سانحہ مچھ: لواحقین نےمعاوضہ چیک کے بجائے نقد ادا کرنے کا مطالبہ کر دیا

سانحہ مچھ کے خلاف مظاہرین کا کوئٹہ مغربی بائی پاس پردھرنا پانچویں روز بھی جاری ہے۔ سانحہ مچھ نے حکومت سے معاوضہ چیک کی بجائے نقد دینے کا مطالبہ کر دیا ہے لیکن مظاہرین کے اس مطالبے پر حکومت کشمکش کا شکار ہے کیونکہ رولزکے مطابق وفاقی حکومت معاوضہ نقد ادا نہیں کرسکتی ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید نے معاوضہ چیک میں دینے کی پیشکش کی لیکن لواحقین نے نقد ادائیگی کا مطالبہ کردیا۔
ذرائع کے مطابق لواحقین نے کہا کہ جاں بحق ہونے والے 70 فیصد افغانی ہیں جن کے بینک اکاؤنٹس نہیں ہیں لہٰذا معاوضہ نقد دیا جائے۔ تاہم رولز کے مطابق وفاقی حکومت معاوضہ نقد ادا نہیں کرسکتی ، کیش دینے کے لیے رولزمیں تبدیلی صوبائی حکومت کو کرنا ہوگی۔
یاد رہے کہ 3 جنوری بروز ہفتہ اور 4 جنوری بروز اتوار کی درمیانی رات ضلع بولان میں کوئٹہ سے کوئی سو کلومیٹر دور مچھ کے قریب کوئلہ کان کے مزدوروں کو نشانہ بنایا گیا۔
یہ فرقہ ورانہ دہشت گردی کی ایک ہولناک واردات تھی جس میں بیس پچیس دہشت گردوں نے ہزارہ شیعہ برادری کے گیارہ کان کنوں کو اسلحہ کے زور پر قابو کیا اور ہاتھ پاؤں باندھ کر نہایت بے دردی سے ذبح کردیا۔ جس کے بعد قتل کیے جانے والے کان کنوں کے لواحقین سراپا احتجاج ہیں۔ لواحقین نے وزیراعظم عمران خان کی آمد تک لاشوں کو نہ دفنانے اور احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید ، علی زیدی اور زلفی بخاری نے بھی مظاہرین سے ملاقات کر کے ان سے مذاکرات کی کوشش کی لیکن یہ کوششیں ناکام رہیں۔ تاہم اب وزیراعظم عمران خان نے کوئٹہ جانے کا اصولی فیصلہ تو کر لیا ہے تاہم وزیراعظم کے دورہ کوئٹہ کی تاریخ اور وقت سکیورٹی خدشات کی بنا پر خفیہ رکھا جائے گا۔ دوسری جانب ذرائع کے مطابق حکومت اور مظاہرین میں مذاکرات کامیاب ہو چکے ہیں، اور کچھ دیر میں مظاہرین کی جانب سے دھرنا ختم کیے جانے کا اعلان بھی متوقع ہے۔
