حکومت ثاقب نثار کی آڈیو کے فرانزک سے کیوں بھاگ رہی ہے؟

وفاقی حکومت نے حسب توقع سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی آڈیو گفتگو(Audio call Leaked) کا فرانزک ٹیسٹ کروائے بغیر ہی اسے جعلی قرار دے دیا ہے، کیونکہ اس میں موصوف واضح انداز میں بتا رہے ہیں کہ ادارے نواز شریف کو سزا دلوا کر عمران خان کو اقتدار میں لانا چاہتے ہیں، تاہم غیر ملکی ویب سائٹ فیکٹ فوکس پر یہ آڈیو بریک کرنے والے معروف صحافی احمد نورانی نے کہا ہے کہ اس میں سنائی دینے والی آواز ثاقب نثار کی ہی ہے اور ان کے پاس اپنا دعویٰ سچ ثابت کرنے کے لیے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ فیکٹ فوکس انتظامیہ نے بھی اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ معروف امریکی فرانزک ادارہ ’گریٹ ڈِسکوری’ اس آڈیو کا فرانزک تجزیہ کر چکا ہے اور اس کی تجزیاتی رپورٹ اس آڈیو کلپ کی نہ صرف تصدیق کرتی ہے بلکہ یہ بھی بتاتی ہے کہ اس میں کسی قسم کی ایڈیٹنگ نہیں کی گئی۔ تاہم دوسری جانب کپتان حکومت اس آڈیو کافرانزک کروانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی کیونکہ وہ سچ جانتی ہے۔
یاد رہے کہ ثاقب نثار کے آڈیو کلپ میں انہیں یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’مجھے اس معاملے کے بارے میں تھوڑا دوٹوک ہونے دو، بدقسمتی سے یہاں ادارے ہیں جو حکم دیتے ہیں، اس کیس میں ہمیں میاں صاحب کو سزا دینی پڑے گی، مجھے کہا گیا ہے کہ ہمیں عمران صاحب کو اقتدار میں لانا ہے‘۔ وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور دیگر وزراء کی جانب سے جسٹس ثاقب نثار کی آڈیو(Audio call Leaked) گفتگو کو جعلی قرار دیئے جانے کے بعد سینئر صحافی احمد نورانی نے کہا ہے کہ مجھے ان الزامات پر ہنسی آ رہی ہے کہ اس آڈیو کو کاٹ چھانٹ کر بنایا گیا ہے کیونکہ میں نے جس امریکی فرانزک لیب سے اسے کنفرم کرایا اس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس میں کسی قسم کی ایڈیٹنگ نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ایک تجربہ کار صحافی صرف ایسی خبر سامنے لاتا ہے جس کا ناقابل تردید ثبوت اسکے پاس ہو۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ ثاقب نثار آڈیو ٹیپ میں کس سے بات کر رہے ہیں، تو احمد نورانی نے کہا کہ اگر میری سٹوری کو غور سے پڑھا جائے تو اس کا جواب مل جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ مجھے دو ماہ قبل یہ آڈیو ریکارڈنگ ملی۔ لیکن سوال یہ تھا کہ کیا یہ آواز ثاقب نثار کی ہے اور کیا یہ آڈیو ٹیمپرڈ تو نہیں کیونکہ اس میں بہت ہی اہم اداروں اور شخصیات کا ذکر تھا۔ مجھ پر یہ بھی واضح تھا کہ اس حوالے سے کوئی غلط خبر چل گئی تو ہمارے خلاف قانونی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔
نیا دور ٹی وی کے پروگرام ”خبر سے آگے” میں آڈیو(Audio call Leaked) سکینڈل پر بات کرتے ہوئے احمد نورانی کا کہنا تھا کہ مجھے ہر چیز کی احتیاط کرنا تھی۔ لہذا سب سے پہلے میں نے میاں ثاقب نثار کی آواز کی جانچ کروائی کہ آیا یہ اوریجنل ہے یا نہیں۔ اس کیلئے ہمیں ایک دوسرا وائس سامپل چاہیے تھا، وہ بجائے میں نے کسی سے لینے کے ریڈیو پاکستان کی آفیشل ویب سائٹ سے حاصل کیا۔ وہاں سے ہمیں آواز کے بہت سے سامپلز ملے۔ جب ثاقب نثار کی ان آوازوں کو اس آڈیوسے میچ کیا گیا تو اس کا سو فیصد پازیٹیو رزلٹ آیا۔ احمد نورانی کا کہنا تھا کہ لہذا مجھے اس الزام پر ہنسی آ رہی ہے کہ آڈیو کو کاٹ چھانٹ کرکے بنایا گیا کیونکہ میں نے جس فرانزک لیب سے اسے چیک کرایا اس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس میں کوئی ایڈیٹنگ نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اس آڈیو کو جعلی ثابت کرنا چاہتی ہے تو اس کا کسی بین الاقوامی فرانزک لیب سے تجزیہ کروا لے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔
