دونوں صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن بھی اگست میں ہونے کا امکان

عمران خان کی جانب سے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلیاں توڑنے کے بعد اب یہ سوال زیر بحث ہے کیا وہ پی ڈی ایم حکومت کو ملک بھر میں فوری نئے انتخابات کروانے پر مجبور کر پائیں گے یا نہیں؟ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ انہیں نہ تو پنجاب اور خیبرپختونخوا میں اور نہ ہی وفاق میں فوری انتخابات ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ آئین کے مطابق اگر کوئی صوبائی یا قومی اسمبلی وقت سے پہلے توڑی جائے تو نوے روز کے اندر نئے انتخابات کروانا ضروری ہے۔ تاہم باخبر حلقے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں نگران حکومتوں کا سیٹ اپ اگلے انتخابات تک چلے گا جو کہ اگست 2023 میں وفاقی حکومت کی آئینی مدت پوری ہونے کے بعد متوقع ہیں۔ باخبر ذرائع کا اصرار ہے کہ آئین کی شق 234 اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ اگر ناگزیر حالات پیدا ہوجائیں تو الیکشن کمیشن انتخابات میں چند ماہ کی تاخیر کر سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران نے دونوں صوبائی اسمبلیاں توڑ کر اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے کیونکہ ایسا کرکے انہوں نے 65 فیصد پاکستان سے اپنی حکومتوں کا خاتمہ کر دیا ہے جس کے نقصان کا اندازہ ان کو جلد ہونا شروع ہو جائے گا۔
یاد رہے کہ عمران خان تواتر کے ساتھ وفاقی حکومت سے عام انتخابات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے لیکن جب وفاقی حکومت نے ایسا کرنے سے صاف انکار کر دیا تو انہوں نے دباؤ ڈالنے کے لیے آخری جوا کھیلا اور دونوں صوبائی حکومتوں کا خاتمہ کر دیا۔ لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسا کر کے انہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ دیے ہیں کیونکہ اب وہ نامساعد حالات میں اگلے الیکشن میں جائیں گے جن کا فوری انعقاد ہوتا نظر نہیں آرہا۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان نے اپنے دور حکومت میں قومی مالیاتی ایوارڈ دیتے وقت یہ طے کیا تھا کہ نئے انتخابات نئی مردم شماری اور اس کی بنیاد پر ہونے والی حلقہ بندیوں کی بنیاد پر ہوں گے۔ تاہم ابھی تک یہ عمل مکمل نہیں ہو پایا اس میں مزید3ماہ لگنے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پرویز الٰہی نے اپنی تین ماہ کی وزارت اعلی ٰکے دوران پنجاب میں پانچ نئے اضلاع اور دس نئی تحصیلیں تشکیل دے ڈالی تھیں جن کے لیے اب نئی مردم شماری اور نئی حلقہ بندیاں کرنا ضروری ہے۔ ایسے میں پنجاب میں نوے روز کے اندر نئے الیکشن کے انعقاد کا امکان نظر نہیں آتا۔
سابق وزیراعظم عمران خان نے دونوں صوبائی اسمبلیاں تڑوانے کے بعد اب یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہیں اپریل میں ملک بھر میں نئے انتخابات ہوتے نظر آرہے ہیں۔ تاہم پی ڈی ایم کی وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ عام انتخابات مقررہ وقت پر موجودہ قومی اسمبلی کی آئینی مدت پوری ہونے پر رواں سال اکتوبر میں ہی ہوں گے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا بھی ماننا ہے کہ ملک میں صوبوں اور وفاق میں الگ الگ انتخابات کی کوئی روایت نہیں ہے۔ اسلئے کمزور معاشی صورتِ حال اور سیاسی بے یقینی کے ماحول میں دو الگ الگ انتخابات مناسب راستہ نہیں ہوگا۔ سابق وفاقی سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ ملک کی انتخابی و سیاسی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوگا کہ دو صوبوں میں پہلے جب کہ وفاق اور دیگر دو صوبوں میں بعد میں انتخابات ہوں گے۔ انہوں نےکہا کہ وفاقی حکومت کے لیے یہ ایک مشکل فیصلہ ہوگا کیوں کہ صوبوں میں ہونے والے انتخابات میں وزیرِ اعظم اور وفاقی وزرا انتخابی مہم کا حصہ نہیں بن سکیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب چند ماہ کے بعد وفاق میں انتخابات ہوں گے تو دو صوبوں میں نگران حکومتوں کی جگہ سیاسی حکومتیں ہوں گی جو کہ انتخابی عمل اور انتخابات کی شفافیت پر سوال کھڑے کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورتِ حال میں وفاقی حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور ممکن ہے کہ حکومت و حزبِ اختلاف بات چیت کے ذریعے قبل از وقت عام انتخابات کے لیے تیار ہو جائیں۔ اس صورت میں عام انتخابات جون کے بعد ہو سکتے ہیں اور حزبِ اختلاف سے تعلق رکھنے والے ملک کے صدر عارف علوی بھی ایسا عندیہ دے چکے ہیں۔ لیکن تین ماہ کے اندر پنجاب اور خیبرپختونخوا میں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کا انعقاد ممکن نظر نہیں آتا۔ ان کی نظر میں ویسے بھی وفاق اور صوبوں میں الگ الگ انتخابات کے تجربے سے وفاق کو نقصان ہوسکتا ہے۔
