داعش کے ابھرنے سے پاکستان کیلئے خطرہ بڑھ گیا


افغانستان پر طالبان کے قبضے کے فوری بعد کابل میں داعش کے خوفناک خودکش حملوں نے پاکستانی ریاست کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ پاک افغان سرحد پر واقع صوبہ ننگرہار کو اپنا مرکز بنانے والی داعش کے ابھرنے سے پاکستان کی سکیورٹی کو بھی کئی طرح کے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ یاد رہے آئی ایس آئی ایس یا دولتِ اسلامیہ 2019 تک افغانستان اور پاکستان میں داعش خراسان کے نام سے سرگرم تھی تاہم اسی برس مئی میں اسکی قیادت نے پاکستان کو ایک علیحدہ صوبہ قرار دے دیا تھا۔خراسان اس خطے کا ایک تاریخی نام ہے اور جس میں موجودہ پاکستان، ایران، افغانستان اور وسطیٰ ایشیا کے کچھ علاقے شامل ہیں۔ اس تنظیم کی بنیاد 2015 میں رکھی گئی تھی اور اس میں شامک ذیادہ تر جنگجو سابق پاکستانی اور افغان طالبان ہیں۔
لہذا سکیورٹی امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ افغانستان میں داعش تگڑی ہوئی تو اس کا اثر پاکستان پر بھی پڑے گا اور وہ یہاں بھی اپنے ٹھکانے بنانے کا عمل تیز کر دے گی۔ پاکستان کے لیے مسئلہ یہ ہوگا کہ ماضی میں تو امریکی ڈرون افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا لیتے تھے لیکن اب جبکہ امریکی افواج افغانستان سے چلی گئی ہیں تو داعش کے جنگجوؤں کو ختم کرنا پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوگا۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ داعش کے ابھرنے سے پاکستان اور افغانستان میں عدم استحکام کے خطرات بڑھیں گے۔ انکا کہنا ہے کہ کچھ برس پہلے طالبان کے کچھ سرکردہ رہنماؤں نے داعش میں شمولیت اختیار کی تھی جسکے بعد اس نے پاکستان میں مزارات اور شیعہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد پر حملے سروع کر دیے تھے۔ لہازا اس کے ایک بار پھر ابھرنے سے ایسے حملوں کے خطرات بڑھ جائیں گے۔
پاکستان میں عسکریت پسندی پر گہری نظر رکھنے والے صحافی حسن عبداللہ کا کہنا ہے کہ ماضی میں لشکر جھنگوی کے عناصر نے بھی داعش سے مل کر افغانستان میں اہل تشیع افرد پر حملے کیے۔ انہوں نے بتایا،” پاکستان میں بھی یہ خطرہ ہے کہ یہ ان کے ساتھ مل کر کوئی مشترکہ کارروائی کریں، جس سے پاکستان میں عدم استحکام کی فضا پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بھی بہت سارے ایسے افراد ہیں، جو کسی بھی مذہبی تنظیم سے وابستہ نہیں ہیں لیکن وہ داعش کے نظریات سے متاثر ہو سکتے ہیں اور ان کے لیے کام کر سکتے ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اورکزئی ایجنسی کے علاوہ کچھ علاقوں میں داعش کی موجودگی ہے گو کہ وہ افرادی طور پر بہت زیادہ نہیں ہیں لیکن پھر بھی وہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے لیے مسائل پیدا کر سکتے ہیں، ”شام میں رپورٹنگ کے دوران مجھے ایک دہشت گرد تنظیم نے بتایا کہ یہاں تقریبا ڈیڑھ سو کے قریب پاکستانی جنگجوآئے تھے۔ انہوں نے پہلے ایک انتہاپسند تنظیم جوائن کی اور پھر داعش میں شمولیت اختیار کی۔ تو یہ کہنا کہ ان کی موجودگی پاکستان میں نہیں ہیں یقیناﹰ غلط ہو گا۔ ان کی پاکستان میں موجودگی ہے، ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ موجودگی افرادی لحاظ سے بہت بڑی نہیں ہے۔‘‘
حسن عبداللہ کے خیال میں داعش کے نظریات انتہائی خطرناک فلسفے پر مبنی ہے، ”وہ اپنے علاوہ سب کو مرتد سمجھتے ہیں اور ان مرتدین میں القاعدہ، طالبان اور بہت سارے مسلمان شامل ہیں۔ لہٰذا یہ فلسفہ انتہائی تکفیری ہے اور یہ بہت تقسیم پیدا کر سکتا ہے۔ داعش کے لوگوں میں منتخب افراد کو ٹارگٹ کرنے اور چھوٹے پیمانے پر دہشت گردانہ حملے کرنے کی صلاحیت ہے۔ اس کے علاوہ ان کے سلیپر سیل بھی ہیں، جو پاکستان کی سکیورٹی کے لیے خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔‘‘
یاد رہے کہ افغانستان میں دولتِ اسلامیہ خراسان نے اس وقت سر اُٹھایا جب پاکستانی طالبان کے سابقہ اہم کمانڈروں نے پاکستان کے سابقہ خیبر ایجنسی کی تیراہ وادی میں 2014 کے آواخر میں اس کی بنیاد رکھی۔
مگر جلد ہی فوجی آپریشن کی وجہ سے وہ وہاں سے دیگر عسکریت پسندوں کی طرح افغانستان کے ملحقہ صوبہ ننگرہار منتقل ہوگئے۔
اگرچہ داعش کی بنیاد رکھنے والی قیادت کی اکثریت کا تعلق پاکستان سے تھا مگر جلد ہی اس میں افغانوں کی تعداد کئی گنا زیادہ ہو گئی۔
داعش نے جلد افغان طالبان اور افغان حکومتی فورسز کے خلاف کارروائیاں شروع کر دیں اور اس طرح ننگرہار کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ وہاں دولت اسلامیہ کا اثرورسوخ تب مزید مضبوط ہوا جب طالبان اور افغان فوج کے ساتھ شدید جھڑپوں اور امریکی فوجی حملوں میں انھیں شدید جانی نقصانات کی وجہ سے شکستوں کا سامنا کرنا پڑا اور اس کے جنگجوؤں نے فرار ہو کر کنڑ کے بعض اضلاع کو اپنا گڑھ بنا لیا۔
اس میں سرفہرست داعش خراسان کے سابق سربراہ شیخ ابو عمر خراسانی کا آبائی ضلع سوکئی اور اس سے متصل پرپیچ پہاڑی ہیں جو کنڑ میں تنظیم کے مضبوط گڑھ بن گئے۔ تاہم طالبان، افغان فورسز اور امریکی فضائی حملے جلد یہاں بھی ان کا پیچھے کرتے آئے اور بلآخر فروری 2020 میں تنظیم کا یہاں سے بھی مکمل صفایا کردیا گیا۔ داعش کے باقی ماندہ جنگجوؤں نے طالبان کے ہاتھوں موت سے بچنے کے لیے افغان حکومت کے آگے ہتھیار ڈال دیے جن میں سے اکثریت کو کابل کے بگرام اور پل چرخی جیلوں میں منتقل کیا گیا تھا۔ مئی 2020 میں داعش کے سربراہ شیخ ابو عمر خراسانی نے بھی طالبان سے جان بچانے کی خاطر اشرف غنی کی حکومت کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔ چنانچہ داعش کی سربراہی کے لیے ڈاکٹر شہاب المہاجر نامی ایسے شخص کا انتخاب کیا گیا جس کا تعلق مشرق وسطٰی سے ہے اور وہ ماضی میں اس خطے میں القاعدہ سے وابستہ رہا ہے۔

Back to top button