خدا کی بستی اور جانگلوس کے لکھاری شوکت صدیقی کی کہانی

فوج کی نوکری چھوڑ کر لکھاری بننے والے معروف رائٹر شوکت صدیقی کا نام جدید افسانوی ادب میں کافی نمایاں نظر آتا ہے جس کی بنیادی وجہ ان کے دو ناول ’’خدا کی بستی‘‘ اور ’’جانگلوس‘‘ ہیں۔ تین جلدوں میں لکھے گئے ناول جانگلوس کو جو شہرت حاصل ہوئی وہ کسی اور ادیب کے حصے میں نہیں آئی۔ شوکت صدیقی نے ڈرامے بھی لکھے۔ اگرچہ ان کا کوئی مجموعہ شائع نہیں ہوا۔ تاہم، وہ لاہور کے ہفت روزہ ’’خیام‘‘ اور ماہنامہ ’’شاعر‘‘ آگرہ میں شائع ہوئے جن کی تعداد آٹھ ہے۔

شوکت صدیقی 20 مارچ 1923ء کو لکھنئو کے ایک علمی خانوادے میں پیدا ہوئے۔ ان کا نام شوکت حسین رکھا گیا۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ جوبلی ہائی اسکول اینڈ انٹرمیڈیٹ کالج لکھنٔو میں حاصل کی۔ 1935ء میں جب نواب گنج میونسپل ہائی اسکول کان پور میں آٹھویں جماعت میں داخلہ لینے کا وقت آیا اور لکھنٔو سے’’سکول لیونگ سرٹیفکیٹ‘‘ ملنے میں غیر ضروری تاخیر ہوئی تو ان کے بڑے بھائی حامد حسین صدیقی نے ان کا نام شوکت علی صدیقی تجویز کیا اور اسی نام سے داخلہ دلادیا۔ بعد ازاں جب 1940ء میں ان کے ادبی سفر کا آغاز ہوا تو صرف شوکت صدیقی نام ہی ان کی شناخت بنا۔ چنانچہ تمام ضروری دستاویزات، پاسپورٹ اور شناختی کارڈ وغیرہ پر یہی نام درج رہا۔

شوکت صدیقی نے دوسری جنگ عظیم کے زمانے میں 1941 میں فوج میں کمیشن حاصل کیا اور سیکنڈ لیفٹیننٹ کی حیثیت سے آرمی کے سگنل کور سے ملازمت کا آغاز کیا۔ فوج کی ملازمت کا یہ عرصہ تقریباً دوبرس پر مشتمل تھا۔ لیکن یہ نوکری ان کے مزاج کے مطابق نہیں تھی چنانچہ انہوں نے فوج سے استعفیٰ دے کر لیبر ویلفیئر آفیسر کی حیثیت سے ملازمت اختیارکی۔ اس ملازمت کے دوران انہیں بھوپال میں جنگی قیدیوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا جس سے متاثر ہو کر انہوں نے مشہور افسانہ ’’مردہ گھر‘‘ لکھا۔ لیکن والدین کے اصرار پر چند ماہ بعد یہ ملازمت ترک کرکے واپس لکھنٔو آگئے اور اپنے بڑے بھائی دلدار حسین صدیقی کے کاروبار میں اُن کا ہاتھ بٹانے لگے۔ کراچی آنے کے بعد انہوں نے ذریعۂ معاش کے طور پر صحافت کا پیشہ اپنایا۔ 1952ء سے 1954ء تک ’’پاکستان سٹینڈرڈ‘‘ میں سب ایڈیٹر کے فرائض انجام دیے۔ 1954ء سے 1960ء تک روزنامہ ٹائمز آف کراچی، 1960ء سے 1963ء تک روزنامہ مارننگ نیوز کراچی میں بحیثیت سینئر سب ایڈیٹر کام کیا۔ بعدازاں 1963ء سے 1969ء تک روزنامہ انجام کراچی سے بحیثیت چیف ایڈیٹر وابستہ رہے۔ 1969ء سے 1973ء تک ہفت روزہ الفتح کے نگران اعلیٰ کی حیثیت سے کام کیا۔ 1973ء میں کراچی سے پاکستان پیپلزپارٹی کے ترجمان اخبار ’’مساوات‘‘ کا اجرا ہوا تو 1973ء سے 1976ء تک اس کے ایڈیٹر اور پھر چیف ایڈیٹر رہے۔ 1976ء میں وہاں سے استعفیٰ تو دے دیا تاہم، 1980ء تک اُسی اخبار میں کالم نگاری کا سلسلہ جاری رکھا۔ پھر ضیا کی فوجی آمریت اور سنسر شپ سے دل برداشتہ ہوکر 1984ء میں صحافت کے کوچے کو ہی خیرباد کہہ دیا۔

