خٹک کو اپنا سیاسی مستقبل تاریک کیوں نظر آنے لگا؟

آرمی چیف کی جانب سے مبینہ طور پر کرپٹ قرار دئیے جانے والے سابق وزیراعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک کو اپنے سیاسی مستقبل کی فکر ستانے لگی ہے۔عمران خان کی تحریک انصاف کو خیر باد کہہ کر اپنی الگ پارٹی بنانے والے پرویز خٹک نجی محفلوں میں خود کو خیبر پختونخوا کا اگلا وزیر اعلی قرار دیتے ہیں تاہم آرمی چیف سے منسوب بیان سامنے آنے کے بعد ان کی امیدوں پر پانی پھرتا نظر آتا ہے
روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق تین روز پہلے معروف اینکر ندیم ملک نے اپنے پروگرام میں انکشاف کیا تھا کہ بزنس کمیونٹی کے ساتھ میٹنگ میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ملک میں کرپشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تینوں بڑی سیاسی پارٹیوں میں کرپٹ عناصر موجود ہیں۔ جو پاکستان سے زیادہ اپنے ذاتی مفاد کے لئے کام کر رہے ہیں اینکر کے بقول آرمی چیف نے اس موقع پر بعض سیاستدانوں کے نام بھی لئے تھے۔ جن میں پرویز خٹک، اسد قیصر، محمود خان اور عمران اسماعیل شامل تھے اور کہا کہ یہ کل کیا تھے اور آج کہاں کھڑے ہیں۔
پرویز خٹک کے قریبی ذرائع کے مطابق جب سے آرمی چیف سے منسوب یہ بیان منظر عام پر آیا ہے۔ سابق وزیراعلیٰ کی نیند اڑ چکی ہے اور وہ خاصے پریشان ہیں۔ ان ذرائع کے بقول پرویز خٹک اپنے طور پر بھی یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ بزنس کمیونٹی کے ساتھ آرمی چیف کی میٹنگ کے دوران کرپشن کے حوالے سے ان کانام بھی لیا گیا یا نہیں؟
یادر ہے کہ رواں برس جولائی کے وسط میں پرویز خٹک نے تحریک انصاف پارلیمنٹر یز“ کے نام سے الگ پارٹی بنائی تھی اور دعوی کیا تھا کہ ن کی نئی پارٹی کوستاون ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ جن میں سابق وزیراعلی خیرپختونخوا محمودخان اوردیگر شامل ہیں۔ پرویز خٹک کی نئی پارٹی میں شامل رہنماؤں نے نومئی کے واقعات کا ذمہ دار سابق وزیر اعظم عمران خان کو قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ محب وطن سیاستدانوں نے پی ٹی آئی سے راہیں جدا کر لی ہیں خیال رہے کہ پرویز خٹک کی نئی سیاسی پارٹی تحریک انصاف پارلیمنٹیر نیز اپنی عوامی طاقت شو کرنے کیلئے ایک جلسہ بھی کر چکی۔
دوسری جانب پرویز خٹک کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ عمران خان کی پی ٹی آئی سے راہیں جدا کرنے اوراپنی نئی پارٹی بنانے کے بعد سے پرویز خٹک اس قدر پراعتمادکھائی دے رہے تھے کہ انہوں نے خود کو خیبر پختونخوا کا اگلا وزیر اعلیٰ بھی قرار دے دیا تھا۔ نجی محفلوں میں سابق وزیر دفاع برملا یہ کہہ رہے تھے سارے معاملات طے پاگئے ہیں۔ صوبے کا اگلا وزیر اعلیٰ میں ہوں گا۔ قریبی ذرائع کے بقول کل تک خود کو کنگ میکر تصور کرنے والے پرویز خٹک آرمی چیف سے منسوب بیان سامنے آنے کے بعد سے نہ صرف خود پریشان ہیں۔ بلکہ ان کے ساتھ آنے والے بھی فکر مند ہیں۔
