سابق میجر جنرل کے بعد سابق کرنل کو بھی لاپتہ بیٹے کی تلاش


پاکستان آرمی کے ایک ریٹائرڈ میجر جنرل کے بیٹے کی غداری کے الزام پر گرفتاری کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیے جانے کے بعد اب ایک ریٹائیرڈ کرنل نے بھی اپنے گمشدہ بیٹے کی بازیابی کیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے دوبارہ رجوع کیا ہے تاکہ اسے پانچ برسوں سے لاپتہ اپنے بیٹے کے بارے میں کچھ معلوم ہو سکے۔

یاد ریے کہ پاک فوج کے ایک ریٹائرڈ ٹو سٹار جنرل نے اپنے میجر بیٹے کی غداری کے الزام پر گرفتاری کے بعد اسکی فوری بازیابی کے لئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس دائر کیا یے۔ یٹائرڈ میجر جنرل سید ظفر مہدی عسکری نے فوجی حکام کی تحویل سے اپنے بیٹے میجر حسن عسکری کی رہائی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کے بیٹے کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ایکسٹینشن کی مخالفت میں کچھ سینئر جرنیلوں کو خطوط لکھنے پر قید میں ڈال کر اس کے خلاف کورٹ مارشل کی کاروائی کا آغاز کردیا گیا ہے جو کہ سراسر ذیادتی اور قانون کے خلاف ہے۔ کیس کی ابتدائی سماعت کے بعد جسٹس محسن اختر کیانی نے شالیمار پولیس اسٹیشن اسلام آباد کے ایس ایچ او اور فوج کے ایڈجوٹینٹ جنرل سے میجر جنرل (ر) سید ظفر مہدی عسکری کی درخواست پر فوری جواب طلب کرلیا ہے۔

دوسری طرف پاک فوج کے ریٹائرڈ کرنل خالد عباسی نے بھی اپنے گم شدہ بیٹے عبداللہ عمر کی بازیابی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کردہ درخواست پر کارروائی تیز کرنے کی استدعا کی یے۔ ان کی درخواست میں آئی جی اسلام آباد، ڈی جی آئی ایس آئی، سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری دفاع کو فریق بنایاگیا ہے اور یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ان کے بیٹے کو 2015 میں پاکستانی خفیہ ایجنسیوں نے گرفتار کیا تھا جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہے۔ کرنل عباسی کا کہنا یے کہ لاپتہ عبداللہ عمر کا مقدمہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں کئی برس سے زیر سماعت ہے اور پانچ سال گزرنے کے باوجود ابھی تک عبداللہ بارے کسی قسم کی کوئی معلومات عدالت کو فراہم نہیں کی گئیں ہیں۔ 19 نومبر 2020 کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہونے والی سماعت میں جسٹس محسن اختر کیانی نے متعلقہ حکام سے کہا کہ اگر کوئی دہشت گرد بھی ہے تو اسکے خلاف قانونی کارروائی کریں اور عدالتوں میں پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ ’عبداللہ عمر کیس میں ہم نے پولیس فائل دیکھی تو پتہ چلا کہ آئی جی سے لے کر نیچے تک سب نے نااہلی دکھائی، یہ لاپتہ فرد کی فیملی کھڑی ہے، اس کو میں کیا کہوں ۔۔۔ کہ ادارے ناکام ہو گئے ہیں؟‘

یاد رہے کہ عبداللہ عمر بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی میں شریعہ قانون کے طالب علم تھا۔ اس کے والد ریٹائرڈ کرنل خالد عباسی خود بھی بغاوت کے الزام میں فوج سے نکالے جانے اور قید بھگتنے کے بعد وکالت سے وابستہ ہیں اور عبداللہ کے کیس کی پیروی بھی خود کرتےہیں۔ انکی جانب سے تین مئی 2013 کو دائر کردہ ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ تین مئی 2013 کو اسلام آباد میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے عبداللہ عمر زخمی ہوا تھا۔ اسی دوران ایک اور ایف آئی آر درج ہوئی جو بینظیر قتل کیس میں ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر جنرل چوہدری ذوالفقار کے اہل خانہ نے درج کرائی اور عبداللہ عمر کو قتل کا مرکزی ملزم نامزد کر دیا۔  یہ بھی موقف اختیار کیا گیا کہ عبداللہ دراصل ذوالفقار چوہدری کے قتل کی واردات کے دوران ان کے محافظوں کی گولیاں لگنے سے زخمی ہوا اور موقع سے فرار ہو گیا۔ پولیس نے عبداللہ پر قتل اور دہشت گردی کی دفعات لگائیں۔

