ہر ماہ پٹرول کی قیمت بڑھانے کا عوام دشمن معاہدہ کیا ہے؟


حکومت پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین بالآخر قرض کی فراہمی کا معاہدہ ہو جانے کے فورا بعد مشیر خزانہ شوکت ترین کی جانب سے پٹرول کی قیمتوں میں ہر ماہ چار روپے کا اضافہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر 30 روپے اضافے کے اعلان نے عوام کی چیخیں نکال کر رکھ دی ہیں کیونکہ اس کے نتیجے میں ہر ماہ میں مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔ پٹرول کی قیمت میں یہ اضافہ ایک ٹیکس کی صورت میں نافذ کیا جائے گا جس سے لیوی بھی کہتے ہیں۔
بھاڑے پر لیے گئے مشیر خزانہ شوکت ترین نے آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے بعد قوم کو یہ بری خبر سنائی ہے کہ ہر ماہ پٹرولیم لیوی میں چار روپے کا اضافہ کیا جائے گا اور اسے 30 فی لیڑ تک لے جایا جائے گا کیونکہ ہمیں آئی ایم ایف کی جانب سے ٹیکس ریفارمز جاری رکھنے کا کہا گیا ہے۔ اس اعلان کے بعد کپتان حکومت شدید تنقید کی زد میں ہے اور عوام کی جانب سے یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا اقتدار میں آ کر غربت ختم کرنے کے اعلان کرنے والا عمران خان کیا غریبوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔
وزیر خزانہ کے اعلان کے بعد یہ سوال ذہنوں میں آتا ہے کہ پٹرولیم لیوی کیا ہے اور کیا اس میں اضافے سے ہر ماہ پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ہو گا؟ اس حوالے سے معاشی امور کے ماہر خلیق کیانی نے اردو نیوز کو بتایا کہ پٹرول پر ہر ماہ چار روپے لیوی عوام کے لیے واقعی ایک بڑی خبر ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں ہر ماہ مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ چار روپے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر ماہ پٹرول کی قیمت میں چار روپے کا ہی اضافہ ہو گا بلکہ اس سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے اور اس کا دارومدار عالمی منڈی میں تیل کی قیمت اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر پر ہو گا۔
اس معاملے پر اکنامک رپورٹر خالد مصطفیٰ نے بتایا کہ لیوی ایک ٹیکس ہے جو دیگر ٹیکسز کی طرح پٹرولیم مصنوعات پر لگایا گیا ہے اور اس کا مقصد ریونیو جنریشن ہے۔’ آئی ایم ایف سے مذاکرات میں حکومت نے اسے 30 روپے تک لے بڑھانے کا کہا تھا، جس کی وجہ سے اب ماہانہ چار روپے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت پٹرولیم مصنوعات پر تقریباً 10 روپے لیوی عائد ہے، اگر اس کو چار روپے ماہانہ کے حساب بڑھایا جائے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ پٹرول کی قیمت میں ہر ماہ اضافہ ہو گا تاہم حکومت سیلز ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی کم کر کے اس کو کم رکھ سکتی ہے لیکن اس کا نقصان یہ ہو گا کہ ریونیو کم ہو جائے گا۔ اس لیے زیادہ امکان یہی ہے کہ پٹرول کی قیمت میں اضافہ اب ایک لمبے عرصے تک جاری رہے گا جس کے اثرات عام آدمی کی زندگی پر پڑیں گے۔ جب پوچھا گیا کہ اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو کیا ماہانہ لیوی کے باوجود عام صارف کو کوئی فائدہ ہو گا، تو خالد۔مصطفی نے اس امکان کو رد کرتے ہوئے کہا کہ تیل کی خرید و فروخت چونکہ ڈالر میں ہوتی ہے اور اس کے مقابلے میں روپے کی قدر کافی کم ہے اس لیے ایسا ہونا کافی مشکل دکھائی دیتا ہے۔
قبل ازیں مشیر خزانہ شوکت ترین نے پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ پاکستان کا آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت پاکستان کو ایک ارب ڈالر ملیں گے۔ان کے مطابق ’آئی ایم ایف کی جانب سے مذاکرات میں کہا گیا کہ اصلاحات پر عمل کریں جس سے کم آمدنی والے افراد کی مشکلات میں کسی حد تک اضافہ ہو گا تاہم ان کو ٹارگٹڈ سبسڈی دی جائے۔‘ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ لوگ معاہدے کے حوالے سے ان سے پوچھتے تھے لیکن وہ بتاتے نہیں تھے تاہم انڈیکیشن ضرور دیتے تھے۔ بقول ان کے ’میں انہیں بتاتا تھا کہ ترجیحی اقدامات ہوں گے، جس میں سپلیمنٹری فنانس کی صورت میں جی ایس ٹی ریفارمز ہوں گی۔‘ سٹیٹ بینک کے ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس کی مںظوری پارلیمنٹ سے لینا ہو گی۔

Back to top button