سہیل آفریدی کے بھائی نے خیبرپختونخوا حکومت کیسے سنبھال لی؟

خیبر پختونخوا میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ اس بار تنازع وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے بھائی نوید آفریدی کی مبینہ سیاسی اور انتظامی مداخلت پر پیدا ہوا ہے۔ ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی عبدالغنی آفریدی نے وزیراعلیٰ کو تحریری شکایت ارسال کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے بھائی منتخب عوامی نمائندوں کے حلقوں میں مداخلت کر رہے ہیں، سرکاری افسران کو ہدایات دے رہے ہیں اور ایسی سرگرمیوں سے نہ صرف پارٹی کے اندر گروپ بندیاں بڑھ رہی ہیں بلکہ تنظیمی نظم و ضبط اور منتخب نمائندوں کی سیاسی حیثیت بھی متاثر ہو رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق ضلع خیبر سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی عبدالغنی آفریدی نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو ایک تفصیلی تحریری شکایت میں مطالبہ کیا ہے کہ ان کے بھائی نوید آفریدی کو ان کے انتخابی حلقہ پی کے-71 کے سیاسی اور انتظامی معاملات میں مداخلت سے روکا جائے۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ صورتحال نہ صرف عوامی نمائندگی کے اصولوں کے منافی ہے بلکہ اس سے پارٹی کے اندر غیر ضروری اختلافات بھی پیدا ہو رہے ہیں۔
عبدالغنی آفریدی نے اپنے خط میں دعویٰ کیا کہ نوید آفریدی باقاعدگی سے ان کے حلقے میں کھلی کچہریاں منعقد کرتے ہیں، ان کی صدارت کرتے ہیں اور مختلف سرکاری محکموں کے افسران کو براہ راست ہدایات جاری کرتے ہیں۔ ان کے مطابق بعض مواقع پر متعلقہ افسران کو یہ پیغام بھی دیا گیا کہ اگر وہ ان اجلاسوں میں شریک نہ ہوئے تو ان کے خلاف معطلی یا تبادلے جیسی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
رکن صوبائی اسمبلی نے سوال اٹھایا کہ نوید آفریدی کسی آئینی، قانونی یا سرکاری اختیار کے تحت یہ سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایک غیر منتخب شخص کا سرکاری افسران کو احکامات دینا اور عوامی مسائل کے حل کے لیے سرکاری اجلاسوں کی سربراہی کرنا نہ صرف انتظامی اصولوں بلکہ جمہوری روایات پر بھی سوالیہ نشان ہے۔
شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ نوید آفریدی کی مسلسل مداخلت سے حلقے میں سیاسی گروپ بندیاں جنم لے رہی ہیں، پارٹی کارکن تقسیم ہو رہے ہیں اور ایک منتخب عوامی نمائندے کے طور پر ان کی سیاسی ساکھ اور اختیار متاثر ہو رہا ہے۔ عبدالغنی آفریدی کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے نہ صرف ان کی عوامی حیثیت کمزور ہو رہی ہے بلکہ پارٹی کی تنظیمی یکجہتی بھی متاثر ہو رہی ہے۔
رکن صوبائی اسمبلی کے مطابق انہوں نے اس معاملے کو حل کرنے کے لیے متعدد مرتبہ مختلف سطحوں پر کوشش کی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پانچ مرتبہ ذاتی طور پر وزیراعلیٰ کو اس مسئلے سے آگاہ کر چکے ہیں، چار مرتبہ صوبائی وزیر مینا خان سے بھی بات کر چکے ہیں، جبکہ کئی بار نوید آفریدی سے براہ راست اور ان کے اہل خانہ کے ذریعے بھی درخواست کی گئی کہ وہ حلقے کے معاملات میں مداخلت نہ کریں، تاہم ان تمام کوششوں کے باوجود مسئلہ برقرار ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس نوعیت کی شکایت تحریک انصاف کے اندر موجود اختلافات کو مزید نمایاں کرتی ہے، کیونکہ جب کسی حکمران جماعت کے منتخب نمائندے اپنی ہی حکومت اور قیادت کے خلاف انتظامی مداخلت کے الزامات عائد کریں تو اس سے داخلی ہم آہنگی پر سوالات اٹھنا فطری امر ہوتا ہے۔
دوسری جانب اس معاملے پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا یا نوید آفریدی کی جانب سے باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔ اس لیے عبدالغنی آفریدی کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کی سرکاری سطح پر نہ تو تصدیق ہوئی ہے اور نہ ہی ان کی تردید کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف پہلے ہی مختلف سیاسی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ وزیراعلیٰ اس شکایت پر کیا کارروائی کرتے ہیں اور آیا پارٹی کے اندر پیدا ہونے والے اس تنازع کو جلد حل کیا جا سکے گا یا نہیں۔
