سدھو موسے والا کے قاتل اب تک گرفت سے باہر کیوں؟

بھارتی پنجاب کے چھوٹے سے گائوں مانسا سے دنیا بھر میں اپنی آواز کا جادو جگانے والے گلوکار سدھو موسے والا کی پہلی برسی کے موقع پر دنیا بھر میں مداحوں نے آنجہانی گلوکار کو شاندار خراج تحسین پیش کیا۔گلوکار اور سیاست دان سدھو موسے والا کو ایک سال قبل آج ہی کے روز قتل کیا گیا تھا، ان کے مداح آج بھی ان کو یاد کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر ان کی تصویریں اور اپنے جذبات شیئر کر رہے ہیں، واقعے کے چند روز بعد بعض گیگنسٹرز نے ان کے قتل کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
29 مئی 2022 کو سدھو موسے والا کو اس وقت فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا جب وہ ایک تقریب سے نکلے تھے اور ہسپتال پہنچائے جانے سے قتل ہی دم توڑ گئے تھے، این ڈی ٹی وی کے مطابق سدھو موسے والا سے پنجاب حکومت نے ایک دن قبل ہی سکیورٹی واپس لی تھی۔حکومت نے ریاست میں 424 افراد سے سرکاری سکیورٹی واپس لی تھی جن میں سدھو موسے ولا بھی شامل تھے، 2022 کے الیکشن سے قبل سدھو موسے والا نے کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی اور مانسہ ضلع سے کانگریس کے ٹکٹ پر ریاستی اسمبلی کا انتخاب لڑا تھا۔
ان کو عام آدمی پارٹی کے ڈاکٹر وجے سنگلا نے شکست دی تھی، لارنس بشنوئی کے گینگ کی جانب سے پچھلے کچھ عرصے کے دوران اداکار سلمان خان کو بھی جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئی تھیں جس کے بعد ان کی سکیورٹی بڑھا دی گئی تھی۔کچھ روز پیشتر لارنس بشنوئی نے حکام کے سامنے سلمان خان کے قتل کی منصوبہ بندی کا اعتراف کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے گھر کی ریکی بھی کی گئی تھی، سدھو موسے والا کا تعلق پنجاب کے ضلع مانسہ سے تھا اور 11 جون 1993 کو وہ وہاں کے گاؤں ’موسا‘ میں پیدا ہوئے اور وہیں پلے بڑھے اسی مناسبت سے انہوں نے گاؤں کے نام کو اپنے کا حصہ بناتے ہوئے ’موسے والا‘ رکھ لیا تھا۔
سدھو موسے والا باصلاحیت فنکار تھے اور کم عمری میں ہی وہ شہرت سمیٹنے میں کامیاب ہوئے جو برسہابرس میں حاصل کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔صرف 28 برس کی عمر میں شہرت کی بلندیوں کو چھونے کے بعد دنیا چھوڑ جانے والے سدھو موسے والا کی زندگی تنازعات سے بھی بھرپور رہی۔
گلوکاری کا آغاز انہوں نے کالج کے دنوں میں ہی کر دیا تھا اور بعدازاں کینیڈا چلے گئے تھے۔ ان کی شہرت بھی’گینگسٹر ریپ‘ فنکار کے طور پر تھی اور وہ منفی نوعیت کی خبروں کی وجہ سے شہ سرخیوں میں بھی رہے۔ان کے کئی گانوں میں بندوقوں اور پرتعیش زندگی کا ذکر ملتا ہے تاہم کچھ گانے ایسے بھی ہیں جن سے ان کی سوچ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
ان کے مشہور گانوں میں سیلف میڈ، سو ہائی، سیم بیف، ٹوچن، اسا جٹ، ڈیتھ، سکیپ گوٹ، ٹبیاں والا پنڈ، گاڈ فادر سمیت دوسرے گانے اپنی انفرادیت کی وجہ سے بہت مشہور ہوئے۔ سیاست میں آنے کے بعد بھی تنازعات ان کا پیچھا کرتے رہے۔ پنجاب کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں گھر گھر انتخابی مہم پر انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر پھر ایک مقدمے کا سامنا کرنا پڑا۔
وہ پنجاب اور دہلی میں کسانوں کی تحریک کا حصہ بھی بنے اور کسانوں سے متعلق قوانین میں ترامیم پر کھل کر مخالفت کی تھی، 2021 میں انہوں نے سیاست کے میدان میں قدم رکھا اور کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ اپنے آبائی شہر سے ریاستی اسمبلی کا انتخاب بھی لڑا اور عام آدمی پارٹی کے امیدوار نے انہیں شکست دی۔ اس شکست کے بعد ان کا گانا ’سکیپ گوٹ‘ سیاسی صورتحال اور ان کے اوپر عائد کیے گئے الزامات کا ایک جواب تھا۔
گولڈی برار اور لارنس بشنوئی نے قتل کی ذمہ داری قبول کی تھی جس کے بعد کچھ گرفتاریاں بھی ہوئیں جن میں لارنس بشنوئی بھی شامل ہیں اور اس وقت دہلی کی تہاڈ جیل میں قید ہیں جبکہ گولڈی برار کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس کے حوالے سے تیزی سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور اس میں مطلوب دیگر افراد کو بھی گرفتار کر لیا جائے گا۔