شوکت صدیقی کی افسانہ نگاری کا آغاز 1940ء میں ہوا۔ ان کا پہلا افسانہ ’’کون، کسی کا‘‘ جنگ کے پس منظر میں لکھا ہوا رومانی افسانہ تھا جو ہفت روزہ ’’خیام‘‘ لاہور میں شائع ہوا اور بہت پسند کیا گیا۔ اس پذیرائی نے ان کے حوصلے بلند کیے اور پھر وہ متواتر خیام، عالم گیر، شاعر، ادب لطیف اور سویرا جیسے ادبی رسائل میں لکھتے رہے۔ مارچ 1950ء میں وہ بھارت سے ہجرت کرکے پہلے لاہور اور پھر کراچی آگئے۔ یہاں آنے کے بعد ان کی زندگی اور افسانوی ادب کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ انہوں نے لکھنٔو میں قدرے فراغت اور اطمینان کی زندگی گزاری تھی جب کہ کراچی آنے کے بعد انہیں عام مہاجروں کی طرح مصائب اور آزمائشوں سے گزرنا پڑا۔ سب سے اہم مسئلہ معاش اور رہائش کا تھا۔ شروع میں جہاں سر چھپانے کو جگہ ملتی وہیں گزر بسر کرتے۔ اسی دوران انہیں کچھ دنوں تک جیکب لائنز کے ایک کواٹر میں بدقماش اور جرائم پیشہ لوگوں کے ساتھ رہنے کا موقع بھی ملا اور انہوں نے اپنا مشہور افسانہ ’’تیسرا آدمی‘‘ جو ان کے فنی ارتقا اور سماجی تصور میں اہم کڑی کی حیثیت رکھتا ہے، اسی ماحول میں لکھا جہاں لوگ تاش کے پتوں سے جوا کھیلتے تھے اور ساتھ ساتھ فحش مذاق کا سلسلہ بھی جاری رہتا تھا۔ چرس کے دھوئیں سے کمرے میں گھٹن رہتی تھی۔ ’’تیسرا آدمی‘‘ کو ادبی حلقوں میں زبردست پذیرائی حاصل ہوئی۔ اس زمانے میں ان کی کل کائنات ایک چارپائی تھی۔ وہ تکیے کے سہارے بیٹھے افسانہ لکھنے میں مصروف رہتے۔ اس طرح انہیں جرائم کی دنیا سے تعلق رکھنے والوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ بعد میں لاشعوری طور پر یہ تمام لوگ ان کے افسانوی ادب میں اس طرح درآئے کہ ان کا مخصوص موضوع بن گئے۔

شوکت صدیقی کا پہلا ناول ’’خدا کی بستی‘‘ پہلی مرتبہ 1958ء میں مکتبہ ’’نیا راہی‘‘ کراچی سے شائع ہوا۔ اس ناول کی مقبولیت کی بناء پر کچھ اشاعتی اداروں نے اس کے جعلی ایڈیشن بھی چھاپے۔ خود مکتبہ نیا راہی نے ’’پہلا ایڈیشن‘‘ اجازت سے اور بعد میں بارہ ایڈیشن جعلی چھاپے جس کا انکشاف کاپی رائٹ کے مقدمے کے دوران ہوا۔ ’’خدا کی بستی‘‘ کا ایک ایڈیشن الفتح مطبوعات کراچی سے بھی شائع ہوا جب کہ دس گیارہ جعلی ایڈیشن چھاپے گئے۔ بھارت میں لکھنٔو، الٰہ آباد، حیدرآباد دکن اور دہلی سے پندرہ ایڈیشن بغیر اجازت چھاپے گئے۔ اس ناول کے اب تک پچاس سے زائد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ یہ غالباً اردو کا واحد ناول ہے جس کا دنیا کی 26 زبانوں میں ترجمہ ہوا۔ جانگلوس ڈرامے کی صورت میں پاکستان ٹیلی ویژن سے چھ مرتبہ اور ایک نجی چینل سے ایک مرتبہ پیش کیا گیا۔

