ساتھیوں کا کپتان کو ترین سے ملاقات نہ کرنے کا مشورہ

وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھیوں نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے پرانے ساتھی جہانگیر ترین کے ساتھ ملاقات کا ارادہ ترک کر دیں چونکہ اس سے یہ تاثر جائے گا کہ ترین دباؤ ڈال کر انہیں بلیک میل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اس حوالے سے عمران خان نے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا لیکن انکے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم ترین سے ملاقات کی بجائے شاید ان کے ساتھی ممبران قومی صوبائی اسمبلی سے ملاقات کر لیں جنہوں نے ایک خط میں ان سے ملاقات کی درخواست کر رکھی ہے۔ یاد رہے کہ ترین نے 22 اپریل کے روز لاہور میں عدالتی پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ ان کے عمران خان سے رابطے بحال ہو چکے ہیں اور وہ بہت جلد اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ان سے ملاقات کریں گے۔
تاہم تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم چند روز میں ترین گروپ کے اراکین اسمبلی سے ملاقات کر کے تحفظات سنیں گے لیکن ابھی جہانگیرترین کے ساتھ ملاقات کے حوالے سے وہ کوئی فیصلہ نہیں کر پائے۔ عمران خان کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ اگر وہ جہانگیر ترین سے ملاقات کریں گے تو پھر عوام میں یہ تاثر جائے گا کہ جیسے وہ انہیں این آر او دینے پر آمادہ ہو گے ہیں۔ وزیراعظم کو یہ مشورہ بھی دیا گیا ہے کہ اگر وہ جہانگیرترین کو واقعی کو ریلیف دینا چاہتے ہیں تو اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ وہ ان سے ملاقات کئے بغیر ہی ایف آئی اے کو ہدایت کر دیں بجائے کہ اپوزیشن کو ان پر مزید الزامات لگانے کا موقع ملے۔ یاد رہے کہ جہانگیر ترین بار بار تحریک انصاف سے انصاف مانگ رہے ہیں ان کا یہ مؤقف ہے کہ ان کے خلاف بنائے گئے کیسز جھوٹے ہیں جن کو ایف آئی اے کی بجائے ایف بی آر میں جانا چاہیے۔ اس سلسلے میں ترین نے کپتان پر دباؤ ڈالنے کے لیے 30 سے 40 ممبران صوبائی اور قومی اسمبلی کا ایک گروپ بنا رکھا ہے جس کی مسلسل ترین سے ملاقاتیں جاری ہیں۔ یہ گروپ وزیراعظم کو ایک خط کے ذریعے اپنے تحفظات سے آگاہ کرنے کے علاوہ ان سے ملاقات کا وقت بھی مانگ چکا ہے۔ لہٰذا وزیراعظم کو یہی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ترین سے ملنے کی بجائے ان کے گروپ کے ممبران سے ملاقات کر لیں۔ لہازا ذرائع کا دعوی ہے کہ ترین کی وزیراعظم عمران خان سے ذاتی ملاقات کا فوری امکان نہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم آئندہ چند روز میں ترین گروپ کے اراکین سے ملاقات کرکے ان کے تحفظات سنیں گے لیکن حتمی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان تحفظات کو دور کرنے کے لئے کسی قسم کے عملی اقدامات بھی کیے جائیں گے یا پھر یہ ملاقات محض نمائشی رہے گی۔ دوسرخ جانب ترین گروپ نے بھی پختہ ارادہ کر لیا ہے کہ وزیر اعظم سے ملاقات میں بھرپور طریقہ سے اپنا موقف بیان کیا جائے گا اور ان افراد کے نام لے کر نشاندہی کی جائے گی جو مبینہ طور پر جہانگیر ترین کے خلاف متحرک ہیں، ترین گروپ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم سے ملاقات کے بعد ایک مناسب مگر محدود مدت تک دیکھا جائے گا کہ وزیراعظم ان سازشی عناصر کے خلاف کوئی ایکشن لیتے ہیں یا نہیں اور اگر جہانگیر ترین کے تحفظات دور نہیں ہوتے تو پھر ایک افطار ڈنر کا انعقاد کرکے فل پاور شو کیا جائے گا اور عید کے بعد مستقبل کے لائحہ عمل کا باضابطہ اعلان کر دیا جائے گا۔ لہذا ترین گروپ کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے اندر ایک فارورڈ بلاک بنائے جانے کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ 15 دنوں میں عشائیہ اور عدالت پیشی کے موقع پر جہانگیر ترین کے ساتھ جانے والے اراکین اسمبلی کی تعداد 30 ہے جب کہ جہانگیر ترین اور ان کے ساتھیوں کا دعویٰ ہے کہ ان کے گروپ کی تعداد 40 سے زائد ہے، ترین کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ رمضان کے دوران صبح کے وقت عدالت پیشی کا وقت ہونے کی وجہ سمیت کئی دیگر وجوہات کے سبب کئی اراکین اسمبلی ابھی منظر عام پر نہیں آئے لیکن حتمی پاورشو کے لئے افطار ڈنر رکھا جاتا ہے تو پھر ترین گروپ اپنی مکمل عددی اکثریت کا مظاہرہ کرے گا۔
جہانگیر ترین کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ انہیں بخوبی علم ہے کہ ان کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کا اصل ذمہ دار کون ہے اور اس کے مہرے کون ہیں۔ لیکن فی الوقت وہ کھل کر ان سب لوگوں کے نام نہیں لے رہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم سے ترین گروپ کے ارکان اسمبلی کی جانب سے ملاقات کا مطالبہ درحقیقت ترین کی جانب سے کھلی جنگ سے پہلے "اتمام حجت” ہیں تاکہ عمران خان سمیت تحریک انصاف کے دیگر رہنما یہ نہ کہیں کہ انہیں مفاہمت کا موقع نہیں دیا گیا۔
دوسری جانب تحریک انصاف میں موجود اینٹی ترین لابی نے بھی وزیر اعظم اور یہ دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے کہ وہ ترین کے ہاتھوں بلیک میلنگ کا شکار ہو کر ان کے ساتھ ملاقات نہ کریں ورنہ ان کی سیاسی ساکھ خراب ہو جائے گی۔ شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کا موقف ہے کہ اگر اس موقع پر عمران خان جہانگیر ترین سے ذاتی ملاقات کرتے ہیں یا پھر اراکین اسمبلی سے ملاقات کے بعد ترین کے خلاف ایف آئی اے کی کارروائیوں کو روکا جاتا ہے تو اپوزیشن اور میڈیا میں یہ شور مچ جائے گا کہ عمران خان نے جہانگیر ترین کو "این آر او” دے دیا، لہازا اپوزیشن کا یہ بیانیہ عمران خان اور حکومت کے لئے نہایت تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق عید کے بعد ترین گروپ کی اصل پوزیشن واضح ہوجائے گی کہ وہ کس جانب بڑھ رہا ہے لیکن یہ طے ہے کہ اب عمران خان اور جہانگیر ترین ماضی کی طرح ایک ساتھ نہیں چل پائیں گے۔
