راولپنڈی ریلی: عمران کیلئے فول پروف سکیورٹی پلان تیار

سابق وزیراعظم عمران خان پر وزیرآباد میں ہونے والے قاتلانہ حملے کے بعد اب ان کا سکیورٹی پلان مکمل طور پر فول پروف کر دیا گیا ہے اور وہ اسی کے تحت 20 یا 21 نومبر کو اپنے حکومت مخالف لانگ مارچ کی قیادت کرنے راولپنڈی پہنچنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تحریک انصاف کے ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کے راولپنڈی پہنچنے کا بنیادی مقصد جی-ایچ-کیو کے باہر دھرنا دینا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ راولپنڈی پہنچنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ راولپنڈی حکومت پنجاب کی حدود میں آتا ہے جس کے بعد اسلام آباد شروع ہو جاتا ہے جو کہ وفاق کے زیر انتظام ہے۔ لہذا عمران راولپنڈی میں اپنی تمام تر طاقت اکٹھی کرکے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوں گے۔
راولپنڈی میں عمران کے لئے ترتیب دئیے گئے سیکیورٹی پلان کے مطابق ایلیٹ فورس کے جوانوں اور پیشہ ور نشانے باز کمانڈوز سمیت 10 ہزار اہلکار راولپندی میں لانگ مارچ کی حفاظت پر مامور کیے جائیں گے۔ پنجاب پولیس کے 101 اہلکار اور پنجاب ہائی وے پیٹرولنگ پولیس کے 500 اہلکار لانگ مارچ کی حفاظت کیلئے چوکس رہیں گے، مارچ کی سیکیورٹی کے لیے 13 سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اور سپرنٹنڈنٹ پولیس نگرانی کی ذمہ داریاں انجام دیں گے جبکہ 122 کمانڈوز سمیت 38 ایلیٹ فورس کے اہلکار سیکیورٹی کے لیے تعینات کیے جائیں گے۔اسی طرح ٹریفک پولیس کے 1200 افسران، اور 100 خواتین پولیس افسران بھی لانگ مارچ کی سیکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالیں گی۔
یاد رہے کہ عمران خان پر قاتلانہ حملے کے بعد پنجاب کے وزیر اعلی پرویز الہی نے لانگ مارچ کے شرکا کی سیکیورٹی کے لیے فول پروف انتظامات کرنے کا حکم دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق راولپنڈی ڈویژن کے کُل 10 ہزار 500 پولیس اہلکار لانگ مارچ کی سیکیورٹی کے لیے ذمہ داریاں سنبھالیں گے، اسی طرح 34 اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس، 413 سینئیر پولیس اہلکار اور 4 ہزار 307 نچلے درجے کے اہلکار راولپںڈی ڈویژن میں عمران کے لانگ مارچ کے دوران سیکیورٹی خدمات کی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔
یہ فورسز 38 سیکشنز میں بٹی ہوئی ہیں اور ہر سیکشن ہیڈ کانسٹبل، ڈرائیور اور 4 کمانڈوز پر مشتمل ہے، 122 کمانڈوز کے علاوہ 75 متبادل پولیس اہلکار اور ایک ہزار 194 ٹریفک پولیس افسران اور اہلکار لانگ مارچ کے راستے میں براہ راست حفاظت پر مامور ہوں گے جبکہ 101 متبادل فورس اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری نمٹنے کے لیے سینئیر اہلکار اور متبادل فورس کے ایک ہیڈ کانسٹبل سمیت پنجاب ہائی وے پولیس کے 500 افسران سٹینڈ بائی رہیں گے۔
اسکے علاوہ 2 ایس ایس پی اور ایس پی، 5 اے ایس پی اور ڈی ایس پی، 80 اوپر درجے کے ذیلی اہلکار، 2 ہزار 257 نچلے درجے کے ذیلی اہلکار، 25 خواتین پولیس افسران اور سرکاری اہلکار، 370 ٹریفک پولیس اہلکار اور سرکاری اہلکار لانگ مارچ کی سیکیورٹی کے لیے ذمہ داریاں سنبھالیں گے جبکہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پنجاب ہائی وے پیٹرولنگ پولیس کے 5 افسران اسٹینڈ بائی رہیں گے۔ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ جب راولپنڈی ضلع کی حدود میں داخل ہوگا تو 5 ہزار 100 سے زائد پولیس سیکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے، راولپنڈی کے سٹی پولیس افسر شہزاد ندیم بخاری اور ایس ایس پی آپریشن وسیم ریاض خان سمیت 8 ایس ایس پی اور ایس پی، 19 اے ایس پی اور ڈی ایس پی، 253 اوپر درجے کے ذیلی اہلکار اور 981 نچلے درجے کے ذیلی اہلکار، 66 خواتین پولیس اہلکار، راولپنڈی ضلع کے 15 سیکشن کے ایلیٹ فورس اہلکار اور 122 نچلے درجے کے ذیلی اہلکار، 565 سٹی ٹریفک پولیس کے اہلکار، 75 متبادل پولیس اہلکار سیکیورٹی کی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔
اسی طرح ایک ایس ایس پی، 5 اے ایس پی اور ڈی ایس پی، 50 اعلیٰ افسران، 241 نچلے درجے کے ذیلی اہلکار، 40 ٹریفک پولیس افسران اور اہلکار حفاظت پر معمور ہوں گے جبکہ 14 متبادل پولیس اہلکار بھی پنجاب کے ضلع اٹک میں تعینات کیے جائیں گے، کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 2 لاکھ پولیس اہلکار سٹینڈ بائی رہیں گے جبکہ ڈی ایس پی، 30 اوپر درجے کے ذیلی اہلکار، 828 نچلے درجے کے ذیلی اہلکار، 23 سیکشن کے ایلیٹ فورس، 21 سیکشن کے ٹریفک پولیس، 3 افسران اور اہلکار ذمہ داریاں سنبھالیں گے جبکہ 12 متبادل فورس کے سرکاری اہلکار کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہیں گے، اس کے علاوہ پی ٹی آئی کے قافلے کی ویڈیوز کے ذریعے مانیٹرنگ کیساتھ شہری علاقوں میں کلوز سرکٹ ٹی وی کیمروں سے مانیٹرنگ کے بھی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
