ریپ کیس:مرکزی ملزم شفقت گرفتار، اعتراف جرم کر لیا

پنجاب پولیس نے موٹروے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد کے دوست شفقت کو گرفتار کرلیا جس نے پولیس کےسامنے اعتراف جرم کرلیا ہے۔ ملزم نے گرفتاری کے بعد پولیس کو دئیے گئے بیان میں کہا ہے کہ اس نے عابد کے ساتھ مل کر ڈکیتی کی اور ڈکیتی کی واردات کے بعد خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا.
سی آئی اے پولیس نے موٹروے زیادتی کیس میں ایک اور ملزم شفقت کو گرفتارکیا جسے گزشتہ روز خود سے گرفتاری دینے والے ملزم وقارالحسن کی نشاندہی پر گرفتار کیا گیا ہے۔شفقت کو دیپالپور سے حراست میں لیا گیا اور اسے لاہور منتقل کردیا گیا ہے۔ شفقت کا تعلق بہاولنگر کی تحصیل ہارون آباد سے ہے.پولیس ذرائع کے مطابق ملزم شفقت سابقہ ریکارڈ یافتہ ہے اور اس نے پولیس کے سامنے اعتراف جرم کر لیا ہے۔ شفقت پنجاب میں مختلف گینگز کے ساتھ منسلک رہا ہے. شفقت علی اور اس کا خاندان پہلے بھی جرائم میں ملوث رہا ہے۔ملزم شفقت علی نے عابد کے ساتھ مل کر 11 وارداتیں کیں. تحقیقاتی اداروں نے مرکزی ملزم عابد کے ایک اور دوست کو بھی حراست میں لے کر تفتیش شروع کردی ہے۔ زیرحراست شخص شیخوپورہ کا رہائشی ہے۔
5f5f7bf2910cd
شفقت کا ڈی این اے ٹیسٹ کروایا گیا جس میں اس کا ڈی این اے بھی میچ کر گیا ہے. پولیس نے گذشتہ روز شفقت نامی شخص کو گرفتار کیا تھا۔ملزم شفقت کو وقار الحسن کی نشاندہی پر گرفتار کیا گیا تھا۔ملزم شفقت عابد علی کا قریبی دوست بتایا جاتا ہے۔پولیس نے ملزم شفقت کو گذشتہ روز دیپالپور سے گرفتار کیا تھا جس کا ڈی این اے کے لیے سیمپل لیا گیا تھا،ملزم کے ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ آئی تھی جس کے مطابق ملزم کا ڈی این اے خاتون کے ساتھ میچ کر گیا ہے۔ دوسری طرف سینئر صحافی فریحہ ادریس نے بتایا کہ موٹروے زیادتی کیس کی متاثرہ خاتون کو جب ملزم شفقت کی شناخت کروائی گئی تو متاثرہ خاتون نے ملزم شفقت کی تصدیق کردی ہے۔خاتون نے ملزم شفقت کو شناخت کرلیا ہے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دیپالپور سے حراست میں لیے گئے ملزم شفقت نے دورانِ تفتیش خاتون سے زیادتی کا اعتراف کرلیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ اور ملزم عابد ڈکیتی کی غرض سے موٹروے پر موجود تھے جہاں انہوں نے ایک کار کو دیکھا تو کار کی ریکی کی۔ ذرائع کے مطابق شفقت نے مزید بتایا کہ وہ اور عابد ڈکیتی کی غرض سے کار کے پاس گئے جہاں انہوں نے پہلے خاتون سے لوٹ مار کی اور پھر نیچے کھائی میں لے جاکر خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ملزم شفقت علی نے پولیس کو دئیے گئے اعترافی بیان میں بتایا ہے کہ میں نےعابد کے ساتھ مل کر 11 وارداتیں کیں اور اسی سے مل کر موٹروے پر ڈکیتی کی تھی۔ واقعے کا مرکزی ملزم عابد علی جرائم میں میرا ساتھی ہے۔پہلے ہم نے ڈکیتی کی،بعدازاں خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔عابد علی کے ساتھ مل کر وارداتیں کرتا تھا،واردات کے لیے عابد نے اسے لاہور بالایا تھا۔ موٹروے پر واردات کے بعد ایک رات قلعہ ستار گاؤں میں گزاری۔معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد دیپالپور چلا گیا تھا۔جبکہ عابد علی والد کے پاس چلا گیا تھا،عابد سے آخری رابطہ تین روز قبل ہوا۔ ملزم نے مزید بتایا کہ ایک ماہ قبل شیخوپورہ میں واردات کے دوران خاتون سے زیادتی کی کوشش کی تھی۔پولیس کے موقع پر پہنچنے پر فرار ہوگئے۔ ملزم شفقت نے پولیس کو بیان میں بتایا کہ واردات کیلئے عابد نے مجھے اور بالا مستری کو لاہور بلایا جہاں شاہدرہ میں اکٹھے ہوئے اور دہی بڑے کھائے۔ملزم نے مزید بتایا کہ موٹروے کے قریب گھات لگا کر واردات کے لیے بیٹھے تھے۔واردات کے لیےعابد اور بالا مستری نے مل کر پلاننگ کی تھی لیکن بالا مستری راستے سے واپس چلا گیا۔ اس نے مزید کہا کہ جب گاڑی آ کر رکی اور انھوں نے دیکھا کہ گاڑی میں صرف خاتون اور بچے ہیں تو گاڑی کے پاس گئے اور گاڑی کے ارد گرد کئی چکر لگائے۔ گاڑی کا دروازہ نہ کھولنے پر انھوں نے ڈنڈے اور پتھر مار کر گاڑی کے شیشے توڑے اور لوٹ مار کی. اس نے مزید بتایا کہ خاتون سڑک سے نیچے نہیں جا رہی تھی۔ جس کے بعد ہم پہلے بچوں کو نیچے لے کر گئے،جس کے بعد خاتون بھی پیچھے آئی،جب خاتون نیچے آئی تو اسے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اسی حوالے سے صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ ملزمان نے واردات کی رات گاڑی کے شیشے توڑے جس سے عابد کا ہاتھ زخمی ہوا۔ خاتون نے جب گاڑی کا شیشہ کھولنے سے انکار کیا تو پتھر کی مدد سے شیشے توڑے۔ عابد کے زخمی ہاتھ کے خون کے قطرے بھی گاڑی کے شیشے پر تھے۔عابد اور شفقت نے مل کر 11 واردتیں کی،واردات کی رات دونوں نے شراب پی رکھی تھی۔
