ریاست سر پھرے صحافیوں کو خاموش کروانے میں ناکام کیوں؟


خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے سر پھرے صحافی مطیع اللّہ جان نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کی سیاہ کاریوں کا پردہ چاک کرنے والے بےباک صحافیوں کو اغوا کرنے کا مقصد ان کے باقی ساتھیوں کو خاموش کروانا ہوتا ہے۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے مطیع اللہ جان نے کہا ہے کہ صحافی بہت آسان ہدف ہیں، ان کو تختۂ مشق بنا کر پورے معاشرے کو پیغام دیا جاتا ہے کہ بولنا نہیں ہے ورنہ تمہارا بھی یہی انجام ہوگا۔ انکے خیال میں سرپھرے صحافیوں کی آواز دبانا اس لئے بھی ضروری ہے کہ عام لوگوں کو بھی ڈرایا دھمکایا جاسکے، اور یہ پیغام دیا جاسکے اگر وہ بھی زبان بند رکھیں گے تو انکے حق میں بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بولنے والے صحافیوں کو نشان عبرت بنا کر یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ دیکھ لو، یہاں تو مطیع اللّہ جان، ابصار عالم، اسد علی طور اور حامد میر جیسوں کے ساتھ یہ سب ہو رہا ہے، لہذا تم لوگ کس کھیت کی مولی ہو۔
یاد رہے کہ اسلام آباد کے صحافی مطیع اللّہ جان کو 21 جولائی 2021 کو اسلام آباد سے انہی “نامعلوم افراد” نے زبردستی اغوا کر لیا تھا جن کے بارے میں سب جانتے ہیں لیکن بولتا کوئی نہیں۔ اس واردات میں انہیں زبردستی لے جانے والے افراد کی چہرے سی سی ٹی وی فوٹیج میں ریکارڈ اور بالکل واضح تھے مگر پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے بارے میں کوئی سراغ ملا، نہ ہی سی سی ٹی وی فوٹیج سے انکی نشاندہی ہو سکی۔ اور عدالت نے بھی پولیس کے موقف پر یقین کرلیا کیونکہ نامعلوم افراد کو بے نقاب کرنا خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔
مطیع اللہ جان کے بقول یہ ہے وہ ففتھ جنریشن وار جو پاکستان کی اپنی ہی عوام کے خلاف لڑی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم ماضی سے سبق نہیں سیکھتے، لیکن یاد رکھیے کہ عوام کا گلا گھونٹ دینے سے بات نہیں بنتی، ایک دن یہ بند ٹوٹ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج نوجوان نسل کی ذہن سازی ہو رہی ہے۔ “قومی مفاد” کا نام نہاد نظریہ پیش کیا جا رہا ہے۔ ہمارے معاشرے کی جینیٹک انجینیرئنگ ہو رہی ہے اور آج کے پاکستان میں صحافت کی صورتحال اس شعر میں بیان کی جاسکتی ہے:
اتنے مانوس صیاد سے ہوگئے
اب رہائی ملی بھی، تو مر جائیں گے
دوسری جانب جیو ٹی وی سے بطور اینکر فارغ کیے جانے والے سینئر صحافی طلعت حسین نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مجھے تو انتظامیہ نے یہاں تک کہہ دیا رھا کہ یا تو اہنا پروگرام کرلیں یا ٹوئیٹس کر لیا کریں، حالانکہ ٹوئیٹ تو ذاتی رائے کا اظہار ہے۔ مگر طلعت حسین اسٹبلشمنٹ کے علاوہ کپتان حکومت کو بھی صحافیوں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ انکا۔