” رکھوالوں ” کے لئے سو جوتے اور سو پیاز کس نے کھائے؟


سنئیر صحافی اور کالم نگار نصرت جاوید کہتے ہیں کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے باہر نکلوانے کا کریڈٹ موجودہ حکومت یا تحریک انصاف کا نہیں بلکہ ” وطن عزیز کی جان ، مال اور عزت کے اصل رکھوالوں ” کا ہے ۔آج سے دو سال قبل ایف اے ٹی ایف کی شرائط پوری کرنے کے حوالے سے پارلیمنٹ نے جو قانون سازی کی اس کے لئے اس وقت کی اپوزیشن اور تحریک انصاف حکومت کے درمیان سیم پیج والے مہربانوں نے ” مک مکا ” کروایا گیا تب ہی یہ قوانین بآسانی منظور ہوئے تھے ۔ اپنے تازہ کالم میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ عملی اعتبار سے پاکستان اس وقت بھی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ پر ہے۔میری بات پر شک ہے تو کسی قریبی بینک چلے جائیں۔وہاں موجود شناسائوں سے گفتگو کریں تو آپ کو بخوبی علم ہوجائے گا کہ اگر آپ ہر حوالے سے جائز دِکھتے کسی سودے یا اپنے بچوں کی غیر ملک میں کفالت کے لئے ’’صاف ستھرے‘‘ ٹھہرائے بینک اکائونٹ میں جمع ہوئی رقم میں سے یکمشت دس ہزار امریکی ڈالر سے محض ایک ڈالر بھی زیاد ہ بھیجنا چاہیں تو ’’ ٹلیاں‘‘ کھڑک جائیں گی۔

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ ہمیں 2018میں اپنی گرے لسٹ پر ڈالنے والے ادارے کا حال ہی میں جو اجلاس منعقد ہوا اس نے پاکستان کی جانب سے فیٹف کے تقاضوں کے مطابق قوانین کی تیاری اور ان کے اطلاق کی بابت اطمینان کا اظہار کیا ہے۔اس کے باوجود اکتوبر میں فیٹف کا ایک وفد ہمارے ہاں آکر اپنی شرائط بروئے کار لانے والے عمل کا جائزہ لے گا۔قوی امید ہے کہ وہ مطمئن ہوجائے گا۔ مگر ایک انگریزی محاورہ چائے کی پیالی کے لب تک آنے کے درمیان وقفے کی بابت خبردار رہنے کا مشورہ بھی دیتا ہے۔احتیاط لہٰذا لازمی ہے۔قبل از وقت جشن منانے کی ضرورت نہیں تھی۔

نصرت کے مطابق ہمارے ہاں ڈھول اگرچہ کھڑکنا شروع ہوگئے۔فیٹف کا برلن میں اجلاس ابھی جاری تھا تو موجودہ حکومت اور تحریک انصاف کے مابین پاکستان کو اس ادارے کی گرے لسٹ سے باہر نکلوانے کا کریڈٹ لینے کا مقابلہ شروع ہوگیا۔ دونوں جانب سے بڑھک بازی جاری تھی کہ وطن عزیز کی جان،مال وعزت کے اصل رکھوالوں کو تفصیلی بیان جاری کرنا پڑا۔اس کے ذریعے قوم کو سمجھادیا گیا کہ ایک دوسرے کو ’’چور اور لٹیرے‘‘ پکارنے کے عادی سیاست دانوں کو فیٹف کی تسلی کے لئے قوانین کی تیاری کی جانب جی ایچ کیو نے بہت تیاری کے بعد راغب کیا تھا۔یہ دعویٰ جھٹلایا نہیں جاسکتا۔
نصرت جاوید یاد دلاتےہیں کہ آج سے تقریباََ دو سال قبل فیٹف کی تسلی کے لئے قانون سازی کے عمل کا آغاز ہوا تھا۔ پارلیمانی روایات کے مطابق جب حکومت کوئی نیا قانون منظور کروانا چاہتی ہے تو اس کا تیار شدہ مسودہ قومی اسمبلی اور سینٹ کے روبرو پیش کیا جاتا ہے۔وہاں پیش ہوجانے کے بعد مذکورہ قانون دونوں ایوانوں کی متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوادیا جاتا ہے۔ان کمیٹیوں کے اجلاسوں میں تیار شدہ مسودے پر تفصیلی غور کے بعد قانون کو حتمی صورت فراہم کردی جاتی ہے۔ وہ میسر ہوجائے تو ایوان میں سادہ اکثریت کی زبانی ’’ہاں‘‘ کے ذریعے قانون سازی ہوجاتی ہے۔