چوہدری ذوالفقار ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر جنرل تھے جو حکومت کی طرف سے بینظیر قتل کیس کی پیروی کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ وہ ممبئی حملہ سازش کیس اور راولپنڈی میں فوجی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کیس میں سرکاری وکلا کی ٹیم میں شامل تھے۔ اپنے قتل سے قبل حساس مقدمات کی پیروی کرنے پر انہیں نامعلوم لوگوں کی جانب سے قتل کی دھمکیاں بھی موصول ہوئی تھیں جس کا ذکر انہوں نے آن ریکارڈ کیا جس کے بعد انہیں حکومت کی طرف سے گارڈ مہیا کیا گیا تھا۔

ان کے قتل کیس کی ایف آئی آر کے مطابق ’عبداللہ عمر کو تین مئی 2013 کے روز جو گولیاں لگیں وہ چوہدری ذوالفقار پر حملے کے وقت ان کے گارڈکی جانب سے حملہ آوروں پر جوابی فائر تھے۔ نیز وہ حملہ آوروں میں سے ایک تھا اور ساتھیوں کے ہمراہ موقع سے فرار ہو گیا تھا۔ بعد ازاں اس نے قائداعظم انٹرنیشنل ہسپتال سے علاج کروایا اور پولیس کو بیان دیا کہ اُسکو چند نامعلوم افراد نے ڈکیتی کا نشانہ بنایا۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق پولیس نے شواہد اکٹھے کیے تو چوہدری ذوالفقار قتل کیس اور عبداللہ عمر پر فائرنگ والا معاملہ ایک ہی وقت پہ ظہور پذیر ہونے والا واقعہ نکلا۔ چنانچہ پولیس نے عبداللہ عمر کو حراست میں لیا لیکن شدید زخمی ہونے کے باعث میڈیکل بنیادوں پر اس نے انسداد دہشت گردی کی عدالت سے سترہ جون 2014 کو ضمانت لے لی۔

عبداللہ عمر کے والد کرنل ریٹائرڈ خالد عباسی کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے پر درج دونوں مقدمے جھوٹے ہیں اور وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں ہے۔ انکا کہنا یے کہ اس معاملے پر بننے والی جے آئی ٹی میں بھی ثابت ہو چکا ہے کہ وہ خود روپوش نہیں ہوا بلکہ اُسے ایجنسیوں نے زبردستی نامعلوم مقام پر حراست میں رکھا ہوا ہے۔ عبداللہ کی اہلیہ زینب زعیم کی درخواست کے مطابق ’ضمانت ہر رہائی کے ایک برس بعد 20 جون 2015 کو عبداللہ عمر اپنے کزنز کے ہمراہ تراویح پڑھنے مسجد گئے لیکن وہاں سے انہیں مسلح افراد نے اغوا کر لیا۔ تاہم ان کے کزنز کو کچھ عرصے بعد رہا کر دیا گیا لیکن عبداللہ عمر تاحال قانون نافذ کرنے والے ادارے کی تحویل میں ہیں۔‘

 دوسری جانب وزارت دفاع اور وزارت داخلہ کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل کا عدالت میں یہ موقف رہاکہ چونکہ عبداللہ عمر کالعدم تنظیموں کے ساتھ ملوث ہیں اور دہشت گردی اور قتل کے مقدمات میں مطلوب ہیں اس لیے عدالتی نتائج سے بچنے کے لیے عبداللہ خود روپوش ہوئے ہیں تاکہ مقدمات سے بچ سکیں۔ جب کہ عدالت میں پیش کی جانے والی رپورٹ میں لکھا ہوا ہے کہ پولیس کی موجودگی میں عبداللہ عمر کو اٹھایاگیا۔ اس معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے 19 جنوری 2020 کو ریمارکس دیے کہ ’یہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی واضع مثال ہے۔‘ عدالت نے کہا کہ ’جبری گمشدگی کمیشن بھی ایک مذاق بن چکا ہے، کیون کہ یہ کمیشن بھی ایجنسیز سے مل کر کام کرتا ہے۔ چھوٹا سا اسلام آباد ہے لیکن پھر بھی ہر مہینے چار پانچ لوگ لاپتہ ہو جاتے ہیں’۔ عدالت میں پیش کی جانے والی پولیس رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں لاپتہ افراد کے 43 کیسز ابھی زیر التوا ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button