ایران امریکہ کشیدگی عروج پر، ٹرمپ کی میزائل دھمکی، تہران کا سخت جواب

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران کی نئی قیادت نے اپنے رہنماؤں اور جنگ میں مارے گئے افراد کے خون کا بدلہ لینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ اگر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جارحانہ پالیسی جاری رہی تو تہران کسی بھی مفاہمتی معاہدے کا پابند نہیں رہے گا۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کو سخت ترین نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان پر حملہ یا قتل کی کوئی کوشش کی گئی تو ایران پر ہزاروں میزائل داغے جائیں گے۔ اسی دوران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت، ایران امریکہ مذاکرات اور خطے کے مستقبل کے حوالے سے سفارتی سرگرمیوں میں بھی تیزی آ گئی ہے۔
ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پہلے اہم عوامی پیغام میں کہا کہ ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر شہداء کے خون کا بدلہ لینا صرف ریاست کی نہیں بلکہ پوری قوم کی خواہش ہے، اور یہ مقصد ہر صورت پورا کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انتقام کسی ایک شخصیت سے وابستہ نہیں بلکہ ایک قومی عزم ہے، جو وقت آنے پر ضرور مکمل ہوگا۔ ان کے مطابق مجرموں کو ان کے انجام تک پہنچانا ایران کا فیصلہ ہے، چاہے موجودہ قیادت رہے یا نہ رہے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی امریکہ پر مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایران اب تک اپنے تمام وعدوں پر قائم ہے، لیکن اگر واشنگٹن نے جارحانہ اقدامات جاری رکھے تو تہران بھی معاہدے کی پابندی کا خود کو پابند نہیں سمجھے گا۔ اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب نے بھی خبردار کیا کہ مسلسل امریکی دباؤ اور فوجی کارروائیاں معاہدے کو غیر مؤثر بنا سکتی ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ ایران نے امریکہ سے کسی نئے مذاکرات کی درخواست نہیں کی، جبکہ ایک باخبر ذریعے کے مطابق جب تک واشنگٹن اپنے موجودہ مؤقف میں تبدیلی نہیں لاتا، دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی سطح پر مذاکرات کا امکان نہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق مسلح افواج مکمل ہائی الرٹ ہیں اور خطے میں دشمن کی ہر سرگرمی پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے ان کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی یا قتل کی کوشش کی تو امریکہ فوری طور پر ایران پر ایک ہزار میزائل داغ دے گا، جبکہ مزید ہزاروں میزائل بھی حملے کے لیے تیار رکھے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج کو پہلے ہی ضروری احکامات جاری کیے جا چکے ہیں اور کسی بھی ممکنہ حملے کا جواب انتہائی سخت ہوگا۔ادھر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور صدر ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا، جس میں ایران امریکہ مذاکرات، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور خطے میں بحری تجارت کے تحفظ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسی دوران عمان کے دارالحکومت مسقط میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے عمانی ہم منصب سے ملاقات کی، جہاں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو محفوظ بنانے کے لیے دو الگ کنٹرول شدہ بحری راستے قائم کرنے کی تجویز پر غور کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اس معاملے پر تکنیکی اور سیاسی مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق بھی کیا۔
امریکی ذرائع کے مطابق واشنگٹن نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوامی طور پر اعلان کرے کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملے بند کیے جائیں گے اور عالمی بحری تجارت کے لیے تمام راستے بغیر کسی رکاوٹ اور اضافی ٹیکس کے کھلے رہیں گے۔ اس مطالبے کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی امریکی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ایران نے اس حوالے سے تاحال کوئی مثبت اشارہ نہیں دیا۔دریں اثنا ایران کے شہر مشہد میں نیم فوجی دستے بسیج کے دو اہلکار فائرنگ کے ایک واقعے میں ہلاک ہو گئے، جبکہ ایرانی وزیر دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران ملک میں ڈرونز کی پیداوار تین گنا بڑھا دی گئی ہے، جس سے ایران کی دفاعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔اسی دوران برطانوی اخبار مڈل ایسٹ آئی نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ، عراق اور شام ایک ایسے منصوبے پر کام کر رہے ہیں جس کے تحت عراق کے شہر کرکوک سے شام کی بندرگاہ بانیاس تک جانے والی کئی دہائیوں سے بند تیل پائپ لائن کو دوبارہ فعال کیا جائے گا۔ اس منصوبے کا مقصد عراق کو آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے کا متبادل راستہ فراہم کرنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کا باضابطہ اعلان آئندہ ہفتے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر اور عراقی وزیر اعظم کی متوقع ملاقات کے دوران سامنے آ سکتا ہے۔
مبصرین کے مطابق مجموعی طور پر خطے میں سفارتی رابطوں کے باوجود ایران اور امریکہ کے درمیان سخت بیانات، انتقامی اعلانات، معاہدوں پر اختلافات اور آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی اس بات کی نشاندہی کر رہی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال بدستور انتہائی نازک ہے۔ اگر دونوں فریقوں کے درمیان سفارتی پیش رفت نہ ہو سکی تو آنے والے دنوں میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات موجود ہیں۔