ذرائع کے مطابق ملزم شفقت کا پہلے سے بھی کرمنل ریکارڈ موجود ہے اور وہ ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ ملزم شفقت کا ڈی این اے بینک میں پہلے سے ڈی این اے موجود نہیں تھا تاہم پولیس کی جانب سے شفقت کا فوری ڈی این اے کرایا گیا جو میچ کرگیا ہے۔ذرائع کے مطابق ملزم شفقت ماضی میں بھی اجتماعی زیادتی کے واقعات میں ملوث رہا ہے لیکن پولیس کے پاس ملزم کا ریکارڈ نہیں تھا۔ملزم شفقت کے حوالے سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق شفقت کا شناختی کارڈ نمبر 3110472448981 ہے، ملزم کے والد کا نام اللہ دتہ اور تاریخ پیدائش 8 اپریل 1997 ہے۔ ملزم کا مستقل اور عارضی پتہ ایک ہی ہے، جس کے مطابق شفقت علی بہاونگر کی تحصیل ہارون آباد چک نمبر 192 سیون آر کا رہائشی ہے۔


وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی مرکزی ملزم کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور موٹر وے پر گینگ ریپ میں ملوث ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس نے اپنا جرم قبول کر لیا ہے۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ملزم کی شفقت علی کے نام سے شناخت ہوئی ہے اور اس کا ڈی این اے جائے وقوعہ سے اکٹھا نمونوں سے میچ کر گیا ہے۔انہوں نے مرکزی ملزم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہماری پوری ٹیم عابد علی کی گرفتاری کے لیے بھی مستقل کوششیں کر رہی ہے اور جلد گرفتاری عمل میں آ جائے گی۔
خیال رہے کہ اسی کیس میں ایک اور شخص عباس کا نام بھی لیا جا رہا تھا جس نے پولیس کے سامنے خود گرفتاری پیش کر دی۔ جو کہ مرکزی ملزم عابد علی کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھا۔۔ملزم وقار الحسن کے بردار نسبتی عباسی نے خود گرفتاری دی۔ تحقیقات کے دوران جیو فینسنگ کے ذریعے عباس کا نام سامنے آیا تھا جو مسلسل مرکزی ملزم عابد کے ساتھ رابطے میں تھا۔ عباس کا کہنا ہے کہ کام کے سلسلے میں عابد علی سے اکثر رابطہ رہتا تھا۔12 دن قبل عابد علی سے بات ہوئی تھی،میری عابد سے بات صرف کام کی حد تک ہوتی تھی۔میری تین بیٹیاں جوان ہیں،ایسا کام کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔عابد علی سے تعلق صرف کام کے لیے ہوتا،اس کے علاوہ میرا اس سے کوئی تعلق نہیں۔میں خود گرفتاری کے لیے پیش ہوا ہوں اور مجھے امید ہے کہ میرے ساتھ انصاف ہو گا۔
قبل ازیں موٹروے زیادتی کیس کا ملزم وقار الحسن سی آئی اے ماڈل ٹاؤن پو لیس اسٹیشن لاہور میں پیش ہو ا جہا ں اس نے صحت جرم سے انکار کر دیا تھا۔ ملزم وقار خود تھانے پیش ہوا. لاہور کے تھانہ سی آئی اے ماڈل ٹاون میں ملزم وقار الحسن نے بیان دیا کہ اس کا موٹروے زیادتی کیس سے کوئی تعلق نہیں میرے نام پر جاری سم میرا سالا استعمال کرتا ہے، ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کو تیار ہوں ملزم کا کہنا تھا کہ مذکورہ کیس سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ دوسری طرف ملزم وقار الحسن کے ڈی این اے کی رپورٹ آ گئی ہے جس کے مطابق ملزم کا ڈی این اے خاتون سے میچ نہیں ہوا۔پولیس کا کہنا ہے کہ وقار الحسن کا ڈی این اے میچ نہیں ہوا تاہم ابھی یہ تصدیق ہونا باقی ہے کہ ملزم موقع پر موجود تھا یا نہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ وقار الحسن کے ڈی این اے سے کیس ثابت نہیں ہوا۔پولیس کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق وقار الحسن موٹروے زیادتی کیس میں ملوث نہیں پایا گیا خیال رہے کہ موٹروے زیادتی کیس میں متاثرہ خاتون نے ملزم وقارالحسن کی شناخت سے انکار کردیا تھا۔ موٹروے زیادتی کیس میں متاثرہ خاتون کو ملزم وقارالحسن کی فوٹیج واٹس ایپ کے ذریعے بھجوائی گئی تاہم خاتون نے ملزم کی شناخت سے انکار کردیا اور کہا کہ وقارالحسن واقعے میں ملوث نہیں تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button