خیبر پختونخوا کی سیاست میں سرگرم رہنے والے ایک رہنما سے جب اس صورتحال پر رائے لی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر عام ہے کہ پرویز خٹک نے کسی کی سر پرستی میں نئی پارٹی بنائی۔ نجی محفلوں میں وہ خود بھی یہی عندیہ دیتے رہے۔ لیکن آرمی چیف سے منسوب بیان سے بظاہر اس تاثر کی نفی ہورہی ہے۔ اس سوال کے کئی جواب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ عمران خان سے الگ ہونے کے بعد پرویز خٹک نے بڑے بلند و بانگ دعوے کئے تھے کہ پی ٹی آئی کے بڑے نام ان کے ساتھ آجائیں گے۔ لیکن اب تک ایسا نہیں ہو سکا۔ سوائے محمود خان کے صوبے کا کوئی بڑا سیاستدان ان کے ساتھ نہیں کھڑا ہے۔ قصہ مختصر اپنے دعوں کے برعکس پرویز خٹک مطلوبہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔ لہذا پلان تبدیل ہو گیا ہے۔ اس منظر نامے کا دوسرا ممکنہ جواب یہ ہوسکتا ہے کہ جس پارٹی یعنی تحریک انصاف سے پرویز خٹک نکلے۔ وہ اب انتہائی کمزور ہو چکی ہے۔ اس کی تقریباً ساری لیڈرشپ الگ کروادی گئی۔ ساتھ ہی پرویز خٹک کو صوبے میں ملنے والا پی ٹی آئی کا ووٹ بھی باقی نہیں رہا ہے۔ یوں چھتری کے بغیر وہ زیرو پر آگئے ہیں۔ تحریک انصاف اور پرویز خٹک دونوں کمزور ہوئے۔ ہو سکتا ہے ممکنہ پلان یہی ہو۔ یعنی اصل مقصد سب کی صفائی کرنا ہے۔ ایسا ہوتا ہے یا نہیں، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔ اس کا اندازہ گراؤنڈ پر ہونے والی پیش رفت سے ہوگا۔
تاہم دوسری طرف پرویز خٹک کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ بزنس کمیونی کی میٹنگ میں نام آنے کی خبر نے سابق وزیر دفاع کو خاصا پریشان کر رکھا ہے۔ انہیں فکر ہے کہ اگر ان پر ہاتھ ڈالا جاتا ہےتو وہ کہاں جائیں گے؟ لیکن گراؤنڈ پران کے خلاف فی الحال صورت حال تبدیل نہیں ہوئی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں زمینی حقائق بدل جائیں ۔
خیال رہے کہ سابق وزیر اعلی کے پی کے اور سابق وزیر دفاع پرویز خٹک کے خلاف بی آرٹی سمیت کرپشن کے کافی کیس زیرالتوا ہیں۔2017میں پرویز خٹک جب خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے وزیراعلی تھے تو بس ریپڈ ٹرانزٹ بی آرٹی پشاور کامنصوبہ شروع کیا گیاتھا۔ یہ پروجیکٹ چھ ماہ میں مکمل کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ تا ہم اس میں ڈھائی سال سے زائد کا عرصہ لگا اوراس کے نتیجے میں پروجیکٹ کی لاگت قریباً20 ارب روپے سے تجاوز کر گئی تھی۔ منصوبے میں کرپشن کی بھی آوازیں بلند ہوئیں۔ جس پر یہ معاملہ پہلے ایف آئی اے کے سپرد کر دیا گیا تھا۔ تاہم چیف جسٹس ثاقب نثار کے دور میں سپریم کورٹ نے ان تحقیقات کو رکوا دیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ پرویز خٹک کے خلاف بی آرٹی سمیت بعض دیگر کیسز کی فائلیں نیب میں کب سے تیار پڑی ہیں۔ لیکن اب تک کھولی نہیں گئی ہیں۔ بی آرٹی پروجیکٹ کی کمپنی کے ایک عہدیدار کا الزام ہےکہ سابق وزیراعلی کو چار ارب روپے کمیشن دیا گیا۔ جس میں سے عمران خان کوبھی حصہ پہنچایا گیاتھا۔یہ ڈیل ملائیشیامیں ہوئی تھی۔ ایک بار بی آر ٹی کی فائل کھل گی تو پھر یہ ساری باتیں سامنے آجائیں گی۔
