سعودی عرب: کوڑے مارنے کی سزا باضابطہ طور پر ختم

سعودی عرب میں کوڑے مارنے کی سزا کو باضابطہ ختم کردیا گیا۔
سعودی عرب کی وزارتِ انصاف نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ’اب کوڑوں کے متبادل کے طور پر جیل یا جرمانے یا دونوں سزائیں دی جائیں گی، عدالتیں مقدمات کی سماعت کریں گی، ان کا جائزہ لیں گی اور ہر مقدمے کا اس کی نوعیت کے اعتبار سے منصفانہ فیصلہ کریں گی۔‘
Prison or fines or both will be some of the alternative sentences to replace flogging. Courts will hear and evaluate cases and make most sound decisions regarding each case. https://t.co/2yvqKGfUZ9
— Saudi Ministry of Justice (@MojKsa_EN) May 19, 2020
عرب خبررساں ادارے کے مطابق اس ضمن میں سعودی عرب کے وزیر انصاف ولید السمعانی نے گزشتہ روز تمام عدالتوں کو ایک سرکلر جاری کیا جس میں عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے سے آگاہ کیا گیا ہے کہ عدالتوں کو تعزیر کے طور پر اب کوڑے لگانے کی سزا دینے کے بجائے قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دینا ہوں گی۔
واضح رہے کہ سعودی عرب کی عدالتِ عظمیٰ نے اپریل میں ماتحت عدالتوں کے نظام میں ایک شاہی فرمان کے تحت کوڑوں کی سزا ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس حوالے سے عدالتِ عظمیٰ کے جنرل کمیشن نے عدالتوں کے لیے رہنما اصولوں پر مبنی ایک ہدایت نامہ جاری کیا تھا۔سعودی عرب میں مختلف قسم کے جرائم پرکوڑے مارنےکی سزا دی جاتی تھی جب کہ دیگر جسمانی سزا، جس میں چوری کے جرم میں ہاتھ کاٹنے، سزائے موت یا قتل اور دہشت گردی کے جرم میں سر قلم کرنے کی سزائیں ہیں تاہم اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
