پاکستانی کون سے 30ممالک کا بغیر پیشگی ویزہ سفر کر سکتے ہیں؟

اگر آپ موسمِ گرما میں بیرون ملک سفر کا ارادہ رکھتے ہیں تو یہ خبر آپ کے لیے اہم ہے۔ اگرچہ پاکستانی پاسپورٹ عالمی درجہ بندی میں 100ویں نمبر پر موجود ہے، لیکن اس کے باوجود پاکستانی شہری دنیا کے 30 ممالک کا سفر بغیر پیشگی ویزا، ویزا آن ارائیول یا الیکٹرانک ٹریول اتھارائزیشن کے ذریعے کر سکتے ہیں۔ تازہ ترین عالمی رینکنگ نہ صرف پاکستانی پاسپورٹ کی موجودہ حیثیت واضح کرتی ہے بلکہ یہ بھی بتاتی ہے کہ کن ممالک نے پاکستانی شہریوں کے لیے سفری سہولتیں برقرار رکھی ہیں اور مستقبل میں اس درجہ بندی کو بہتر بنانے کے لیے کن شعبوں میں پیش رفت ضروری ہے۔
رواں برس موسمِ گرما میں بیرونِ ملک سفر کی منصوبہ بندی کرنے والے پاکستانی شہریوں کے لیے ایک مثبت خبر سامنے آئی ہے۔ تازہ ترین ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے افراد اس وقت دنیا کے 30 ممالک کا سفر ویزا فری، ویزا آن ارائیول یا الیکٹرانک ٹریول اتھارائزیشن (ای ٹی اے) کے ذریعے کر سکتے ہیں۔ اگرچہ عالمی درجہ بندی میں پاکستان کا پاسپورٹ 100ویں نمبر پر برقرار ہے، تاہم محدود سفری آزادی کے باوجود متعدد ممالک نے پاکستانی شہریوں کے لیے نسبتاً آسان داخلہ پالیسی برقرار رکھی ہے۔
گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی میں کئی مرتبہ تبدیلی دیکھی گئی۔ 2025 میں پاکستان 103ویں نمبر پر تھا، بعد ازاں جنوری اور فروری 2026 میں بہتری آئی اور درجہ بندی 98ویں سے بڑھ کر 97ویں نمبر تک پہنچ گئی، جہاں پاکستانی شہریوں کو 32 ممالک تک آسان رسائی حاصل تھی۔ تاہم مئی اور جولائی 2026 کی تازہ ترین درجہ بندی میں پاکستان دوبارہ 100ویں نمبر پر آ گیا اور قابل رسائی ممالک کی تعداد 30 رہ گئی۔
اس وقت پاکستانی شہری 11 ممالک میں بغیر پیشگی ویزا سفر کر سکتے ہیں۔ ان میں بارباڈوس، کُک آئی لینڈز، ڈومینیکا، ہیٹی، مائیکرونیشیا، مونٹسیرات، روانڈا، سینٹ ونسنٹ اینڈ دی گریناڈائنز، دی گیمبیا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور وانواتو شامل ہیں۔
اسی طرح 16 ممالک ایسے ہیں جہاں پاکستانی مسافر پہنچنے کے بعد ویزا آن ارائیول حاصل کر سکتے ہیں۔ ان میں برونڈی، کمبوڈیا، کیپ ورد، کومورو جزائر، جبوتی، گنی بساؤ، مڈغاسکر، مالدیپ، نیپال، نیوئے، پلاؤ، ساموا، سینیگال، سیرا لیون، تیمور لیستے اور تووالو شامل ہیں۔
مزید برآں کینیا، سیشلز اور سری لنکا ایسے ممالک ہیں جہاں سفر سے قبل الیکٹرانک ٹریول اتھارائزیشن (ای ٹی اے) حاصل کرنا ضروری ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات، قطر، ترکی، ملائیشیا، تھائی لینڈ، انڈونیشیا، برطانیہ، سنگاپور، ویتنام، جنوبی افریقہ، تنزانیہ، یوگنڈا، کولمبیا، کیوبا اور ایکواڈور سمیت متعدد ممالک پاکستانی شہریوں کو ای ویزا کی سہولت بھی فراہم کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک کے پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی صرف اس کی سفارتی حیثیت ہی نہیں بلکہ دوطرفہ تعلقات، بین الاقوامی اعتماد، ویزا معاہدوں اور خارجہ پالیسی کی کامیابی کا بھی اہم اشاریہ سمجھی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف ممالک کی ویزا پالیسیوں میں معمولی تبدیلی بھی عالمی رینکنگ پر اثر انداز ہوتی ہے۔
ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق سنگاپور ایک مرتبہ پھر دنیا کا طاقتور ترین پاسپورٹ قرار پایا ہے، جس کے شہری 192 ممالک تک ویزا فری یا ویزا آن ارائیول رسائی رکھتے ہیں۔ جاپان، جنوبی کوریا اور متحدہ عرب امارات 188 ممالک تک رسائی کے ساتھ مشترکہ طور پر دوسرے نمبر پر ہیں، جبکہ جرمنی، فرانس اور سپین بھی مضبوط ترین پاسپورٹس رکھنے والے ممالک میں شامل ہیں۔
دوسری جانب انڈیا کا پاسپورٹ بھی حالیہ درجہ بندی میں تنزلی کے بعد 80ویں نمبر پر آ گیا ہے، تاہم بھارتی شہری اب بھی 56 ممالک تک ویزا فری یا ویزا آن ارائیول رسائی رکھتے ہیں، جو پاکستان کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
پاکستان کے لیے یہ ضروری ہے کہ سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جائے، نئے ویزا معاہدے کیے جائیں اور عالمی سطح پر اعتماد میں اضافہ کیا جائے تاکہ مستقبل میں پاکستانی شہریوں کے لیے زیادہ سے زیادہ ممالک کے دروازے کھل سکیں اور پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی میں بھی بہتری آ سکے۔
