خفیہ معاہدے کرنے والے کیا احتساب سے بچ جائیں گے؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار سید طلعت حسین نے کہا ہے کہ عوام سے ریاستی امور کے تقدس کے نام پر فیصلہ سازی کے عمل کو کمبلوں میں لپیٹ کر رکھنے والے حکمران اصل میں اپنی نااہلی اور نکمے پن پر احتساب سے بچنے کے لیے حیلے بہانے کر رہے ہیں۔ مہذب معاشروں میں حکومتیں خفیہ پالیسی سازی کے راز افشا ہونے پر عوام سے معافی مانگتی ہیں اور شرمندہ ہوتی ہیں، ورنہ اقتدار سے بیدخل کر دی جاتی ہیں، لیکن پاکستان میں تو الٹی ہی گنگا بہت رہی ہے۔ یہاں خفیہ معاہدے بھی ہو جاتے ہیں اور ان پر عملدرآمد بھی ہو جاتا ہے لیکن عوام کو ان کے بارے میں لاعلم رکھا جاتا ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں طلعت حسین کہتے ہیں عوام کے نام پر بڑے بڑے فیصلے چھپن چھپائی کے ذریعے کر کے انکے دفاع میں کہا جاتا ہے کہ پاکستانی قوم اس قابل ہی نہیں کہ ان معاملات کو سمجھ سکے۔ پاکستان کا جتنا بیڑہ غرق ’قابلین‘ کے قبیلے نے کیا ہے اتنا شاید ہمارے ازلی دشمنوں نے بھی نہیں کیا ہو گا۔ ہر شاخ پر ایسا ایسا الو بیٹھا ہے کہ جن کی حرکات کو دیکھ کر اس پرندے کی دانش مندی سے متعلق کہاوتوں سے نفرت ہونے لگتی ہے۔ طلعت بتاتے ہیں کہ ایک ٹیلی وژن پروگرام میں مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف میزبان کو یہ بتا رہے تھے کہ ریاستی امور کے بارے میں ذرائع ابلاغ سنجیدگی سے اتفاق رائے بنانے میں اپنا کردار ادا نہیں کرتا۔ ان کا مذید فرمانا تھا کہ بہت سے حکومتی معاملات اور معاہدوں کو اس کیے خفیہ رکھنا پڑتا ہے کہ میڈیا بات کا بتنگڑ بنا دیتا ہے۔ یہ تجزیہ اس حد تک تو درست ہے کہ نئے دور میں ہر موضوع زیر بحث لایا جا سکتا ہے لیکن اس کی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مباحثہ بامقصد اور بانتیجہ ہو گا۔ سیاست اور ادارتی تعصب مزید الجھنیں پیدا کرتا ہے۔ ذاتی مفادات کو بھی تجزیوں سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن یہ کہنا کہ ملک میں خلفشار اور بنیادی معاملات پر بےیقینی، میڈیا پر ہونے والی بحث کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، درست نہیں۔ اصل وجوحات کچھ اور ہیں۔ جن میں جانے سے پہلے یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ ریاست کے امور آسمان پر چمکتے چودھویں کے چاند کی ماند نہیں ہیں جس کی طرف عام لوگ ہاتھ بڑھائیں تو اس کی ہتک ہو جاتی ہے۔ نہ ہی یہ امور قانون، آئین اور عوام کی فلاح سے علیحدہ کوئی ایسی مخلوق ہے جو چٹانوں پر بسیرا کرتی ہے اور قدیم زمانے کے خداؤں کی طرح قربانی طلب کرنے کے لیے اپنے وفاداروں کو جھلک دیکھائے بغیر دو چار سال میں ایک آدھ مرتبہ زمین پر قدم رکھ کر واپس لوٹ جاتی ہے۔
طلعت حسین کا کہنا ہے کہ اصل معاملہ قومی امور کے بارے میں اتفاق رائے نہ ہونے کا ہے۔ یہ کہنا کہ مخالفین اور تنقیدی ذرائع ابلاغ اگر تدبر سے کام لیں تو قوم اپنے ارد گرد پھیلے ہوئے خطرات سے جم کر لڑ سکتی ہے، حقائق سے رو گردانی کی ایک اعلی مثال ہے۔ تازہ ترین واقعات یہ ثابت کرتے ہیں کہ اصل انتشار کی وجہ منتشر الذہن فیصلہ ساز قوتیں ہیں جو دائیں ہاتھ سے ایک کام کر کے بائیں ہاتھ سے اس کے نشانات مٹانے میں مصروف رہتی ہیں۔ مودی کو فاشزم کا مجسمہ قرار دینے والے لوگ اب یو ٹرن لے کر بھارت کے سرکردہ جاسوس کلبھوشن کو بین الاقوامی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے انصاف دینے کے لیے قانونی بندوبست کر رہے ہیں۔ کشمیر کو نئے نقشے بنا کر کاغذوں کی حد تک اپنے ساتھ ملاتے ہوئے ذہنی سکون حاصل کرنا اب ہماری پالیسی کی معراج ہے۔ کبھی طالبان کے سفیر کو امریکہ کے حوالے کر دیا جاتا تھا اور اب ان کی حکومت کو منوانے کے لیے ہمارے فیصلہ ساز بین الاقوامی کوششوں کی سربراہی کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں، چاہے اس عمل سے پاکستان بین الاقوامی طور پر تنہا ہی کیوں نہ ہو جائے۔ ریاست کے خلاف اسلحہ اٹھانے والے شدت پسند گروپوں کو نیست و نابود کروانے کے لیے قوم سے مکمل تعاون مانگنے والے اب انہی عناصر کیساتھ مفاہمت اور بات چیت کے راستے پر گامزن ہیں لیکن اس حوالے سے ابھی تک پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ جو لوگ فورتھ شیڈول کے تحت دہشت گرد تھے اب وہ انتخابی قوت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ جن کی تقریر سنوانا اور دکھانا دس سال کی سزا کا باعث بن سکتا تھا اب کپتان سرکار کے ہاتھوں انکیندستار بندی ہو رہی ہے۔
اگر عمران وزیراعظم بن سکتے ہیں تو میں کیوں نہیں؟
بقول طلعت حسین یہ سب کچھ اور اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ ذرائع ابلاغ کی رپورٹنگ کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ یہ فیصلہ کرنے والوں کے کارنامے ہیں۔ یہ ان کی قابلیت کے ثبوت ہیں جو پہلے اپنی تعمیرات کو زمین بوس کر کے انہیں کھنڈر بناتے ہیں اور پھر کھنڈرات کی مٹی سے نئے مسائل کے شہر آباد کرتے ہیں جن کا انجام بھی ان سے پہلے بنے ڈھانچوں جیسا ہی ہوتا ہے۔ کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے کہ جیسے اس ملک کی قسمت کے فیصلے کرنے والوں کے پاس یہ سب کچھ کرنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں۔ یہ بھی اتنا برا نہ ہوتا اگر اس عمل میں مستقل مزاجی برقرار رکھی جاتی۔ کم از کم قوم کو یہ تو علم ہوتا کہ وہ لڑھکتے ہوئے کس گڑھے میں گرے گی۔ یہاں پر بھی منتشر خیال حاوی نظر آتے ہیں۔
طلعت یاد دلواتے ہیں کہ اس حکومت نے تحریک لبیک سے خود معاہدہ کیا، اس کو اپنی دہشت گردوں کی فہرست سے ہٹا کر معتبر بنایا، مقدمات واپس لیے، قیادت کو رہا کیا اور انکا تمام تنظیمی ڈھانچہ دوبارہ سے فعال کیا۔ پھر اس پالیسی کو پاکستان کی بہترین خدمت قرار دیتے ہوئے ذرائع ابلاغ کو تعاون پر مجبور کیا۔ سب سے کہلوایا واہ جی واہ۔ پھر وزیر برائے اطلاعات نے اپنی حکومت اور ریاستی اداروں کی پالیسی کی ان الفاظ میں ایسی کی تیسی کی۔ اخبارات میں چھپنے والے بیان کے مطابق وزیر نے یہ کہا: ’ریاست کی رٹ قائم کیے بغیر انتہا پسندی سے چھٹکارا ممکن نہیں۔ جو ریاست قانون کی عمل داری نہ کروا سکے اس کی بقا پر بہت جلد سوالات اٹھتے ہیں۔ تحریک لبیک کے کیس میں ریاست کو پیچھے ہٹنا پڑا۔‘ چوہدری فواد نے اس کے بعد اپنے اس بیان کی ایک اور وضاحت کر کے مزید بھی کنفیوژن پھیلائی۔ اس پر قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف سے جب سوالات ہوئے تو انہوں نے اپنے وزیر کے نکتہ نظر سے اتفاق کرنے سے یکسر انکار کر دیا اور کہا کہ ہم تو بہترین کام کر رہے ہیں۔ لہٰذا جب فیصلوں کی باگ دوڑ الجھنوں سے بھرے ہوئے لوگوں کے اختیار میں ہو تو ملک کی سمت کیا سیدھی ہو گی؟ قوم کیا امید باندھے گی؟ انتشار کیسے کم ہو گا؟ ہر شاخ پہ آلو بیٹھا ہے، انجام گلستان کیا ہو گا؟
