شہباز شریف کی گرفتاری، نیب ٹیم کا ماڈل ٹاؤن رہائشگاہ پر چھاپہ

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی گرفتاری کے لیے لاہور میں ان کی ماڈل ٹاؤن کی رہائش گاہ پہنچنے والی نیب کی ٹیم خالی ہاتھ وہاں سے روانہ ہوگئی ہے۔
نیب نے شہباز شریف کو آج (2 جون) آمدن سے زائد اثاثوں اور منی لانڈرنگ کے کیس میں تفتیش کے لیے طلب کیا تھا تاہم وہ پیش نہیں ہوئے جس کے بعد نیب کی ٹیم پولیس کے ہمراہ گرفتاری کیلئے ان کے گھر پہنچ گئی تھی۔نیب کی ٹیم شہباز شریف کے گھر میں ڈیڑھ سے دو گھنٹے تک موجود رہی جس کے بعد وہ شہباز شریف کی گھر میں عدم موجودگی کے باعث روانہ ہوگئی۔
قائد حزب اختلاف کی گرفتاری کے لیے نیب کی ٹیم کے ان رہائش گاہ پہنچنے پر مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں اور کارکنان کی بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر جمع ہوگئی تھی اور احتساب ادارے کے خلاف نعرے بازی کی۔
اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ‘نیب نیازی گٹھ جوڑ سے پوری قوم واقف ہے اور پاکستان میں اس وقت سرکس لگا ہوا ہے۔’انہوں نے کہا کہ ‘شہباز شریف نیب میں پیش ہوتے رہے ہیں جبکہ کل ہائی کورٹ میں ان کی درخواست کی سماعت ہوگی، عمران خان کے حکم پر نیب کی کارروائی ہورہی ہے، ماڈل ٹاؤن میں اس وقت کرفیو نافذ ہے اور (ن) لیگ کے کارکنوں پر لاٹھی چارج کیا جارہا ہے۔’ان کا کہنا تھا کہ ایک روپے کی کرپشن ثابت نہیں ہوئی تو آج کیوں یہ سرکس لگایا گیا؟ یہ چینی چوری سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں اور نیب کی کارروائی سیاسی انتقام ہے، تاہم (ن) لیگ کی قیادت ان ہتھکنڈوں کا مقابلہ کرے گی۔
نیب ٹیم کی آمد سے قبل علاقے کو کورڈن آف کردیا گیا تھا اور کارکنوں کو آگے بڑھنے سے روکنے کیلئے پولیس کی بھاری نفری بھی موجود تھی۔اطلاعات کے مطابق نیب کی ٹیم میں تین خواتین اہلکار بھی موجود تھیں جبکہ ٹیم کی سربراہی نیب کے ڈپٹی ڈائریکٹر چوہدری محمد اصغر کررہے تھے۔اطلاع ملتے ہی مسلم لیگ ن کے کارکنان بڑی تعداد میں ماڈل ٹاؤن میں شہباز شریف کی رہائش گاہ کے باہر جمع ہوگئے اور حکومت کیخلاف نعرے بازی کی۔ اس دوران پولیس اہلکاروں اور لیگی کارکنان کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی اور پولیس اہلکاروں نے لیگی کارکنوں پر ڈنڈے بھی برسائے.
دوسری طرف مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ شہبازشریف کوگرفتارکرنے کا کوئی جوازنہیں، نیب نے 28 مئی کا دستخط شدہ گرفتاری کا وارنٹ دکھایا گیا۔عطاتارڑ نے بتایا کہ شہبازشریف کی گرفتاری کا نہ کوئی اخلاقی جوازہے اورنہ قانونی، ایک کیس میں ایک شخص کی دوبار گرفتاری کیسےممکن ہے؟ عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ آج نیب میں تحریری جواب جمع کرایا، ہم نے نیب کو کہا کہ ہم وڈیو لنک پر موجود ہیں، نیب کو ہر سوال کا تفصیلی جواب جمع کرایا ، ہم ڈٹ کر کھڑے ہیں، آدھی پارٹی حکومت نے بند کی، ہماری آدھی پارٹی تقریباً جیل کاٹ آئی ہے، ہم ڈٹ کر ان کا مقابلہ کریں گے۔عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت سیاسی انتقام لے رہی ہے، نیب اور نیازی کا گٹھ جوڑ سامنے آگیاہے، کل ہائیکورٹ میں 12 بجے شہباز شریف کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوگی، تمام قانونی آپشنز دیکھ رہےہیں۔
قبل ازیں شہباز شریف نے عبوری ضمانت کے لیے درخواست دائر کی تھی تاہم لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قاسم علی خان نے درخواست اب کل کے لیے مقرر کردی ہے اور جسٹس طارق عباسی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ سماعت کرے گا۔
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نے لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اپنایا کہ منی لانڈرنگ کیس میں نیب کی جانب سے گرفتاری کا خدشہ ہے۔لاہور ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو بدترین انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان آٹا اور چینی اسکینڈل کا سہولت کار ہے۔
