بی بی قتل کیس کے مرکزی ملزم کو ڈرون حملے میں کیوں مارا گیا؟

دسمبر 2007 میں بے نظیر بھٹو کی شہادت کے 14 برس بعد اب اب پیپلز پارٹی دور کے سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے دعویٰ کیا ہے کہ بی بی قتل کے مرکزی سرغنہ عباد الرحمٰن عرف چٹان کو خیبر ایجنسی میں ایک ڈرون حملے میں مار دیا گیا تھا اور اہم بات یہ ہے کہ یہ فاٹا کی خیبر ایجنسی میں کیا جانے والا واحد ڈرون حملہ تھا جو چٹان نامی دہشت گرد کو مارنے کیلئے کیا گیا حالانکہ کوشش کی جاتی تو اسے زندہ بھی گرفتار کیا جا سکتا تھا۔ یاد رہے کہ پاک افغان سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف ڈرون حملے ہمیشہ امریکن سی آئی اے کی زیر نگرانی کیے جاتے رہے ہیں۔
محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے وقت ان کی سکیورٹی کے انچارج رحمٰن ملک نے اپنی کتاب ’محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت‘ میں سانحے سے متعلق اہم دعوے کیے ہیں۔ یہ کتاب 28 ابواب پر مشتمل ہے، جس میں قتل میں ملوث تمام کرداروں بارے تفصیلات دی گئی ہیں۔ یاد رہے کہ محترمہ کی شہادت کے بعد 2008 میں پیپلز پارٹی نے مرکز میں حکومت بنائی تھی لیکن ان کے قتل کے اصل ذمہ داران کو تلاش نہ کیا جا سکا۔ رحمان ملک نے اس تاثر کی نفی کی ہے کہ پیپلز پارٹی اپنے پانچ سالہ دورِ حکومت میں بینظیر بھٹو شہید قتل کیس کی تحقیقات مکمل کرنے اور ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے میں ناکام رہی، انکا کہنا ہے کہ یہ تاثر بے بنیاد ہے.
رحمان ملک کے مطابق بینظیر بھٹو کافی عرصے سے دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر تھیں، القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن نے انہیں سیاست سے نکالنے کے لیے پیسے کا استعمال بھی کیا۔ رحمٰن ملک نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل میں ملوث تمام افراد کی شناخت، گرفتاریاں اور ٹرائل کیا گیا، مجاز عدالت نے مجرموں کو سزا بھی سنائی، سوائے ان کے جو پراسرار طور پر مارے گئے یا مفرور ہیں، منصوبہ سازوں، ہینڈلرز اور سہولت کاروں کے پراسرار قتل کی تفصیلات کتاب میں دی گئی ہیں، قتل کے منصوبے کے مرکزی سرغنہ عباد الرحمٰن عرف چٹان کو خیبر ایجنسی میں ڈرون حملے میں مارا گیا، یہ خیبر ایجنسی میں واحد ڈرون حملہ تھا جو عبادالرحمٰن عرف چٹان کو مارنے کیلئے کیا گیا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے بی بی قتل کیس پنجاب پولیس سے ایف آئی اے کو منتقل کیا تھا، کیس کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ اختیاراتی جے آئی ٹی تشکیل دی گئی تھی، تمام مشکلات اور خفیہ قوتوں کی طرف سے خلل ڈالنے کے باوجود جے آئی ٹی ملزمان کو گرفتار کرنے میں کامیاب رہی، جے آئی ٹی نے قتل کے ملزمان کو انصاف کے کٹہرے تک پہنچایا، بعد میں لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے 5 دہشت گردوں کی ضمانت منظور کی، ان پانچ دہشت گردوں کو ای سی ایل میں شامل کرنے کیلئے اس وقت کے وزیرِداخلہ کو خط لکھا تھا۔
