پی ٹی آئی کا حکومت مخالف بڑی احتجاجی تحریک چلانا ناممکن کیوں؟

ملکی سیاست ایک بار پھر ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں اپوزیشن حکومت مخالف ملک گیر تحریک کی تیاریوں کا دعویٰ تو کر رہی ہے، مگر زمینی حقائق اس دعوے کی مکمل تائید کرتے دکھائی نہیں دیتے۔ بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری کو تین برس مکمل ہونے پر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان بلاشبہ سیاسی اہمیت رکھتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ سیاسی ماحول، اپوزیشن کی داخلی یکجہتی، تنظیمی تیاری اور عوامی حمایت اس تحریک کو فیصلہ کن بنا سکے گی؟ یا پھر یہ بھی ماضی کے لانگ مارچوں، دھرنوں اور احتجاجی مہمات کی طرح محدود اثرات تک ہی سمٹ کر رہ جائے گی؟ موجودہ حالات کا غیر جانبدارانہ جائزہ یہی ظاہر کرتا ہے کہ اپوزیشن کو صرف حکومت ہی نہیں بلکہ اپنی داخلی کمزوریوں، بدلتے سیاسی حالات اور سخت ریاستی مؤقف جیسے کئی بڑے چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔

بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری کی تیسری سالگرہ کے موقع پر اپوزیشن نے ملک گیر حکومت مخالف تحریک کا اعلان کیا ہے۔ اس تحریک کے لیے بلوچستان کی صورتحال، سیاسی کارکنوں کی رہائی، کشمیر کے حالات اور موجودہ حکومت سے نجات جیسے نکات کو عوام کے سامنے بنیادی مؤقف کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ احتجاجی مظاہروں، جلسوں اور ممکنہ دھرنوں سمیت مختلف آپشنز پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھایا جا سکے۔

تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ حالات ایسی کسی بڑی تحریک کے لیے موزوں ہیں؟ پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو واضح ہوتا ہے کہ مؤثر احتجاجی تحریکیں صرف سیاسی نعروں سے کامیاب نہیں ہوتیں بلکہ ان کے لیے مضبوط عوامی حمایت، منظم تنظیمی ڈھانچہ، واضح حکمت عملی اور بعض اوقات غیر معمولی سیاسی ماحول بھی درکار ہوتا ہے۔ یہی عوامل ماضی میں کئی تحریکوں کی کامیابی یا ناکامی کا سبب بنتے رہے ہیں۔

اگرچہ ملک میں مہنگائی، بے روزگاری، معاشی مشکلات اور عوامی بے چینی موجود ہے، لیکن اس کے باوجود ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ عوام فوری طور پر کسی بڑی احتجاجی تحریک کا حصہ بننے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ اس کی ایک اہم وجہ اپوزیشن جماعتوں، خصوصاً تحریک انصاف، کی داخلی کمزوریاں اور تنظیمی مشکلات ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری کے بعد پارٹی کی مرکزی قیادت دباؤ کا شکار رہی، متعدد رہنما الگ ہوئے، کارکنوں کی سرگرمیاں محدود ہوئیں اور وہ بھرپور عوامی متحرک کرنے کی صلاحیت، جس نے ماضی میں پی ٹی آئی کو ممتاز بنایا تھا، پہلے جیسی نظر نہیں آتی۔

دوسری جانب اپوزیشن اتحاد کے اندر بھی مکمل ہم آہنگی دکھائی نہیں دیتی۔ مختلف جماعتوں کے اپنے سیاسی مفادات اور ترجیحات ہیں، جس کی وجہ سے ایک مشترکہ اور مؤثر حکمت عملی اب تک سامنے نہیں آ سکی۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت مخالف تحریک کے اعلان کے باوجود اس کے خدوخال، اہداف اور عملی منصوبہ بندی کے حوالے سے ابہام موجود ہے۔

سیاسی منظرنامے کا ایک اہم پہلو ریاست کا وہ سخت مؤقف بھی ہے جو نو مئی کے واقعات کے بعد اختیار کیا گیا۔ ریاستی ادارے ریاست مخالف سرگرمیوں اور حساس تنصیبات پر حملوں کے معاملے میں کسی قسم کی نرمی کے آثار ظاہر نہیں کر رہے۔ اسی لیے بانی پی ٹی آئی یا دیگر سیاسی حلقوں کی جانب سے مختلف سطحوں پر رابطوں اور مفاہمت کی خواہش کے باوجود کوئی نمایاں پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ موجودہ حکومت کی سب سے بڑی طاقت صرف اس کی سیاسی مقبولیت نہیں بلکہ ادارہ جاتی استحکام اور اپوزیشن کی کمزور حکمت عملی بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کو فی الحال کسی ایسے فوری سیاسی دباؤ کا سامنا نہیں جو اس کے لیے سنجیدہ خطرہ بن سکے۔

حقیقت یہ ہے کہ احتجاجی سیاست صرف اعلانات سے کامیاب نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے سیاسی اعتماد، عوامی جوش، مضبوط تنظیم اور واضح حکمت عملی ناگزیر ہوتی ہے۔ موجودہ حالات میں ان تمام عناصر کی کمی محسوس کی جا رہی ہے، جس کے باعث اپوزیشن کی مجوزہ تحریک کے فوری طور پر فیصلہ کن نتائج دینے کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔

آنے والے دنوں میں اگر اپوزیشن اپنی صفوں میں مکمل اتحاد پیدا کرنے، عوامی اعتماد بحال کرنے اور مؤثر سیاسی حکمت عملی اختیار کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو سیاسی منظرنامہ تبدیل ہو سکتا ہے۔ بصورت دیگر موجودہ سیاسی توازن برقرار رہنے کا امکان زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فی الحال اپوزیشن کی تحریک سے زیادہ سیاسی مفاہمت، باہمی اعتماد اور مذاکرات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے، کیونکہ پائیدار سیاسی استحکام کا راستہ محاذ آرائی کے بجائے سیاسی اتفاق رائے سے ہی ہموار ہو سکتا ہے

Back to top button