سعودی عرب اور ایران قریب کیوں آ رہے ہیں؟


کئی دہائیوں سے ایک دوسرے کے دشمن سمجھے جانے والے ایران اور سعودی عرب آج کل باہمی نفرتیں مٹانے اور آپسی قربتیں بڑھاتے نظر آتے ہیں۔ بین الاقوامی امور پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور ایران قربت کی ایک بڑی وجہ امریکہ کی مشرق وسطیٰ کے حوالے سے نئی پالیسی ہے کیوں کہ بائیڈن انتظامیہ نے بظاہر سعودی عرب سے دوری اختیار کی ہے اور ایران کے خلاف اپنا جارحانہ رویہ نرم کیا ہے۔
گذشتہ 40 برسوں کے دوران ایران اور سعودی عرب نے خطے میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش کی ہے، بعض لوگ اسے سنی اور شیعہ اسلام کے تاریخی تنازع سے بھی جوڑتے دکھائی دیتے ہیں۔سعودی عرب اور ایران کے تعلقات کافی عرصے تک تنازعات کا شکار رہے ہیں۔ بعض ماہرین اسے ’مشرق وسطیٰ کی سرد جنگ‘ سے تشبیہ دیتے ہیں۔ یمن، لبنان اور شام میں دونوں ملک اپنے اپنے حریف گروہوں کی حمایت کرتے ہیں لیکن اب ایران اور سعودی عرب نے بیٹھ کر بات چیت کے آغاز سے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔
10 مئی 2021 کو ایرانی حکومت نے عوامی سطح پر پہلی بار تسلیم کیا تھا کہ اس نے سعودی عرب کے ساتھ سفارتی سطح پر بات چیت کا آغاز کیا ہے۔
یوریشیا گروپ میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کی ریسرچ ٹیم کے سربراہ ایہام کامل کا کہنا ہے کہ یہ پیشرفت ’بے نظیر ہے۔‘یہ مذاکرات جنوری سے جاری ہیں لیکن ماضی میں بھی اس حوالے سے کوششیں کی گئی ہیں۔ ان مذاکرات کی پہلی نشانی اخبار فنانشل ٹائمز میں ملی جب اپریل کے وسط میں ایک خبر میں یہ سامنے آیا کہ دونوں ملکوں کے اہلکار بغداد میں ملے ہیں اور اس ملاقات میں تعلقات میں بحالی پر بات چیت ہوئی ہے۔ حالانکہ شروع میں سعودی عرب نے اس خبر کی تردید کی تھی مگر کچھ ہفتوں بعد ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ٹی وی پر نشر ہونے والے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ وہ ’ایران سے اچھے تعلقات‘ کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کے الفاظ نے کئی حلقوں کو حیران کیا کیونکہ انھوں نے تین سال قبل کہا تھا کہ ایران کے رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کو ’دیکھ کر ہٹلر بھی اچھا آدمی معلوم ہوتا ہے۔‘
لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا یوٹرن کیسے ممکن ہوا؟ ایسی کیا وجوہات ہیں جن کی بناہ پر برسوں کے دشمن براہ راست بات چیت کے لیے تیار ہو گئے؟ سعودی عرب کی ایران کی جانب پالیسی میں تبدیلی کی ایک بڑی وجہ امریکہ کی مشرق وسطیٰ کی جانب نئی پالیسی ہے۔ خصوصاً صدر بائیڈن کی حکومت کی جانب سے دنیا کے اس خطے میں اپنی فوج کو کم کرنے کی خواہش شامل ہے۔یاد رہے کہ بائیڈن انتظامیہ نے کیسے امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات میں تبدیلیاں کی ہیں۔
واشنگٹن میں قائم ایک تھنک ٹینک کے ایگزیکٹیو نائب صدر تریٹا پارسی نے فارن پالیسی جریدے کے ایک مضمون میں کہا ہے کہ ’ایک چیز باقی تمام پر بھاری ہے اور وہ یہ کہ امریکہ مشرق وسطیٰ پر اپنی پالیسی تبدیل کرنے میں سنجیدہ ہے۔‘انھوں نے زور دیا کہ گذشتہ برس کے امریکی صدارتی انتخاب کی مہم کے دوران موجودہ امریکی صدر نے افغانستان سے فوجیں واپس بلانے کا اعادہ کیا تھا، سعودی عرب کی یمن جنگ میں حمایت کے خاتمے اور ایران کے جوہری معاہدے میں دوبارہ شمولیت اختیار کرنے کا بھی کہا تھا اور وائٹ ہاؤس میں آنے کے بعد سے بائیڈن نے اس ایجنڈے کی تکمیل کی ہے۔
