو گیا مگر حکومت نے میرا ساتھ نہیں دیا۔ میں نے اپنے کروڑوں روپے کا گھر نیشنل بینک کے پاس گروی رکھا مگر مجھے قرض کے پیسے نہیں دیے گئے۔ اسمبلی رکنیت سے متعلق اعلان کے حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ استعفی کی وجہ ایسی ہے کہ بتا دی مجھ پر غداری کا کیس بن جائے گا۔

یاد رہے کہ عامر لیاقت نے پچھلے برس اپنی پہلی اہلیہ اور بچوں کوچھوڑ کر طوبی نامی ایک خاتون سے شادی کرلی تھی لیکن بعد ازاں ان سے بھی جھگڑے کے بعد علیحدگی ہو گئی۔

Back to top button