یاد رہے کہ شہباز شریف 4 مئی کو نیب کےسامنے پیش ہوئے تھے جہاں ان سے ایک گھنٹہ 45 منٹ تک آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیس سے متعلق سوالات کیے گئے تھے۔نیب نے شہباز شریف کے جوابات کو غیر اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے انہیں 2 جون کو دوبارہ طلب کرلیا تھا۔لاہور میں شہباز شریف کی نیب میں پیشی کے حوالے سے معلومات رکھنے والے ذرائع نے بتایا تھا کہ پیشی کے دوران شہباز شریف نے ایک بار پھر نیب ٹیم کے سوالوں کے مناسب جواب نہیں دیے۔
ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف احتساب ادارے کے پاس موجود اپنے اثاثوں کی تفصیلات دیکھ کر حیران رہ گئے جبکہ منی لانڈرنگ سے متعلق سوالوں کے جواب دینے سے قاصر رہے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے شہباز شریف سے ایک گھنٹہ 45 منٹ تک سوالات کیے تاہم وہ نیب کے سوالات کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔
یاد رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر مارچ میں لندن سے وطن واپس آئے تھے جس کے بعد سے نیب نے متعدد مرتبہ طلب کرلیا تھا۔قبل ازیں 17 اور 22 اپریل کو شہباز شریف نے کورونا وائرس کے باعث صحت کو وجہ بناتے ہوئے پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ نیب نے انہیں طبی ہدایات کے مطابق تمام تر احتیاطی تدابیر اپنانے کی یقین دہانی کروائی تھی۔
شہباز شریف نے اپنے وکیل کے توسط سے مطلوبہ دستاویز قومی احتساب بیورو میں جمع کروادیے تھے تاہم نیب نے ان دستاویزات اور شواہد کو ناکافی قرار دیتے ہوئے انہیں ذاتی طور پر سوالات کا جواب دینے کے لیے پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔
خیال رہے کہ اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف نے گزشتہ روز منی لانڈرنگ کیس میں نیب میں گرفتاری کے خدشے کے باعث لاہور ہائیکورٹ میں عبوری درخواست ضمانت دائر کی تھی۔تاہم سابق جج شریف حسین بخاری کے انتقال کے باعث درخواست پر سماعت نہ ہو سکی اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد قاسم علی نے شہباز شریف کی درخواست کو 3 جون کو سماعت کیلئے مقرر کر دیا۔شہباز شریف کی جانب سے درخواست ضمانت میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ تمام اثاثے ڈکلیئر ہیں، نیب کے پاس منی لانڈرنگ کے کوئی ثبوت موجود نہیں، الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں لہذا گرفتاری سے روکا جائے۔
ادھر لاہور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو میں لیگی رہنما رانا ثناء اللہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو بدترین انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ شہباز شریف نے دس سال صوبے کی خدمت کی اور لوڈشیڈنگ کے خاتمے میں کردار ادا کیا۔
دوسری جانب شہباز شریف نیب کی جانب سے آج طلب کئے جانے کے باوجود پیش نہ ہوئے۔۔ انہوں نے اپنے ایک نمائندے کے ذریعے نیب کو تحریری طور پر نہ آنے کی اطلاع دی۔۔ شہباز شریف کے نیب لاہور کو بھیجے خط کے مندرجات سامنے آگئے ہیں۔۔ شہباز شریف نے نیب کو لکھا ہے کہ انہیں میڈیا سے پتہ چلا کہ نیب لاہور کے افسران کرونا وائرس میں مبتلا ہو چکے ہیں۔۔۔میں ان کی جلد صحتیاب ہونے کیلئے دعاگو ہوں۔۔ شہباز شریف نے لکھا ہے کہ انکی عمر 69 برس ہے، اور بیماریوں کی وجہ سے ان کی قوت مدافعت کم ہو چکی ہے۔۔ تمام جوابات اور ریکارڈ نیب کو دے چکا ہوں،نیب ٹیم کو مزید تفصیلات درکار ہیں تو سکائپ کے ذریعے تفصیلات فراہم کر سکتا ہوں۔۔ تاہم اب اطلاعات یہ ہیں کہ نیب کی طرف سے طلب کئے جانے پر پیش نہ ہونے پر اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی گرفتاری کا فیصلہ کیا گیا ہے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button