ریسٹورنٹس،مارکیٹیں8، شادی ہالز رات10 بجے بند کرنے کا فیصلہ

حکومت نے توانائی کی بچت کرنے کے لیے شادی ہالوں کے اوقات رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس اور مارکیٹوں کے اوقات کاررات 8 بجے تک مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسلام آباد میں وفاقی کابینا کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ شادہ ہالوں کےاوقات رات 10 بجے تک محدود کئے جائیں گے اور ریسٹورنٹ اور مارکیٹیں رات 8 بجے تک بند ہو جائیں گی مگر ریسٹورنٹس کے لیے گنجائش ہے کہ شاید ان کیلئے ایک گھنٹہ مزید بڑھایا جائے لیکن ان اقدامات سے 62 ارب روپے کی بچت ہوگی۔ پالیسی کے نفاذ کے لیے چاروں صوبوں سے رابطہ کریں گے کیونکہ یہ ایک قومی پروگرام ہے جس کو صوبوں کی مشاورت سے شروع کرنا لازمی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں مارکیٹیں 6 بجے کے بعد بند ہوجاتی ہیں مگر پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں مارکیٹیں رات کو 12 بجے تک کھلی ہوتی ہیں جبکہ صبح کو 12 سے 2 بجے تک مارکیٹیں کھولی جاتی ہیں جس کی وجہ سے سورج کی روشنی سے مستفید نہیں ہوتے، پہلے مارکیٹیں شام کو بند ہو جاتی تھیں مگر اب نیا رواج چل پڑا ہے اس لیے ہمیں اپنی وعادات کو تبدیل کرنا ہوگا اور ہمیں اگر اپنے وسائل میں رہنا ہے تو اپنے ذرائع کے مطابق رہنا ہوگا۔
انکا کہناتھا کہ 7 ماہ سے اس پالیسی پر کام چل رہا تھا مگر اب صوبوں سے مشاورت کریں گے اور انہیں اس بات پر راضی کریں گے کہ قومی ایمرجنسی کے لیے اس پالیسی کو اپنانا ہوگا، تین چار دنوں سے وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں کابینا کا اجلاس ہوا ہے جس میں قوم کو محدود وسائل میں رہنے کے لیے کفایت شعاری کی پالیسی دینے پر تبادلہ خیال ہوا ہے جس پر 22 دسمبر کو عمل شروع کیا جائے گا اور اس سلسلے میں صوبوں سے بھی رائے لی جائے گی۔
وزیر دفاع نے اپنا تخمینہ بتاتے ہوئے کہا کہ اگر سرکاری دفاتر کا 20 فیصد عملہ گھر سے کام کرے تو اس سے سالانہ 56 ارب روپے بچ سکتے ہیں، گھروں اور دفاتر میں پرانے پنکھوں پر 120 سے 130 یونٹ بجلی خرچ ہوتی ہے مگر ان کی جگہ نئے پنکھے آگئے ہیں جو 40 سے 60 یونٹ پر چلتے ہیں تو اس سے بھی 15 ارب روپے سالانہ بچائے جا سکتے ہیں اسی طرح پرانے بلبوں کی جگہ نئے بلب لگانے سے 23 ارب روپے بچائے جا سکتے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا گھروں میں چھوٹے چھوٹے اقدامات سے سالانہ 6 ہزار میگاواٹ بجلی محفوظ کی جا سکتی ہے کیونکہ توانائی کا نظام ایندھن پر چلتا ہے اور جب تک قابل تجدید توانائی پر منتقل ہوں ہمیں یہ اقدامات کرنے ہوں گے، گیس پر چلنے والت گیرز میں کونیکل بیفل کے لیے گیس فراہم کرنے والی کمپنیوں سے بات کریں گے تاکہ وہ معیار کے مطابق اس پر عمل کریں جس سے سالانہ 92 ارب روپے کی بچت ہوگی۔
