خشک میوہ جات عام آدمی کی رسائی سے دور کیوں ہوگئے؟

ٹھٹرتی سردیوں کے دوران خشک میوہ جات ہر گھر، بڑوں اور چھوٹوں کی ضرورت بن جاتے ہیں، سرد راتوں کے دوران بچے، خواتین ایک کمرے میں بیٹھ کر گپ شپ کے دوران ڈرائی فروٹس کے مزے اڑاتے ہیں لیکن ہوشربا مہنگائی کی وجہ سے ڈرائی فروٹس کی خریداری خواب بن گئی ہے۔خشک میوہ جات کے کاروبار سے منسلک قاسم حسین عباسی نے وی نیوز کو بتایا کہ مہنگائی کی وجہ سے کچھ لوگوں نے ڈرائی فروٹس یعنی خشک میوہ جات ہی کھانا چھوڑ دیئے ہیں اور جو کبھی 1 کلو کی خریداری کرتا تھا وہ اب 1 پاؤ ہی لینے پر مجبور ہے، اب چلغوزہ 12 ہزار روپے فی کلو ملتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں جو چلغوزہ پیدا ہورہا ہے وہ اب درآمد کر دیا جاتا ہے۔قاسم حسین عباسی کے مطابق سب سے اچھا چلغوزہ افغانستان سے آتا ہے اور وہ اس وقت پاکستان نہیں آ سکا، اب ہمارے پاس مارکیٹ میں بنوں یا وزیرستان کا چلغوزہ دستیاب ہے جو چیز پچھلے سال 2 ہزار روپے کی تھی، وہ آج 3500 روپے تک پہنچ چکی ہے۔قاسم کہتے ہیں کہ ویسے تو ہمارے پاس بہت سے خشک میوہ جات بیرون ممالک سے آتے ہیں لیکن پستہ، بادام، کاجو اور اخروٹ کی مانگ سردیوں میں بہت زیادہ ہوتی ہے۔ سردیوں میں خشک میوہ جات کی مانگ میں اضافے کے باعث چلغوزہ کی قیمتیں 10 ہزار روپے فی کلو سے بڑھ کر 12 ہزار روپے فی کلو تک جانے کا امکان ہے۔خشک میوہ جات کے تاجر قاسم حسین مزید کہتے ہیں اس وقت بازار میں بادام 2 ہزار روپے سے 4 ہزار روپے تک کا فروخت ہوتا ہے جبکہ پستہ 3 ہزار روپے سے 4400 روپے فی کلو تک کا فروخت ہو رہا ہے۔قاسم حسین عباسی نے بتایا کہ ڈالر اور پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا خشک میوہ جات کی قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑا، خشک میوہ جات مہنگے ہی ہیں، کسٹم ڈیوٹی کے باعث خشک میوہ جات کی قیمتوں پر سب سے زیادہ اثر پڑتا ہے، 4 سو روپے میں آنے والی چیز پر 5 سو روپے کی اگر کسٹم ڈیوٹی لگ جائے، تو ظاہر ہے پھر اس کی فروخت 900 روپے میں ہوگی۔قاسم کے مطابق ان کے پاس پاکستانی، امریکی اور ایرانی بادام آتا ہے، کاجو بھارت سے اور چلغوزہ پاکستان اور افغانستان سے آتا ہے، اس وقت مارکیٹ میں چلغوزہ خیبر پختونخوا کے علاقے بنوں اور وزیرستان سے آ چکا ہے۔

Back to top button