جن دنوں ’’خدا کی بستی‘‘ لکھا جا رہا تھا، شوکت صدیقی کی رہائش ناظم آباد کراچی کی ایک عقبی بستی عثمانیہ کالونی میں تھی۔ مالی فراغت بھی نہ تھی۔ لہٰذا، گھر میں لکھنے پڑھنے کا کمرہ یا اسٹڈی روم کجا، میزکرسی تک نہ تھے۔ ان کے گھر میں تین ٹرنک تھے۔ ایک ٹرنک کو وہ بطور ’’کرسی‘‘ استعمال کرتے اور سامنے دو ٹرنک اوپر تلے رکھ کر ’’میز‘‘ کا کام لیتے۔ لالٹین کی روشنی میں رات رات بھر لکھتے۔ اس ناول میں انہوں نے طبقاتی زنجیروں میں جکڑی ہوئی زندگی، سماجی ناانصافی اور استحصال کو موضوع بنایا ہے جو معاشرے میں جراثیم کی طرح پھیل چکے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستانی معاشرہ تشکیل کے مرحلے سے گزر رہا تھا۔ پاکستان کو وجود میں آئے ایک عشرہ ہی گزرا تھا۔ اس نئے معاشرے میں لاتعداد سماجی مسائل موجود تھے۔ مہاجرین کی آبادکاری بھی ایک سنگین مسئلہ تھی۔ ہجرت کرکے آنے والوں کے تہذیبی اور اقتصادی مسائل، کلیم اور الاٹمنٹوں کا مسئلہ، نودولتیا طبقہ اور اس کی مفاد پرستی، ایک نوتشکیل معاشرے میں انتشار، مطلب پرستی اور خودغرضی کے عناصر، افسرشاہی کی خودغرضی اور مفاد پرست ٹولے کی پشت پناہی، ایسی حقیقتیں ہیں کہ معاشرے پہ نظر رکھنے والا کوئی مصنّف ان سے بے نیاز نہیں رہ سکتا تھا۔ معاشرہ جس تیزی سے تبدیل ہورہا تھا، ’’خدا کی بستی‘‘ میں ان تبدیلیوں کو بھی اسی تیزرفتاری اور سماجی بصیرت کے ساتھ سمیٹا گیا ہے۔

قیام پاکستان کے بعد یہ پہلا ناول ہے جس میں پاکستان کی شہری اور صنعتی زندگی، اس کی زیریں دنیا اور اس دنیا کے جرائم اور اندھیرے کو تین بچوں راجہ، شانی اور نوشا کے توسط سے پیش کیا گیا۔ اس ناول کا موضوع ایک ایسا اُکھڑا ہوا پاکستانی معاشرہ ہے جہاں دھکم پیل کا عالم ہے۔ ہندوستان کے گوشے گوشے سے ہجرت کرکے آنے والوں نے کراچی کو ایک گنجان آباد شہر بنادیا تھا۔ ان مہاجروں میں ادیب، شاعر، مصوّر، موسیقار اور دانشور بھی شامل تھے۔ اس ہجرت نے صدیوں کے جمے جمائے سماجی نظام اور معاشرتی واخلاقی اقدار کی جڑیں ہلا دی تھیں۔ ان کے لیے پاکستان کی زمین ہی نہیں، سب کچھ نیا تھا۔ ’’خدا کی بستی‘‘ میں ان تمام خرابیوں اور خامیوں کا احاطہ کیا گیا ہے جو اس نئے بنتے ہوئے معاشرتی ڈھانچے میں تیزی سے اپنی جگہ بنا رہی تھیں۔