فیٹف کی تسلی کے لئے تیار ہوئے قوانین کے ساتھ ایسا ہرگز نہیں ہوا۔قوانین کا جو پلندہ تیار ہوا تھا ان کے مسودے کو براہ راست ایوان میں پیش کرنے سے قبل ان دنوں کی اپوزیشن جماعتوں سے رابطے ہوئے۔ یہ رابطے اپوزیشن رہ نمائوں کو مسلسل ’’چور اور لٹیرے‘‘ پکارنے والی عمران حکومت کی جانب سے نہیں ہوئے تھے۔ یہ فریضہ کسی ’’اور‘‘ نے نبھایا۔ بالآخر سورج ڈھلنے کے بعد ان دنوں قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر کے لئے مختص سرکاری گھر میں حکومت اور اپوزیشن نمائندوں کے مابین رات گئے تک مشاورت کئی دنوں تک جاری رہی۔ نصرت جاوید کہتے ہیں کہ اپوزیشن والوں کو رابطہ کرنے والوں نے تاثر یہ بھی دے رکھا تھا کہ اگر فیٹف کی تسلی کے لئے تیار ہوئے قوانین ’’وسیع تر قومی مفاد‘‘ میں جلد ازجلد تیار اور لاگو کردئیے جائیں تو نیب کے فرعونی اختیارات نرم کرنے کا آغاز بھی ہوجائے گا۔طویل مشاورت کے بعد کچھ ’’مک مکا‘‘ ہوا نظر آیا۔

نصرت جاوید بتاتے ہیں کہ مک مکا ہوگیا تو ان دنوں کے وزیر قانون فروغ نسیم نے فیٹف کی تسلی کے لئے تیار ہوئے قوانین کو ایوان میں منظوری کے لئے پیش کردیا۔ انہیں جلد از جلد منظور کروانے کی استدعا سے قبل فراغ دلی سے اپوزیشن کے حکومت سے مذاکرات کرنے والوں کی محب وطن ’’فراست‘‘ کو منافقانہ خلوص سے سراہا۔مذکورہ قوانین کو زبانی ’’ہاں‘‘ یا ’’نہیں‘‘ کے لئے پیش ہونے کا انتظار ہورہا تھا تو ان دنوں کے وزیر خارجہ جناب شاہ محمود قریشی دندناتے ہوئے ’’اچانک‘‘ ایوان میں در آئے۔ یہ دعوی کرتے ہوئے ہم سب کو حیران کردیا کہ اپوزیشن والے ’’وسیع تر قومی مفاد‘‘ میں تیار ہوئے قوانین کی منظوری کے عوض اپنے ’’چور اور لٹیرے‘‘ رہ نمائوں کے لئے ’’این آر او‘‘ مانگ رہے ہیں۔اپنے دعویٰ کو ثابت کرنے کے لئے انہوں نے ایک کاغذ بھی ہوا میں لہرایا جو ان کے بقول اپوزیشن کی جانب سے احتساب قوانین کی سخت گیری نرم کرنے کی تجاویز کو ’’بے نقاب‘‘ کررہا تھا۔اپوزیشن کی ’’خود غرضی‘‘ کو دھڑلے سے ’’بے نقاب‘‘ کرنے کے بعد قریشی صاحب نے نہایت حقارت سے یہ اعلان بھی کردیا کہ ان کے قائد عمران خان بضد ہیں کہ ’’چوروں اور لٹیروںکو کسی صورت این آر او‘‘ نہیں دیا جائے گا۔اس کی وجہ سے اقتدار سے ہاتھ بھی دھونا پڑے تو فکر کی کوئی بات نہیں۔

