کیا پرویز کے پاس واقعی اسمبلی توڑنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں؟

تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پی ڈی ایم پرویز الٰہی کا ہاتھ نہیں پکڑتی تو ان کے پاس پنجاب اسمبلی توڑنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے کیونکہ انکار کی صورت میں پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی استعفے دے کر ان کی حکومت ختم کر دیں گے۔ لیکن مسئلہ یہ درپیش ہے کہ اگر پرویز الٰہی پھر بھی اسمبلی توڑنے سے انکار کر دیں تو پی ڈی ایم ایک مرتبہ پھر پنجاب میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آجائے گی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالانکہ نواز شریف اور آصف زرداری اب پرویز الٰہی پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں لیکن اگر پھر بھی وہ اسمبلی بچانے کی خاطر انہیں وقتی طور پر برقرار رکھنے کو تیار ہو جاتے ہیں تو ایسی صورت میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ عمران اسمبلیاں توڑنے کے اعلان پر یوٹرن لے جائیں اور پرویز کو اپنا وزیر اعلیٰ برقرار رکھنے کا فیصلہ کر لیں۔ یاد رہے کہ عمران کی جانب سے 23 دسمبر کو دونوں صوبائی اسمبلیاں توڑنے کے اعلان کے بعد پرویز الٰہی نے جنرل باجوہ کی آڑ میں عمران سے اظہار ناراضی کیا ہے اور یہ دھمکی دی ہے کہ اگر اب سابق آرمی چیف کے خلاف کوئی بات کی گئی تو وہ خود اس کا جواب دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ درحقیقت عمران اور قاف لیگ دونوں کے محسن ہیں اور اب جب وہ ریٹائر ہو چکے ہیں تو ان کے خلاف گفتگو کرنا احسان فراموشی ہے۔

لیکن پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم کی جانب سے پرویز الٰہی کو وزارت اعلیٰ پر برقرار رکھنے کاکوئی امکان نہیں اور موصوف عمران کو اسمبلی توڑنے سے روکنے کے لیے ایسی افواہیں پھیلا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فوج غیر سیاسی ہو چکی ہے لہذا پرویز الٰہی کے قریبی ذرائع کی جانب سے خفیہ ایجنسی کے سربراہ سے ملاقات کا دعویٰ بھی جھوٹ کا پلندہ ہے۔ پی ڈی ایم ذرائع کہتے ہیں کہ ان کی قیادت بڑے واضح الفاظ میں عمران خان کو اسمبلیاں توڑنے کے اعلان پر عمل درآمد کا چیلنج دے چکی ہے لہٰذا وہ اس موڈ میں نہیں کہ پنجاب اسمبلی کو ٹوٹنے سے بچایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگی قیادت پہلے ہی اپنی صوبائی تنظیم کو پنجاب میں نئے الیکشن کی تیاری کا حکم بھی دے چکی ہے۔ 18 دسمبر کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے پارٹی اجلاس میں بھی یہی فیصلہ ہوا کہ پرویز الٰہی کے خلاف تحریک عدم اعتماد نہیں لائی جائے گی۔ تاہم گورنر کسی بھی وقت وزیراعلیٰ پنجاب کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے  کہہ سکتے ہیں۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کے اعلان کے حوالے سے سنجیدہ ہیں اور اس اعلان پر 23 دسمبر کو عمل کر دیا جائے گا۔ پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پرویز الٰہی نے عمران کی جانب سے اسمبلی تحلیل کرنے کی ہدایت پر عمل نہ کیا تو پی ٹی آئی کے تمام 178 اراکین اسمبلی اجتماعی استعفے دے سکتے ہیں جسکے نتیجے میں پنجاب حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا۔

پی ٹی آئی کی قیادت کو یقین ہے کہ اگر صوبائی اسمبلیاں تحلیل کر دی جاتی ہیں تو عمران خان اور پرویز الٰہی کا اتحاد اگلے انتخابات جیت کر 3 ماہ کے اندر اقتدار میں واپس آجائے گا۔ لیکن پی ڈی ایم قیادت اسے دیوانے کا خواب قرار دیتی ہے۔ یاد رہے کہ پنجاب کے ضمنی الیکشن کے بعد صوبائی اسمبلی میں پارٹی پوزیشن تبدیل ہو گئی ہے،  مسلم لیگ اور اتحادیوں کے پاس اس وقت 178 ارکان موجود ہیں، جبکہ تحریک انصاف اور ق لیگ کے ارکان کی تعداد 188 ہے، یاد رہے 15 نئے ایم پی ایز کی شمولیت سے پی ٹی آئی کے ارکان پنجاب اسمبلی کی تعداد 188 ہو گئی تھی جبکہ مسلم لیگ کے تین ارکان کے اضافے سے حکومتی اتحاد کی تعداد 178 ہو گئی تھی، اس وقت پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے ارکان کی تعداد 166 ہے، پیپلز پارٹی کے 7 ارکان ہیں، 4 آزاد اراکین اور ایک راہ حق پارٹی کا رکن ملا کر پی ڈی ایم کے حامی اراکین کی تعداد 178 بنتی ہے۔ لیکن ضمنی انتخاب میں لودھراں سے جیتنے والے رکن اسمبلی پیر رفیع الدین اور چودھری نثار ابھی تک غیر جانبدار ہیں۔ ایسے میں اگر پرویزالٰہی کی جماعت سے تعلق رکھنے والے 10 اراکین اسمبلی پی ڈی ایم کے ساتھ چلے جائیں تو پی ٹی آئی کی حکومت یقینی طورپر ختم ہو جائے گی۔ لیکن اگر پرویز الٰہی عمران کے ساتھ کھڑے رہنے کا فیصلہ کریں اور ان کی جماعت کے چھ اراکین پنجاب اسمبلی ایک فارورڈ بلاک بنا کر پی ڈی ایم کے ساتھ چلے جائیں تو بھی پرویز الٰہی کی حکومت کا خاتمہ ہوجائے گا۔

Back to top button