زرداری کی صدارت سے شہباز کی حکومت کیسے مضبوط ہوئی؟

آصف علی زرداری ملک کے چودہویں صدر منتخب ہو گئےہیں۔ آصف زرداری دوسری بار بھاری اکثریت کے ساتھ صدر منتخب ہونے والی پہلی سول سیاسی شخصیت ہیں۔
شاید ملکی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ ایوان صدر اور ایوان وزیراعظم میں متمکن دونوں شخصیات اپنی مفاہمانہ روش کے حوالے سے پہچانی جاتی ہیں۔پھر بھی یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا مفاہمت کی یہ بیل منڈھے چڑھے گی یا بقول فیصل واوڈا کے کہانی دو سال سے آگے نہیں بڑھے گی۔۔۔؟ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ آصف زرداری کے صدر منتخب ہونے کے بعد اب شہباز حکومت پہلے سے مضبوط ہو گئی ہے اور لگتا یہی ہے کہ اب شہباز حکومت کو اپنی آئینی مدت کی تکمیل میں بظاہر کوئی خطرہ نہیں۔
اسی حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر کا کہنا ہے کہ آصف زرداری کا صدر مملکت بننا شہباز شریف حکومت کی بقا کی ضمانت ہے۔ حامد میرکے مطابق آصف زرداری نے سیاست1990ء میں شروع کی تھی، صدارتی الیکشن میں مثبت چیزوں کا ذکر بھی کیا جانا چاہئے، پہلی مثبت بات یہ کہ آصف زرداری تیرہ سال سات مہینے جیل میں گزارنے والے سیاستدان ہیں، انہیں مسٹر ٹین پرسنٹ کہا جاتا تھا، چار پانچ سال پہلے تک ان کا ٹی وی پر انٹرویو بھی نہیں چل سکتا تھالیکن اب وہ پاکستان کے صدر بن گئے ہیں، دوسری مثبت چیز یہ ہے کہ محمود خان اچکزئی جنہیں غدار کہا جاتا ہے انہیں اپنے صوبے بلوچستان سے ایک ووٹ بھی نہیں ملا لیکن پنجاب اسمبلی سے 100کے قریب ووٹ ملے جو الیکٹورل ووٹوں کی صورت میں 18وو ٹ بنتے ہیں، اس کا مطلب سیاستدانوں پر الزامات لگانے والے تاریخ کے گرد و غبار میں گم ہوجاتے ہیں مگر سیاستدان یہیں پررہتے ہیں،صدارتی الیکشن کی سب سے مثبت بات یہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر لٹکانے والے جنرل ضیاء الحق کے بیٹے اعجاز الحق نے آصف زرداری کو ووٹ ڈالا ہے۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ آصف زرداری کا صدر مملکت بننا شہباز شریف حکومت کی بقا کی ضمانت ہے، یہ خواہش شہباز شریف کی تھی کہ پیپلز پارٹی کابینہ میں شامل نہ ہو، شہباز شریف چھوٹی کابینہ رکھنا چاہ رہے تھے تاکہ وہ ٹیکنوکریٹس کے ساتھ مل کر حکومت چلاسکیں، شہباز شریف چاہتے تھے آصف زرداری ہر صورت صدر پاکستان بن جائیں بے شک چیئرمین سینیٹ بھی ساتھ لے لیں، شہباز شریف سمجھتے ہیں کہ آصف زرداری ہمارے ساتھ ہوں گے تو ہماری حکومت کے پاؤں کے نیچے سے قالین کھینچنے والا کوئی نہیں ہوگا، پیپلز پارٹی چاہتی تھی کہ نواز شریف وزیراعظم نہ ہوں، شہباز شریف وزیراعظم بن جائیں تو حکومت کی مدد کرنے کیلئے تیار ہوں گے۔ دوسری جانب سینئر صحافی و تجزیہ کار سلیم صافی کا کہنا ہے کہ آصف زرداری پارٹی کے صدر کے بجائے صدر پاکستان کا رویہ اختیار کریں تو معیشت کی بہتری میں بھی حکومت کا ہاتھ بٹاسکتے ہیں اور تحریک انصاف کے ساتھ تناؤ میں کمی لانے میں بھی کردار ادا کرسکتے ہیں، آصف زرداری اس سے پہلے بھی کئی مواقع پر قوم کے صدر کا کردار ادا کرچکے ہیں، آصف زرداری کو مفاہمت کا بادشاہ کہا جاتا ہے، آصف زرداری اپنے مفادات کے بجائے ملکی مفادات میں مفاہمت کریں تو ان سے بہتر کوئی یہ کام نہیں کرسکتا۔
دوسری جانب روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق آصف علی زرداری کو "مفاہمت کی سیاست کا بادشاہ ” کہا جاتا ہے تو وزیراعظم شہباز شریف بھی ایک مفاہمت پسند، صلح جو اور حالات سے سمجھوتہ کرنے والی شخصیت کے طور پر مشہور ہیں یعنی قدر مشترک یہ ہے کہ دونوں حقیقت پسند اور عملیت پسند ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر چلنے کا گر جانتے ہیں، دونوں نے اس بات کو ماضی میں بھی ثابت کیا ہے۔
