ایران امریکہ کشیدگی نے عالمی معیشت کا رگڑا کیسے نکالا؟

مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی معیشت کی شہ رگ سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ پانچ روز سے جاری بندش کے باعث عالمی تیل کی ترسیل، تجارتی جہازوں کی آمدورفت اور بین الاقوامی سپلائی چین شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ درجنوں آئل ٹینکرز اور مال بردار جہاز سکیورٹی کلیئرنس کے انتظار میں کھلے سمندر میں رکے ہوئے ہیں، جبکہ عالمی منڈیوں میں توانائی کی قیمتوں، انشورنس اخراجات اور تجارتی سرگرمیوں پر اس کے اثرات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر موجودہ کشیدگی برقرار رہی تو اس کے نتائج صرف خلیجی خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت اس سے متاثر ہو سکتی ہے۔

مبصرین کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی نے ایک مرتبہ پھر آبنائے ہرمز کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ اہم بحری گزرگاہ گزشتہ چار دن اور بیس گھنٹوں سے مؤثر طور پر بند ہے، جبکہ آخری چوبیس گھنٹوں کے دوران صرف تین تجارتی جہاز اس راستے سے گزر سکے۔ درجنوں جہاز سکیورٹی اجازت نامے کے منتظر ہیں اور کئی بحری کمپنیوں نے حفاظتی خدشات کے باعث اپنے جہازوں کا رخ تبدیل کر دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق جنگ کے ابتدائی مرحلے میں ایران کی جانب سے عملی ناکہ بندی کے بعد خلیج فارس میں سینکڑوں آئل ٹینکرز، بلک کیریئرز اور دیگر تجارتی جہاز پھنس گئے تھے۔ اندازوں کے مطابق 800 سے 1500 کے درمیان مختلف اقسام کے بحری جہاز متاثر ہوئے، جن پر پندرہ سے بیس ہزار کے درمیان ملاح موجود تھے۔ اس دوران کم از کم بیس جہازوں پر حملوں یا انہیں تحویل میں لینے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جس سے عالمی بحری تجارت کو شدید دھچکا پہنچا۔

آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے باعث خام تیل، ایل این جی اور دیگر اہم توانائی مصنوعات کی ترسیل متاثر ہوئی، جبکہ شپنگ انشورنس کی لاگت میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ متعدد عالمی شپنگ کمپنیوں نے خطرات کے پیش نظر اس راستے کے استعمال میں احتیاط برتی، جبکہ کئی جہاز کھلے سمندر میں لنگر انداز ہو کر حالات معمول پر آنے کا انتظار کرتے رہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال نے عالمی سپلائی چین میں رکاوٹ پیدا کی اور توانائی کی منڈیوں میں غیر یقینی کیفیت کو مزید گہرا کر دیا۔

جون میں امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی کے بعد حالات میں کچھ بہتری آئی تھی اور محدود پیمانے پر بحری آمدورفت بحال ہونا شروع ہوئی۔ اس دوران روزانہ تقریباً 20 سے 50 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے لگے، تاہم یہ تعداد معمول کے ساٹھ سے زائد روزانہ گزرنے والے جہازوں سے کہیں کم تھی۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس عرصے میں کم از کم 136 جہازوں اور تقریباً 2900 ملاحوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا گیا، جبکہ درجنوں بڑے آئل ٹینکرز سمیت سیکڑوں جہاز مرحلہ وار اپنے سفر پر روانہ ہونے میں کامیاب ہوئے۔

اس کے باوجود مکمل بحالی ممکن نہ ہو سکی۔ بحری سکیورٹی خدشات، سخت معائنے، محدود کلیئرنس اور وقفے وقفے سے پیش آنے والے سکیورٹی واقعات کے باعث جہازوں کی روانگی سست رہی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک خطے میں مکمل استحکام پیدا نہیں ہوتا، عالمی سپلائی چین معمول پر آنا مشکل رہے گا۔

معاشی ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی خام تیل اور قدرتی گیس کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف تیل کی قیمتوں میں اضافے بلکہ عالمی مہنگائی، شپنگ لاگت، صنعتی پیداوار اور درآمدی و برآمدی سرگرمیوں پر بھی براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔ اگر موجودہ کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو عالمی توانائی بحران، سپلائی چین کی نئی رکاوٹیں اور معاشی دباؤ مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔

ادھر خطے میں سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں، تاہم زمینی حقائق یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ عالمی طاقتیں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی اور کشیدگی میں کمی کے لیے سرگرم ہیں، لیکن جب تک ایران اور امریکہ کے درمیان اختلافات کم نہیں ہوتے، عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیاں دباؤ کا شکار رہنے کا خدشہ برقرار رہے گا۔

Back to top button