سابق وزیرِ داخلہ کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کے دہشت گرد عبدالرشید، اعتزاز شاہ، رفاقت حسین، حسنین گل اور شیر زمان کے کردار کتاب میں تفصیک سے بیان کیے گے ہیں، امریکا سے ڈی این اے کروائے گے جن سے اصل مجرمان کو شناخت کیا گیا، سازش کے سرغنہ مولوی نصیب اللّٰہ کو درۂ آدم خیل کے قریب مارا گیا، دوسرا خودکش حملہ آور اکرام اللّٰہ اس وقت ٹی ٹی پی کے امیر نور ولی محسود کے ساتھ افغانستان میں موجود ہے، افغانستان میں اکرام اللّٰہ پر 2 قاتلانہ حملے ہوئے جن میں وہ بچ گیا، اس نے ایک بی بی سی کو انٹرویو دینے کا فیصلہ کیا لیکن اس سے ایک دن قبل اس پر حملہ ہو گیا، جس میں اکرام اللّٰہ بچ گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے وزارتِ داخلہ کو 4 خطوط لکھے، اور مطالبہ کیا کہ اکرام اللّٰہ کو ڈی پورٹ کرنے کیلئے افغانستان و انٹر پول سے درخواست کی جائے، ٹی ٹی پی کے موجودہ سربراہ مفتی نور ولی نے اپنی کتاب میں بینظیر بھٹو شہید کے قتل کا اعتراف کیا، قتل کی سازش مولانا سمیع الحق مرحوم کی زیر نگرانی چلنے والے مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے کمرہ نمبر 96 میں عبادالرحمٰن نے تیار کی تھی، تحریک طالبان پاکستان کے بانی سربراہ بیت اللّٰہ محسود نے حملے کے لیے دو خودکش بمبار مہیا کیے تھے جو ایک رات کمرہ نمبر 96 میں رہے، نصر اللّٰہ 26 دسمبر 2007ء کو راولپنڈی میں خودکش حملہ آور لایا تھا، نصر اللّٰہ کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے آپریشن کے دوران مارا۔ رحمٰن ملک نے کہا کہ کیس اب ہائی کورٹ میں فیصلے کے لیے زیرِ التواء ہے، امید ہے کہ بھٹو خاندان اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو ایک دن انصاف ملے گا۔
رحمان ملک کا کہنا تھا کہ تب کی حکومت نے بینظیر بھٹو کو بلیو بک کے مطابق ہائی سیکیورٹی نہیں دی تھی، جب 27 دسمبر 2007 کو پنڈی میں نواز شریف پر حملہ ہوا تو محترمہ کا سکیورٹی حصار ختم کرکے فورس وہاں بھیج دی گئی، اور پھر قتل کے فوری بعد کرائم سین کو دھو دیا گیا جس سے اہم ثبوت ضائع ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ کی شہادت ایک بہت بڑی سازش تھی لیک اب عمران خان حکومت محترمہ بے نظیر بھٹوکی قاتل ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے جس کی میں مخالفت کرتا ہوں، تحریکِ طالبان نے ہمیں زخم دیے ہیں، وہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے، رحمان ملک نے کہا کہ میں افغان حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ بی بی شہید قتل کیس کا مرکزی ملزم اکرام اللّٰہ پاکستان کے حوالے کرے۔
تاہم رحمن ملک نے بی بی قتل کیس کے حوالے سے چند اہم ترین سوالوں کا جواب نہیں دیا۔ پہلا سوال یہ کہ بی بی پر لیاقت باغ راولپنڈی کے باہر حملے کے فورا بعد وہ جائے وقوعہ سے کیوں فرار ہو گئے تھے بجائے کہ انہیں ہسپتال پہنچاتے۔ دوسرا سوال یہ کہ انہوں نے بی بی کے قتل کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے والے ہرکاروں پر تو پوری کتاب لکھ ماری لیکن وہ اس قتل کے پیچھے موجود اصل خاکی منصوبہ سازوں کا نام لینے سے گریزاں ہیں جن کی نشاندہی اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ میں بھی کی گئی تھی۔ رحمان ملک یہ بھی بھول گئے کہ بینظیر بھٹو کے قتل کا مرکزی ملزم سابق فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف ہے جسےبی بی شہید نے اپنی زندگی میں ہی اپنا ممکنہ قاتل نامزد کر دیا تھا۔ سابق وزیر داخلہ نے اس سوال کا بھی جواب نہیں دیا کہ جب اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ میں بی بی کے قتل کے حوالے سے مشرف حکومت کے زیر سایہ کام کرنے والی فوجی ایجنسیوں کے کردار پر سوالات اٹھائے گئے تھے تو پھر انکی حکومت نے اس یو این رپورٹ پر عدم اعتماد کیوں کر دیا تھا؟