شوکت صدیقی کا دوسرا مقبول ناول جانگلوس ہے۔ تین جلدوں پر مشتمل یہ ضخیم ناول جون 1977ء میں لکھنا شروع کیا گیا اور 19 ستمبر 1984ء کو مکمل ہوا۔ اس کی پہلی جلد کا پہلا ایڈیشن فروری 1987ء میں شائع ہوا۔ جانگلوس پنجاب کی دیہی زندگی کے بارے میں لکھا گیا بڑے کینوس اور وسیع پس منظر کا حامل ناول ہے۔ یہ ناول شروع کرنے سے پہلے شوکت صدیقی اُن تمام علاقوں میں گئے اور معلومات جمع کیں جہاں کی زندگی کی وہ عکاسی کرنا چاہتے تھے۔ اس سلسلے میں کتابوں کا مطالعہ کیا، ڈکشنریاں، علاقائی ادب، سوشل سروے اکٹھا کیے، پنجابی اور سرائیکی زبان سیکھی۔ اس ناول کے ذریعے انہوں نے باور کرایا ہے کہ زمین دار، جاگیردار زبردست استحصالی قوتیں ہیں۔ شوکت صدیقی ان کے اور مزارعوں کے درمیان رشتے کو سامنے لاتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ایک کھیت پر مزدور کتنی محنت کرتاہے اور کس طرح زندگی گزارتا ہے اور اس کے بدلے میں اسے کیا معاوضہ ملتا ہے۔ نیز اس کی محرومیاں کیا ہیں۔ انہوں نے پنجابی عوام کے رہن سہن، عادات واطوار، رسم ورواج اور اقدار کے بارے میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر مواد اکٹھا کیا۔ جہاں سے جو مواد ملا، اسے حاصل کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان کا لکھنے پڑھنے کا کمرہ سٹڈی ورکشاپ بن گیا۔

شوکت صدیقی کا کہنا تھا کہ ’’میرا ہر ناول تخلیق کے بے کراں اکتسابی عمل کا نتیجہ ہے جس میں کسی حد تک کوشش کا بھی دخل ہوتا ہے۔ تاہم، جذبۂ تخلیق کی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ہمارے چاروں طرف زندگی ہی زندگی ہے۔ جب ایک حساس ادیب ان کا مشاہدہ کرتا ہے تو ان کی حقیقتوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتا ہے۔ پھر وہی حقیقتیں بعد میں فن اور تخلیق کا روپ دھار کر ادب کے سانچوں میں ڈھل جاتی ہیں۔ میرے نزدیک یہی حقیقت نگاری ہے۔‘‘

جانگلوس میں جاگیردارانہ یا فیوڈل نظام کی خرابیوں اور استحصال کو بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ شوکت صدیقی جاگیردارانہ یا فیوڈل نظام کو تمام خرابیوں کی جڑ اور بنیاد سمجھتے تھے۔ ان کے بقول:  ’’اس استحصالی نظام کے خاتمے کے بغیر سماجی بنیادوں کی تبدیلی کا عمل کامیاب نہیں ہوسکتا۔‘‘ وہ اسے انسانی فلاح اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے۔ شوکت صدیقی کا کہنا تھا کہ ضیاء الحق کے گیارہ برسوں میں جتنی پھانسیاں دی گئیں، برصغیر کی تاریخ میں شاید 1857ء کے سوا کبھی نہیں دی گئیں۔ یہ چھوٹے اور بڑے چورکا فرق ہے۔ دراصل یہی جانگلوس کا مرکزی خیال ہے کہ جرم چھوٹے چور سے بھی سرزد ہوتا ہے اور بڑے سے بھی مگر سزا صرف غریب کے لیے مخصوص کر دی گئی ہے۔ شوکت صدیقی کا انتقال 18 دسمبر 2006 کو 83 برس کی عمر میں کراچی میں ہوا۔

Back to top button