ن لیگی رہنما خواجہ آصف کوضمانت پر رہا کر دیا گیا

مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں عدالت سے ضمانت ملنے کے بعد رہا کر دیا گیا۔
لاہور ہائی کورٹ نے گزشتہ روز منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں خواجہ آصف کی ضمانت منظور کی تھی۔جیل حکام خواجہ آصف کی رہائی کے احکامات لے کر اسپتال پہنچے اور اسپتال عملے کو رہائی کی روبکار دیکر روانہ ہو گئے۔ سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل کاشف رسول کا کہنا ہے کہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد کر دیا گیا ہے۔
خواجہ آصف جناح اسپتال میں زیر علاج ہیں اور ان کے وکیل نجم الحسن کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں نے خواجہ آصف کو دو دن تک آرام کا مشورہ دیا ہے، خواجہ آصف کا مثانے کا آپریشن ہوا ہے۔
لاہور کی احتساب عدالت نے مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما و سابق وفاقی وزیر خواجہ آصف کی رہائی کے لیے روبکار جاری کی۔
احتساب عدالت نے مچلکوں کی جانچ پڑتال کے بعد روبکار جاری کی جس کے بعد عدالتی عملہ روبکار لے کر کوٹ لکھپت جیل روانہ ہوا۔ روبکار میں کہا گیا ہے کہ خواجہ آصف اگر کسی اور کیس میں مطلوب نہیں تو انہیں جیل سے رہا کر دیا جائے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ نے آمدن سے زائد اثاثوں اور منی لانڈرنگ کیس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کی درخواست ضمانت منظور کرلی اور ضمانتی مچلکے جمع کروانے پر انہیں جیل سے رہا کرنے کا حکم دے دیا تھا۔جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں جسٹس شہباز رضوی پر مشتمل لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے خواجہ آصف کی ضمانت کا متفقہ مختصر تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں خواجہ آصف کو ایک کروڑ روپے کا ضمانتی مچلکہ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی تھی۔
مختصر تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ خواجہ آصف ٹرائل کورٹ میں ضمانتی مچلکہ جمع کرائیں جبکہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کو قومی احتساب بیورو نے 29 دسمبر 2020 کی رات گرفتار کیا تھا اور اگلے ہی روز راولپنڈی کی احتساب عدالت میں پیش کر کے ان کا ایک روزہ راہداری ریمانڈ حاصل کرنے کے بعد انہیں نیب لاہور منتقل کردیا تھانیب کی جانب سے جاری کردہ خواجہ آصف کی تفصیلی چارج شیٹ کے مطابق وہ نیب آرڈیننس 1999 کی شق 4 اور اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کی دفعہ 3 کے تحت رہنما مسلم لیگ (ن) کے خلاف تفتیش کر رہے تھے۔
اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ عوامی عہدہ رکھنے سے قبل 1991 میں خواجہ آصف کے مجموعی اثاثہ جات 51 لاکھ روپے پر مشتمل تھے تاہم 2018 تک مختلف عہدوں پر رہنے کے بعد ان کے اثاثہ جات 22 کروڑ 10 لاکھ روپے تک پہنچ گئے جو ان کی ظاہری آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف نے یو اے ای کی ایک فرم بنام M/S IMECO میں ملازمت سے 13 کروڑ روپے حاصل کرنے کا دعوی کیا تاہم دوران تفتیش وہ بطور تنخواہ اس رقم کے حصول کا کوئی بھی ٹھوس ثبوت پیش نہ کر سکے، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم نے جعلی ذرائع آمدن سے اپنی حاصل شدہ رقم کو ثابت کرنا چاہا۔احتساب کے ادارے کے مطابق ملزم خواجہ آصف اپنے ملازم طارق میر کے نام پر ایک بے نامی کمپنی بنام ’طارق میر اینڈ کمپنی‘ بھی چلا رہے ہیں جس کے بینک اکاؤنٹ میں 40 کروڑ کی خطیر رقم جمع کروائی گئی، اگرچہ اس رقم کے کوئی خاطر خواہ ذرائع بھی ثابت نہیں کیے گئے۔
نیب نے کہا کہ نیب انکوائری کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ کیا خواجہ آصف کی ظاہر کردہ بیرونی آمدن آیا درست ہے یا نہیں اور انکوائری میں ظاہر ہوا کہ مبینہ بیرون ملک ملازمت کے دورانیہ میں ملزم خواجہ آصف پاکستان میں ہی تھے جبکہ بیرون ملک ملازمت کے کاغذات محض جعلی ذرائع آمدن بتانے کے لیے ہی ظاہر کیے گئے۔

Back to top button