کے پی کے پولیس کے جوان اب کتے کے نام پر شیرو کہلائیں گے؟

خیبرپختونخوا میں برسراقتدار تحریک انصاف کی حکومت نے مبینہ طور پر عمران خان کی ہدایت پر ایک حکم نامے کے ذریعے صوبے کی پولیس کے جوانوں کو شیرو کہہ کر پکارنے کے احکامات جاری کیے ہیں جس پر سماجی حلقوں کی جانب سے بھرپور تنقید کی جا رہی ہے کیونکہ وزیراعظم عمران خان کے پسندیدہ کتے کا نام بھی شیرو ہے۔
واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان خیبرپختونخوا پولیس کو مثالی قرار دیتے ہیں، شاید اسی لئے کے پی پولیس کے جوانوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے ایک ہدایت نامہ جاری ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آئندہ سے کے پی کے پولیس کے جوانوں کو شیرو سے پکارا جائے۔ حکم نامے کے مطابق جوانوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھنے اور ان کی کارروائیوں کے اعتراف میں خیبرپختونخوا پولیس نے سپاہیوں کو شیرو کے نام سے پکارنے کے احکامات جاری کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کتوں کے بہت شوقین ہیں۔ اپنی بنی گالہ رہائش گاہ میں انہوں نے کئی خونخوار کتے پال رکھے ہیں جن میں سے ایک کتے کا نام شیرو ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے عمران خان کو یہ کتا بطور تحفہ دیا تھا تاہم کئی برس قبل ایک انٹرویو کے دوران جب اینکرپرسن مہر بخاری نے عمران خان سے یہ سوال کیا کہ کیا یہ شیر وہی کتا ہے جو مشرف نے آپ کو دیا تھا تو عمران خان نے یہ بات تسلیم کرنے کی بجائے موقف اختیار کیا کہ شیرو مجھے مشرف کے دوست ہمایوں گوہر نے تحفے میں دیا تھا۔ یاد رہے کہ ہمایوں گوہر مشرف کو ان کی آپ بیتی لکھنے میں کئی سال مدد کرتے رہے جس پر انہوں نے خوش ہو کر ہمایوں گوہر کو دو عدد کتے بطور تحفہ دیے تھے جن میں سے ایک انہوں نے عمران خان کو گفٹ کر دیا۔
جب کپتان نے بشری بی بی سے شادی کی تو میڈیا پر یہ خبریں آئیں کہ بشریٰ بی بی کو گھر میں کتے رکھنا پسند نہیں اس لئے بنی گالہ کی انیکسی میں شیرو کے لیے الگ سے کمرہ تعمیر کرکے اسے وہیں تک محدود کردیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی یہ کہا جاتا تھا کہ کپتان کی دوسری بیوی ریحام خان کو بھی شیرو سے سخت چڑ تھی کیونکہ اسے کپتان کے بیڈروم اور ڈرائنگ روم تک رسائی حاصل تھی اور شیرو بلا روک ٹوک آنے جانے والے مہمانوں کے ساتھ بھی اٹھکیلیاں کرتا تھا۔ یہ خبریں سامنے آنے کے بعد کپتان نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ شیرو سے متعلق تمام چہ میگوئیاں بے بنیاد ہیں کیونکہ شیرو چار سال قبل مر چکا ہے اور اب شیروکا بیٹا موٹو ان کا سب سے پسندیدہ کتا ہے۔
لیکن اس انٹرویو میں کپتان نے وضاحت کی میرے پاس شیرو کے بیٹے موٹو کے علاوہ بھالو اور شیوا سمیت شیرو نام کا ایک اور کتا بھی موجود ہے۔ واضح رہے کہ جب کپتان نے کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد ٹائیگر فورس کے نام سے ایک رضاکار فورس بنانے کا اعلان کیا تو اس وقت بھی ہر جانب سے یہ تنقید کی گئی کہ کپتان نوجوانوں پر مشتمل رضاکار فورس کا نام اپنے کتے پر کیوں رکھ رہے ہیں، تاہم کپتان اپنی ضد پر اڑے رہے اور ٹائیگر فورس کے نام سے ہی رضاکار فورس میدان میں اتاری۔