احمد نورانی نے کہا میری یہ ذمہ داری تھی کہ میں اس خبر کو چلانے سے پہلے ثاقب نثار کا بھی موقف لوں۔ میں نے انھیں ٹیلی فون کیا اور تمام باتیں ان کے گوش گزار کیں لیکن انہوں نے پورے وثوق کیساتھ کہا کہ نواز شریف کے کیس کے دوران ان سے کبھی کسی فوج کے بندے نے رابطہ نہیں کیا تھا۔ انکا یہ بھی دعویٰ تھا کہ عدلیہ پر نواز شریف کے کیسوں کے حوالے سے کسی قسم کا دبائو نہیں تھا۔ تاہم فرانزک لیب کی رپورٹ میاں ثاقب نثار کے دعوے کو جھوٹا ثابت کرتی ہے۔
سردی کے امراض سے بچانے والے پھل
دوسری جانب ثاقب نثار کی آڈیو کلپ کی فرانزک جانچ کرنے والی معروف امریکی فرم گیریٹ ڈسکوری نے کہا ہے کہ اس نے فیکٹ فوکس نامی ویب سائٹ کے لیے ’کام کیا‘ ہے لیکن اس بارے انکی اجازت کے بغیر کوئی تفصیل نہیں دے سکتے۔ انکا کہنا تھا کہ فیکٹ فوکس کے ساتھ معاہدے کی رو سے ہمارے پاس رازداری کی ایک شق ہے جو ہمیں کام یا کام کے دائرہ کار کے بارے میں بات کرنے سے روکتی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ’ہمیں تفصیلات جاری کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں لیکن ضروری یے کہ ہمارا کلائنٹ ہمیں باقاعدہ ایسا کرنے کی اجازت دے‘۔
فیکٹ فوکس نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ’گریٹ ڈِسکوری کے پاس ماہرین کی ایک ٹیم ہے اور ان کے پاس ثبوتوں کا تجزیہ کرنے اور انہیں بطور ثبوت امریکی عدالتوں کے سامنے گواہی دینے کا طویل تجربہ ہے‘۔ فیکٹ فوکس کے مطابق فرم کی تجزیاتی رپورٹ آڈیو کلپ کی تصدیق کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ ’اس آڈیو میں کسی بھی قسم کی ترمیم نہیں کی گئی ہے‘۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی ایک سیمینار سے خطاب کی پرانی ویڈیو وائرل ہے جس میں وہ اسی لہجے اور زبان میں گفتگو کر رہے ہیں جو کہ لیک شدہ آڈیو میں سنائی دیتی ہے۔ ثاقب نثار نے سیمینار میں کی جانے والی تقریر میں بھی
Let me be blunt
والا انگریزی کا فقرہ استعمال کیا ہے جو کہ ان کی لیک شدہ ویڈیو میں سنائی دیتا ہے۔ ایک جانب فواد چودھری کا دعویٰ ہے کہ ثاقب نثار کی آڈیو ٹیپ اسی تقریر کو آگے پیچھے کر کے بنائی گئی ہے جبکہ دوسری جانب حکومتی ناقدین کا کہنا ہے کہ سیمینار والی تقریر سن کر کلئیر ہو جاتا ہے کہ ثاقب نثار ایسے فقرے انگریزی میں بار بار استعمال کرتے ہیں لہذا ان سے ان کی آواز کی تصدیق ہو جاتی ہے۔
یاد رہے کہ حسب توقع سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے دعویٰ کیا ہے کہ کہ لیک ہونے والی ویڈیو جعلی ہے اور اس میں سنائی دینے والی آواز ان کی نہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ان کی مختلف آڈیوز کو جوڑ کر یہ آڈیو بنائی گئی ہو۔ دوسری جانب لندن میں مقیم سینئر مسلم لیگی رہنما ناصر بٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار کی آڈیو کے بعد ان کی ایک ویڈیو بھی آنے والی ہے جس سے ثابت ہوجائے گا کہ انہوں نے نواز شریف کو سزا دلوانے کے لیے نہ صرف احتساب عدالت کے جج محمد بشیر پر پریشر ڈالا تھا بلکہ احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک پر بھی دباؤ ڈالا تھا۔
