خیبر پختونخوااسمبلی کی تحلیل کیلئے راستہ صاف ہو گیا

خیبر پختونخوا اسمبلی کی تحلیل میں سب سے بڑی رکاوٹ دور ہو گئی ہے کیونکہ اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ جاری اجلاس کے دوران اسمبلی تحلیل نہیں کی جا سکتی چنانچہ اب جب کہ عمران خان 23 دسمبر کو دونوں صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اعلان کر چکے ہیں تو خیبر پختونخوا اسمبلی کا جاری اجلاس ختم کر دیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اب وزیر اعلیٰ محمود خان کسی بھی وقت گورنر کو اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس ارسال کر سکتے ہیں، اگر گورنر اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس پر دستخط نہیں کرتے تو بھی آئین کے تحت 48 گھنٹے بعد اسمبلی خود بخود تحلیل ہو جائے گی۔ تاہم اسمبلی کو تحلیل ہونے سے روکنے کیلئے اپوزیشن پارٹیز آئین کے آرٹیکل 136 کے تحت وزیر اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کروا سکتی ہیں جس پر 20 فیصد ممبران اسمبلی کے دستخط لازمی ہوتے ہیں۔ لیکن تحریک انصاف کی عددی اکثریت کے سامنے خیبر پختونخوا کی اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہونا بظاہر نا ممکن نظر آتا ہے۔ البتہ کچھ وقت کیلئے اپوزیشن، اسمبلی کو اس صورت میں تحلیل سے بچا ضرور سکتی ہے۔

دوسری جانب وفاق کے نمائندے اور خیبر پختونخوا کے گورنر حاجی غلام علی کا کہنا ہے کہ اگر ان کے پاس اسمبلی کی تحلیل بارے وزیر اعلیٰ کی جانب سے سمری آئی تو آئین کے مطابق فیصلہ کروں گا حالانکہ میں نہیں چاہتا کہ صوبے میں گورنر راج کا نفاذ ہو۔ یاد رہے کہ خیبرپختونخوامیں پیپلز پارٹی کے دور میں دو مرتبہ گورنر راج لگایا جا چکا ہے۔ پہلی مرتبہ ذوالفقار علی بھٹو، جبکہ دوسری مرتبہ بینظیر بھٹو کے دور میں سابقہ صوبہ سرحد میں گورنر راج نافذ کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق عمران خان کی جانب سے اسمبلی کی تحلیل کا گرین سگنل ملتے ہی  جولائی 2022 سے جاری صوبائی اسمبلی کا سیشن 17 دسمبر کو غیر معینہ مدت تک کیلیے ملتوی کر دیا گیا کیوں کہ آئین کے مطابق اسمبلی جاری سیشن کے دوران تحلیل نہیں کی جا سکتی اور اسمبلی توڑنے کیلئے ضروری ہے کہ اجلاس جاری نہ ہو۔ خیبر پختونخوااسمبلی کا اجلاس گزشتہ پانچ ماہ سے جاری تھا اور یہ عام تاثر بنا تھا کہ اسمبلی کو تحلیل ہونے سے بچانے کے لیے ایسا کیا جا رہا ہے۔ تاہم اب چونکہ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وفاقی حکومت پر دبائو ڈالنے اور ملک میں جنرل الیکشن کیلئے خیبر پختونخوا اسمبلی کی تحلیل ضروری ہے، اس لئے خیبرپختونخوا اسمبلی کا ایجنڈا ختم کرکے اجلاس غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ وزیر اعلیٰ، آئین کے آرٹیکل 112 کے تحت صوبائی اسمبلی کی تحلیل کا اختیار رکھتے ہیں اور آئین کے اسی آرٹیکل کے تحت وزیراعلیٰ صوبائی اسمبلی کی تحلیل سے متعلق گورنر کو لکھ سکتے ہیں۔ تاہم اسمبلی کو تحلیل سے بچانے کیلئے آئین نے اپوزیشن کو بھی اختیار دیا ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 136کے تحت وزیراعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کر سکتی ہے جس پر اسمبلی ارکان کی مجموعی تعداد کے 20 فیصد ممبران کے دستخط ہونا لازمی ہے۔ یعنی خیبرپختونخوا اسمبلی میں 145ممبران میں سے 29 اراکین کو تحریک عدم اعتماد پر دستخط کرنا ہوں گے۔ اگر صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں وزیراعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کرائی جاتی ہے تو وزیراعلیٰ کا اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار معطل ہو جاتا ہے۔ جب تک عدم اعتماد کی تحریک کا فیصلہ نہ آئے تب تک اسمبلی تحلیل نہیں کی جا سکتی۔ تاہم تحریک پیش ہونے کے بعد سات دن کے اندر اس پر ووٹنگ لازمی ہے۔ لیکن تحریک انصاف کی عددی اکثریت خیبرپختونخوا اسمبلی میں اتنی ہے کہ وہ تحریک عدم اعتماد کا بھی بھرپور طریقے سے مقابلہ کر سکتی ہے۔

Back to top button