نصرت جاوید کے مطابق جبلی طورپر کائیاں شاہ محمود قریشی کو بخوبی علم تھا کہ وہ برسرعام اپوزیشن کی جتنی بھی بے عزتی کرتے رہیں اپوزیشن والے ان سے رابطہ کرنے والوں سے بندے کا پتر بنے رہنے کا وعدہ کرچکے ہیں۔حقیقت یہ بھی ہے کہ ان دنوں کی اپوزیشن نے اپنا وعدہ نبھایا۔سوجوتوں کے ساتھ سوپیاز بھی ’’وسیع تر قومی مفاد‘‘ میں کھاتے رہے۔ یہ سوال اٹھانے کی بھی جرأت نہ دکھاپائے کہ پاکستان فیٹف کی گرے لسٹ میں کن وجوہات کی بنیاد پر ڈالا گیا تھا۔ ان کی عاجزانہ خاموشی نے گرے لسٹ سے پاکستان کو نکلوانے کی خاطر بنائے قوانین کی ریکارڈ ساز عجلت میں قومی اسمبلی سے منظوری میں آسانی فراہم کی۔مذہب کے نام پر سیاست میں آئی جماعتوں کے نمائندوں ہی نے تھوڑی مزاحمت دکھائی۔وہ اگرچہ نہ ہونے کے برابر تھی۔

بعدازاں یہ قوانین سینٹ میں منظوری کے لئے پیش ہوئے ۔ پیپلز پارٹی کے مرحوم سینیٹر رحمن ملک ان کی عاجلانہ منظوری یقینی بنانے کے لئے ہمہ وقت متحرک رہے۔مسلم لیگ (نون) کا رویہ بھی دوستانہ تھا۔’’بندے کا پتر‘‘ بنائی اپوزیشن کی عاجزی کا حکمران جماعت نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ان دنوں سینٹ میں تحریک انصاف کی جانب سے نامزد ہوئے قائد ایوان ڈاکٹر وسیم شہزاد تواتر سے ہم جاہلوں کو سمجھانا شروع ہوگئے کہ پاکستان فیٹف کی گرے لسٹ میں اس لئے ڈالا گیا تھا کیونکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (نون) کے قائدین نے ’’حرام کی کمائی‘‘ کو ’’منی لانڈرنگ‘‘ کے ذریعے بیرون ملک منتقل کیا اور وہاں کے مہنگے ترین علاقوں میںقیمتی جائیدادیں خریدلیں۔وہ جائیدادیں فیٹف کی نگاہ میں آئیں تو پاکستان کو گرے لسٹ میں پھینک دیا گیا۔

ان دنوں کی اپوزیشن کا کوئی ایک سینئر رہنما بھی ایوان بالا میں کھڑے ہوکر یہ حقیقت بیان کرنے کی جرأت نہ دکھاپایا کہ فیٹف کو ’’حرام کی کمائی‘‘ سے کوئی دلچسپی نہیں۔اس کا اصل مقصد ’’دہشت گردی‘‘ کی سرمایہ کاری کے امکانات کو ختم کرنا ہے۔وہ خاموش رہے تو ڈاکٹر وسیم شہزاد مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی کے سینیٹروں کو تواتر سے رائے ونڈ اور بلاول ہائوس کے ’’غلام‘‘ بھی پکارنا شروع ہوگئے۔

اپنی قیادت کی خاموشی کی وجہ سے ’’غلام‘‘ٹھہرائے مصطفیٰ نواز کھوکھر اور ڈاکٹر مصدق ملک بالآخر پھٹ پڑے۔پرویز رشید نے بھی ڈٹ کر ان کا ساتھ دیا۔اپنی تذلیل سے غضب ناک ہوکر مصطفیٰ نواز اور مصدق ملک نے جو ہنگامہ کھڑا کیا اس نے عمران حکومت کے ’’سیم پیج‘‘ والے مہربانوں کو پریشان کردیا۔وہ متحرک ہوئے تو بقیہ قوانین بھی بالآخر بآسانی منظور ہوگئے۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ مجھے قطعاََ سمجھ نہیں آرہی کہ حالیہ تاریخ کو یکسر بھلاتے ہوئے ہمارے سیاستدان کس منہ سے پاکستان کو فیٹف کی گرے لسٹ سے نکلوانے کا کریڈٹ لینے کو مرے جارہے ہیں؟

Back to top button