ماضی میں میاں نواز شریف کی حکومت کے ساتھ جب بھی مقتدرہ کا کوئی جھگڑا ہوتا تھا تو اس میں ٹربل شوٹر کے طور پر شہباز شریف سامنے آتے تھے۔حالیہ عرصے میں 16 ماہ کے مشکل ترین دور اقتدار کے لیے بھی شاید انہیں اوصاف کی بنا پر نگاہ انتخاب شہباز شریف پر پڑی اور انہوں نے بڑی خوش اسلوبی سے معاملات نبھائے۔
مبصرین کے مطابق اس وقت سیاسی منظر نامے پر تین بڑے سیاسی پلیئرز موجود ہیں ان میں نواز شریف ،آصف زرداری اور عمران خان شامل ہیں۔۔موجودہ حالات میں نواز شریف ایک حد تک پس منظر میں چلے گئے ہیں اور ان کی جگہ شہباز شریف بطور وزیراعظم لائم لائٹ میں آگئے ہیں۔
شہباز شریف کے حوالے سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ سے قربت کی بنا پر بیک وقت عمران خان کے لیے ناپسندیدہ اور آصف علی زرداری کے لیے پسندیدہ ہیں۔۔یہی وجہ ہے کہ عمران خان نے اپنے اقتدار کے آخری دنوں میں شہباز شریف کو نہ صرف نشانے پر رکھا بلکہ انہیں ایک کے بعد ایک مقدمے میں پھنسانے کی کوشش کی کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ان کے تعلقات خراب ہونے کی صورت میں شہباز شریف اقتدار میں آ جائیں گے۔ اور پھر ہوا بھی یونہی ۔
دوسری طرف نواز شریف کے مقابلے میں شہباز شریف، آصف زرداری کے پسندیدہ اس لیے ہیں کہ وہ ان کے ہم مزاج ہیں کیونکہ دونوں مقتدرہ سے قربت رکھتے ہیں اور یہ خوبی اقتدار کے دوام کی ضمانت سمجھی جاتی ہے ۔
اب اسے حالات کا جبر کہیے یا منصوبہ بندی کا نتیجہ ،کہ ذہنی ہم آہنگی رکھنے والے دونوں رہنما سربراہ مملکت اور سربراہ حکومت کے طور پر باہم مل گئے ہیں۔چند ہفتے پہلے تک جو نواز شریف یہ سمجھتے تھے کہ سارا میلہ انہیں دولہا بنانے کے لیے سجایا جا رہا ہے اب انہیں ایسا لگتا ہے کہ شاید سارامیلہ ان کا سیاسی کمبل چرانے کے لیے تھا۔۔ظاہر ہے جس تیزی سے نواز شریف کے مقدمات ختم کرائے گئے ،بڑے اہتمام سے انہیں واپس لایا گیا اور ان کے لیے انتخابی میدان سجایا گیا تو انہیں یقین تھا کہ وہ وزیراعظم ہاؤس کے مکین ہوں گے۔۔یہی وجہ ہے کہ "پاکستان کو نواز دو” کا نعرہ بڑے طمطراق سے لگایا گیا مگر قسمت کی ستم ظریفی کہ دو تہائی سے سادہ اکثریت کی خواہش تک کا ڈھلوانی سفر طے کرنے کے باوجود نواز لیگ کو پارلیمنٹ میں وہ پوزیشن حاصل نہ ہو سکی جسے نواز شریف اپنے شایان شان سمجھتے اور وزیراعظم بنتے۔۔
نواز شریف کا دوسرا ہدف یا مستقبل کے حوالے سے اصل ہدف اپنی صاحبزادی مریم نواز کو وزیراعظم بنوانا تھا مگر اس کے لیے بھی راہ ہموار نہ ہو سکی اور انہیں باور کرایا گیا کہ مریم کی نا تجربہ کاری فی الوقت ان کے وزیراعظم بننے کی راہ میں رکاوٹ ہے چنانچہ بہتر یہ ہوگا کہ پہلے وہ پنجاب میں رہ کر ہاتھ سیدھا کر لیں۔۔
تاہم ملکی سیاسی حالات کا لب لباب یہ ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ایوان صدر اور ایوان وزیراعظم ایک پیج پر ہوں گے جس کا فائدہ یہ ہوگا کہ مضبوط اپوزیشن کے باوجود کمزور حکومت اس طرح خطرات میں گھری نہیں رہے گی جیسا کہ ایک مخلوط حکومت کے بارے میں عمومی تاثر پایا جاتا ہے۔
اگر سیاسی درجہ حرارت قابو میں رہتا ہے تو موجودہ حکومت کے سامنے دوسرا سب سے بڑا چیلنج معیشت کی بحالی کا ہے جس کے لیے امید کی ایک کرن آئی ایم ایف کا یہ بیان ہے کہ ہم شہباز حکومت کے ساتھ مل کر چلنا چاہتے ہیں ۔۔یوں تحریک انصاف کی جانب سے آئی ایم ایف سے تعلق بگاڑنے کی کوشش ناکام ہو گئی ہے۔۔امکان یہی ہے کہ آئی ایم ایف کا پروگرام طے ہو گیا تو دوست ممالک بھی مدد کے لیے آگے بڑھیں گے جس کا عندیہ پہلے ہی وہ دے چکے ہیں۔امریکہ برطانیہ سعودی عرب چین سمیت تقریباً تمام اہم ممالک کی جانب سے شہباز شریف کو مبارکباد کے پیغام بھی موصول ہو چکے ہیں۔۔ اس طرح دھاندلی یا مینڈیٹ چرانے کے وہ الزامات فی الوقت دب جائیں گے جو پی ٹی آئی کی جانب سے تواتر سے لگائے جا رہے ہیں اور وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف زرداری اپنے مفاہمتی فارمولے کے تحت ملک کو ایک بار پھر ترقی کی راہ پر ڈالنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

Back to top button