سابق نگران وزیرِ اعلیٰ اور سیاسی امور کے تجزیہ کار حسن عسکری کہتے ہیں کہ اصول اور قانون کے مطابق یہ بات ممکن ہے کہ وفاق اور صوبوں میں الگ الگ انتخابات کرائے جائیں لیکن سیاسی اعتبار سے یہ آسان نہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک ناقابل عمل قسم کی صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے کہ دو صوبوں میں فوری انتخابات کرائے جائیں جب کہ چند ماہ کے بعد وفاق اور دیگر صوبوں میں انتخابات ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ دو صوبائی اسمبلیوں میں انتخابات کے باوجود ملک میں سیاسی بے یقینی برقرار رہے گی، ملک کی موجودہ معاشی حالت اس کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ گزشتہ انتخابات میں پنجاب کے نگران وزیرِ اعلیٰ رہنے والے حسن عسکری نے کہا کہ ملک میں نگران حکومتوں کے قیام کا نظام بھی اس انداز سے ترتیب دیا گیا ہے کہ ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات ہوں۔ الگ الگ انتخابات سے غیر جانب داری متاثر ہو گی کیوں کہ صوبوں میں انتخابات کے وقت وفاقی حکومت صوبائی معاملات میں دخل دے گی اور جب وفاق میں انتخابات ہوں گے تو صوبائی حکومتیں اس عمل کی شفافیت کو متاثر کریں گے۔
اس معاملے پر کنور دلشاد کہتے ہیں کہ آئین کے مطابق اسمبلی تحلیل ہونے کے 90 روز کے اندر انتخابات کرانا لازم ہیں اور الیکشن کمیشن چاہے تو اس میں ایک سے دو ماہ کا مزید وقت لے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی ایک مثال 2008 کے عام انتخابات ہیں جب بے نظیر بھٹو کی شہادت کے باعث الیکشن کمیشن از خود انتخابات کی تاریخ کو ڈیڑھ ماہ آگے لے گیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ انتخابات کو 90 دن کے بجائے 120 دن میں کروانے میں کوئی آئینی رکاوٹ نہیں ہوگی کیوں کہ آئین کی شق 234 بھی اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ اگر ناگزیر حالات پیدا ہوجائیں تو الیکشن کمیشن ایسے فیصلے لے سکتا ہے۔ سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ موجودہ حالات میں 90 دن کے اندر انتخابات کے انعقاد کو دیکھا جائے، تو اپریل میں رمضان ہوگا اور سیاسی جماعتوں نے بھی اعتراض شروع کر دیے ہیں کہ رمضان میں انتخابات نہیں ہونے چاہئیں۔ ایسے میں انہیں 90 روز کے اندر انتخابات ہوتے دکھائی نہیں دے رہے اور آئین میں یہ شق موجود ہے کہ عام انتخابات سے چار ماہ قبل ضمنی انتخابات نہیں ہو سکتے تو ان حالات میں یہ صورت بھی نکل سکتی کہ صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن عام انتخابات تک چلے جائیں۔
اپنی رائے دیتے ہوئے حسن عسکری کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے لیے یہ مشکل صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے کیوں کہ وہ انتخابات سے بچنا چاہتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ خراب معاشی حالات میں مہنگائی و بے روزگاری کے سبب حکومت کو اندیشہ ہے کہ عوامی رائے ان کے خلاف جاسکتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وفاقی حکومت انتخابات میں کچھ تاخیر تو کرسکتی ہے لیکن اسے اکتوبر میں عام انتخابات تک التوا میں نہیں ڈال سکتی، کیوں کہ اتنا طویل عرصہ آئینی اعتبار سے قابلِ اعتراض بات ہوجائے گی۔ حسن عسکری کے خیال میں اگر وفاقی حکومت قبل از وقت عام انتخابات کا فیصلہ کرتی ہے تو اس کے لیے پنجاب و خیبر پختونخوا کے انتخابات میں کچھ تاخیر کرنا ممکن ہو پائے لیکن یہ تاخیر ایک دو ماہ سے زائد نہیں ہوسکے گی۔
صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنے کی عمران خان کی حکمتِ عملی سے سیاسی فائدے پر گفتگو کرتے ہوئے کنور دلشاد نے کہا کہ بادی النظر میں عمران خان کی حکمتِ عملی کامیاب دکھائی دے رہی ہے تاہم آنے والے دنوں میں اس کے نتائج مختلف بھی نکل سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب جب کہ پی ٹی آئی کی پنجاب میں صوبائی حکومت ختم ہوچکی ہے، تو ان کی قانونی اور عدالتی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ عمران خان بہت سے مقدمات کا پہلے سے سامنا کر رہے ہیں، اگر وہ ان میں سے کسی کی زد میں آتے ہیں تو اس سے سیاسی صورتِ حال بھی بدل سکتی ہے۔