کہنا ہے کہ عمران جیسی حکومتیں کم آئی ہیں جنہوں نے اتنے کھلے انداز سے سنسرشپ نافذ کی ہو، سوشل میڈیا پر صحافی حضرات کے خلاف جھوٹ بولا ہو، الزامات لگائے ہوں۔ انکا۔کہنا تھا کہ میڈیا پر ماضی قریب میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کا دباؤ بھی رہا ہے لیکن اب اتنا نہیں ہے جتنا دو سال پہلے تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک زمانے میں جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع پر بات کرنے پر مسئلہ ہو جاتا تھا۔ پھر عمران خان جن انتخابات کے ذریعے آئے تھے انہیں متنازعہ کہنے سے بھی مسئلہ بن جاتا تھا۔ لفظ اسٹیبلشمنٹ بھی استعمال نہیں ہوسکتا تھا۔
طلعت کہتے ہیں کہ ہر صحافی کی اپنی ایک ایڈیٹوریل لائن ہوتی ہے۔ میری لائن یہ ہے کہ پاکستان میں فوج پر تنقید "عسکری معاملات” کی وجہ سے نہیں ہوتی۔ فوج پر تنقید تب ہوتی ہے جب وہ اپنے دائرہ کار سے تجاوز کر کے سیاست میں گھستی یے۔ میں دفاعی اخراجات اور جوہری امور کے حق میں ہوں، بھارت اور کشمیر سے متعلق تو ہم ایک پیج پر ہیں۔ لیکن جب آپ سیاسی معاملات میں الجھیں گے تو سیاسی جوڑ توڑ پر تنقید ہوتی ہے، میڈیا پر بھی اور سوشل میڈیا پر بھی۔ عدالتوں میں بھی دیکھ لیں جسٹس صدیقی نے کیا کہہ دیا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کیا نہیں کہہ دیا۔ ہم تو سیدھی بات کرتے ہیں کہ انتخابات کو نہ الٹائیں، سیاسی جماعتوں میں توڑ پھوڑ نہ کروائیں۔ طلعت کے بقول جتّھہ بندوں کے ذریعے سوشل میڈیا پر آزاد منش صحافیوں کے خلاف ٹرولنگ کروائی جاتی ہے۔ میرے اپنے خاندان کے خلاف غلیظ مہم چلائی گئی۔ میں ایف آئی اے کے پاس گیا، تو حکام نے بتایا کہ 5 ویب سائیٹس ہیں جن سے یہ ہو رہا ہے مگر تین کو ہم ہاتھ بھی نہیں لگا سکتے کیوں کہ یہ “بادشاہ لوگ” چلاتے ہیں۔ وہ آپ کو پتہ ہی ہے کہ کون ہیں۔ تو میرا کیس وہیں پڑا رہ گیا۔ آج کے دور۔میں ایک غیر اعلانیہ پابندی عائد یے، یہاں ایک ڈیپ اور سٹرکچرڈ سینسرشپ چل رہی ہے۔ صحافیوں کو سیلف سینسرشپ اختیار کرنا پڑتی ہے۔ طلعت حسین کے بقول، مالکان کے مفادات کا تعلق اشتہارات سے ہے۔ جس ملک میں جسٹس فائز عیسیٰ کے خاندان کے ساتھ وہ ہو سکتا ہے ،جو ہوا، جہاں تین مرتبہ کا وزیر اعظم ملک واپس نہیں آ سکتا، وہاں صحافی بہتری کی توقع کیسے کر سکتے ہیں؟
ان الزامات کے تناظر میں بات کرتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ ایک مختلف نقشہ کھنچتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ پاکستان میں اب آہستہ آہستہ حکومت پر تنقید کرنے کی پابندی تو ختم ہو رہی ہے مگر طاقتور اداروں پر جو صحافی تنقید کرتے ہیں انہیں سائیڈ لائن کر دیا جاتا ہے لہذا جبر کے ایک خاص ماحول میں کام کرنا پڑتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ مشکل کام ہے مگر ہمارا کام ہی مشکل حالات میں کام کرنا ہے۔ انہون نے کہا کہ مغرب میں سنسر شپ ایک عجیب یا غیر معمولی بات سمجھی جاتی ہے، لیکن پاکستان میں اُسے ایک معمول مان لیا گیا ہے، عام رویّہ تسلیم کرلیا گیا ہے۔ جبر کو قبول کرلیا گیا ہے۔

Back to top button