پنجاب اسمبلی:وزیر اعلیٰ، سپیکر ،ڈپٹی سپیکر کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع

پنجاب اسمبلی کی اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی نے وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی، اسپیکرپنجاب اسمبلی سبطین خان اور ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی واثق قیوم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرادی۔
مسلم لیگ ن کی جانب سے میاں مرغوب، خلیل طاہرسندھو، خواجہ عمران نذیرنے تحریک عدم اعتماد جمع کرائی جبکہ پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر حسن مرتضیٰ بھی ن لیگ اراکین کے ہمراہ تھے،تحریک عدم اعتماد پر 150 ارکان اسمبلی نے دستخط کئے ہیں۔
اپوزیشن ارکان نے پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ میں تینوں کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی۔قرارداد کے متن کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہیٰ ایوان کا اعتماد کھوچکے ہیں، وہ پنجاب اسمبلی سے دوبارہ اعتماد کا ووٹ لیں۔ تحریک عدم اعتماد کے بعد گورنر بلیغ الرحمان چودھری پرویز الہیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہیں گے۔
ن لیگ کے رہنما عطا تارڑ نے کہا ہے کہ اتحادیوں کی مشاورت کے بعد وزیراعلیٰ، سپیکر، ڈپٹی سپیکر کےخلاف عدم اعتماد جمع ہوچکی ہے، ہمارے اتحادیوں کا یہ خیال ہے کہ اسمبلیوں کواپنی مدت پوری کرنی چاہیے،انتخابات کیلئے بھی ہم تیار ہیں، پچھلے کافی دنوں سے یہ معاملات چل رہےتھے، تحریکیں جمع ہوچکی ہیں، اب اسمبلیوں کی تحلیل نہیں ہوسکے گی، جب عدم اعتماد آجائے تواسمبلیوں کی تحلیل نہیں ہوسکتی۔ گورنر صاحب کی جانب سے آرڈر بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما خلیل طاہر سندھو نے کہا ہے کہ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے جمع کروا دی ہے ہمارے پاس نمبر پورے ہیں اور بہت زیادہ ہیں۔
پیپلز پارٹی کے رہنما حسن مرتضیٰ نے کہا کہ ہماری تعداد پوری ہے یا نہیں اس کا جواب کل مل جائے گا، آصف زرداری ممکنات کےکھلاڑی ہیں وہ جسے چاہیں گے اگلا وزیراعلیٰ آ جائے گا، قوم جلد خوشخبری سنےگی۔
دوسری جانب گورنر پنجاب نے وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کو اعتماد کے ووٹ کیلئے خط لکھ دیا اس حوالے سے گورنر نے بدھ کو شام 4 بجے پنجاب اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا ہے، اعتماد کے ووٹ کیلئے یہ خصوصی اجلاس طلب کیا گیا ہے۔
دوسری جانب وفاق میں حکمران جماعتوں نے پنجاب اسمبلی کی تحلیل روکنے کا اعلان کیا ہے اور اس حوالے سے 3 بڑوں وزیراعظم شہباز شریف، آصف علی زرداری اور چوہدری شجاعت حسین کی ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں۔
واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے 23 دسمبر کو پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیاں توڑنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