پارسی نے لکھا ہے کہ ’اس خطے کے اہم فریقین کو سفارتی راہ اختیار کرنے پر مجبور کرنے والا سب سے اہم عنصر نہ صرف امریکہ کا سعودی عرب کی تہران کے خلاف حمایت یا خطے میں کوئی نئے سفارتی اقدامات ہیں بلکہ یہ ہی وہ وجہ ہے جس نے مذاکرات کو آگے بڑھایا ہے۔ یہ واضح اشارے ہیں کہ امریکہ اب اس خطے سے نکل رہا ہے۔‘یورو ایشیا گروپ کے احیام کمال سعودی عرب میں تبدیلی ایران پر صدر بائیڈن کی نئی پالیسی کو قرار دیتے ہیں۔ احیام کمال کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کی ایران کی جانب کم جارحانہ پالیسی اپنانے نے سعودی عرب کو مجبور کیا ہے کہ وہ علاقائی صورت حال کے لیے متبادل حکمت عملی پر غور کرے جس میں ایران کے مسئلہ کو حل کرنے کے لیے نیا طریقہ کار بھی شامل ہے۔ بلاشبہ اس نے سعودی عرب کو نئے حکمت عملی پر غور کرنے پر مجبور کیا ہے۔‘ انھوں نے وضاحت کی ہے کہ یہ دیکھ کر کہ امریکہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر واپس جانے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے، سعودی عرب اس سے پیچھے نہیں رہنا چاہتا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’وہ ایران کے ساتھ تناؤ کو کم کرنے کا اپنا طریقہ کار تلاش کرنا چاہتے ہیں جیسا امریکہ نے اپنے لیے کیا ہے۔‘
اگرچہ سعودی عرب کے ساتھ بہتر تعلقات ایران کے جوہری معاہدے کو حاصل کرنے کے اس ہدف کی حمایت کر سکتے ہیں جو اس کے خلاف اقتصادی اور تیل کی پابندیوں کو ختم کرنے کا باعث بنے گا۔
کمال کہتے ہیں کہ تہران کا اس کے پیچھے ایک اور اہم مقصد ہے اور وہ یہ کہ ایران کے خلاف بنتے کسی اتحاد سے بچا جا سکے۔کمال کہتے ہیں کہ ’ایران جانتا ہے کہ سعودی عرب کی طاقت کے مقابلے میں اس کی قوت محدود ہے اور وہ خطے میں ایران مخالف اتحاد بنتا نہیں دیکھنا چاہتا بلکہ وہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لاتے بھی نہیں دیکھنا چاہتا۔ اس لیے یہ مذاکرات سعودی عرب کو اسرائیل سے تعلقات استوار نہ کرنے کے مقصد کی ایک کوشش بھی ہیں۔‘ اسرائیل اور حماس کے درمیان حالیہ تنازع نے بظاہر ایرانی مقاصد کی حمایت کی ہے کیونکہ اس سے خطے میں اسرائیل کے خلاف سیاسی ماحول میں درجہ حرارت بڑھا ہے اور سعودی عرب نے اسرائیل پر فلسطینیوں کے حق کی خلاف ورزیوں کی سختی سے مذمت کی ہے اور اس سے یہ ثابت کیا ہے کہ مستقبل قریب میں دونوں ممالک میں تعلقات کا کوئی امکان نہیں۔
ایک اور وجہ جو ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں اہم کردار ادا کرتی ہے وہ اس مستقل دشمنی کی مہنگی قیمت ہے تاہم ماہرین اس کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے ہیں۔اگرچہ یہ علم ہے کہ ایران یمن، عراق، لبنان اور شام میں اپنے اتحادیوں کی مدد پر بہت خرچ کرتا ہے مگر واشنگٹن میں قائم ایک تھنک ٹینک فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسز کے سربراہ تجزیہ کار ڈیوڈ ایڈیسنک نے سنہ 2018 میں ایک تخمینہ جاری کیا تھا جس کے مطابق ایران سالانہ 15 ہزار ملین ڈالر سے 20 ہزار ملین ڈالر خرچ کرتا ہے۔ اگرچہ یہ اپنے آپ میں ایک بہت بڑی رقم ہے لیکن ایک ایسے ملک کے لیے اور بھی زیادہ ہے جو گذشتہ طویل عرصے سے سخت معاشی پابندیوں کا شکار ہو۔ایران کے ساتھ تناؤ سعودی عرب کے عسکری بجٹ میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے اور عسکری بجٹ کی نگرانی کرنے والے عالمی ادارے سپری کے مطابق سنہ 2020 میں یہ بجٹ 57000 ملین ڈالر سے تجاوز کر گیا تھا۔ جو کہ دنیا کے اس سیکٹر میں خرچ کا 2.9 فیصد بنتا ہے۔
سعودی عرب کے عسکری شعبے میں اتنی بڑی سرمایہ کاری وہ تمام وسائل کھا جاتی ہے جو شہزادہ سلمان کے جدید سعودی عرب کے معاشی منصوبے میں کہیں استعمال کی جا سکتی ہے تاکہ ملکی معیشت کا تیل کی کھپت پر سے انحصار کم کیا جا سکے۔
در حقیقت یہ ایک نقطہ ہے جہاں ریاض اور تہران کے مفادات ایک دوسرے کے ساتھ ملتے ہیں کیونکہ دونوں ممالک جو ایک ایسی دنیا کے تناظر میں ہائیڈرو کاربن کے اخراج کا سبب ہے، جو موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف جنگ کی وجہ سے زمین سے نکالے گئے ایندھن کی کھپت کی کمی کی طرف گامزن ہے۔لہذا دونوں ممالک کو اپنے دفاعی اخراجات کم کرنے اور اس پیسے کو دیگر منصوبوں میں لگانےکا موقع ملے گا۔

Back to top button