ایک سعودی آئل کمپنی کا افغانستان سے معاہدہ اور زلمے خلیل زاد

تحریر:نصرت جاوید
بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت
نوجوانی میں افغانستان سے کئی دہائیاں قبل وظیفے پر ا علیٰ تعلیم کے بہانے امریکہ منتقل ہوا زلمے خلیل زاد عالمی سطح کا وارداتیا ہے۔ موقع شناس اورموقع پرست شخص ہے۔ پاکستان سے نفرت اس کی گھٹی میں شامل ہے۔ اس کی لگائی ہر گیم کو سنجیدگی سے لینے سے قبل سوبار سوچنا چاہیے۔ خود کو ابدی بدنصیب محسوس کرتے چند پاکستانی مگراس کی چالوں سے بوکھلاجاتے ہیں۔
پیر کی رات سے سوشل میڈیا پر چھائے ”ذہن سازوں“ کا ایک گروہ تسلسل سے دہائی مچارہا ہے کہ سعودی حکومت نے مبینہ طورپر افغانستان میں تیل اور گیس کی تلاش کے لئے 50ارب ڈالر (50ملین نہیں ارب ڈالر) کی سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا ہے۔ مذکورہ ”خبر“ کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ حال ہی میں تزک واحتشام سے طے ہوئے میثاقِ مکہ کے بعد برادر ملک نے پاکستان کے بجائے طالبان کے قبضے میں گئے افغانستان میں ایسی سرمایہ کاری کا فیصلہ کیوں کیا۔ طالبان حکومت سے سعودی عرب نے سفارتی تعلقات بھی استوار نہیں کئے ہیں۔ ان کے بغیر بھی افغانستان میں خیرہ کن سرمایہ کاری پاکستان کو کیا پیغام دے رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر مچائی دہائی نے تحقیق کو مجبور کیا تھا۔ یہ دریافت کرنے میں 20منٹ بھی صرف نہ ہوئے کہ سعودی حکومت نہیں برادر ملک کے ایک شہری کی تیل کے عالمی دھندے کے ساتھ کئی دہائیوں سے جڑی کمپنی نے افغانستان کے مغرب میں واقع تاریخی شہر ہرات کے قریب ایران جانے والے ایک دریا سے منسلک زمین میں 200ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے تیل اور گیس کی تلاش کا معاہدہ کیا ہے۔ تیل کے مقابلے میں مذکورہ علاقے سے گیس کی دریافت کے امکانات زیادہ روشن ہیں۔ وہ دریافت ہوگئی تو طے کیا جائے گا کہ گیس کی جو مقدار ممکنہ طور پر میسرہے اسے ہرات شہر کو بجلی فراہم کرنے والے کارخانوں میں استعمال کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔ وافر مقدار میں گیس کی دریافت ہرات شہر میں انڈسٹریل زون کے قیام کی راہ ہموار کرسکتی ہے۔ بے پناہ ذخائر مل جانے کی صورت گیس پاکستان کی سرحد کے قریب قندھار کے سپین بولدک تک 700کلومیٹر لمبی پائپ لائن کے ذریعے لے جانے کے لئے وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کے امکانات روشن ہوجائیں گے۔ فی الوقت دور رس امکانات کا جائزہ لینے کے لئے فقط 200ملین ڈالر خرچ کئے جائیں گے۔
طالبان کا یہ قلم گھسیٹ 1990ءکی دہائی سے شدید ناقد رہا ہے۔ ان سے بھلائی کی توقع باندھنے کی حماقت سے ہمیشہ گریز کیا۔ چھ برس قبل کابل میں بطور فاتح لوٹنے کے بعد اپنے پاکستان دشمن رویے سے وہ میری سوچ کو درست ثابت کررہے ہیں۔ ان کے رویے کے باوجود بطور انسان انتہائی خلوص سے یہ سوچتا ہوں کہ 1978ءسے مسلسل خانہ جنگیوں اور غیر ملکی قبضوں کی زد میں رہے افغان عوام امن وخوش حالی کے مستحق ہیں۔ ربّ کریم ان پر رحم کرے۔ وہاں کی خلقت پر تعلیم،روز گار اور خوشحالی کے دروازے کھلیں۔افغان عوام کی خوش حالی ہمارے خطے کو پرامن رکھنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
نیک تمناﺅں کے پرخلوص اعتراف کے بعد اطلاع آپ کو یہ دینا ہے کہ زلمے خلیل زاد سعودی کمپنی کے طالبان کےساتھ سرمایہ کاری کا معاہدہ ہونے کی تقریب میں موجود تھا۔ اس نے وہاں چکنی چپڑی تقریر سے یہ خواب بھی دکھائے کہ ہرات میں تیل اور گیس کی دریافت کے بعد افغانستان وسطی ایشیاءکے ترکمانستان جیسے ممالک کے تیل اور گیس کے ذخائر جنوبی ایشیاءکے ممالک تک پہنچانے کا مرکز بن سکتا ہے۔
غور طلب حقیقت یہ بھی ہے کہ اس کا خطاب عالمی میڈیا نے تقریباََ نظرانداز کیا۔ عرب میڈیا میں بھی اس کا ذکر نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسرائیل کا مگر ایک بااثر اخبار ہے۔ نام ہے اس کا ”یروشلم پوسٹ“۔ اس نے سعودی کمپنی کی جانب سے طالبان کے ساتھ ہوئے معاہدے کو تفصیلی خبر کے ذریعے اجاگر کیا۔ مذکورہ خبر کو پھیلانے کے لئے زلمے خلیل زاد نے اپنے ایکس اکا?نٹ سے اسے پوسٹ کیا۔ اس کی دانست میں جو منصوبہ افغانستان کو وسطی ایشیا کے قدرتی وسائل جنوبی ایشیا تک پہنچانے کا ذریعہ بنایا جاسکتا ہے اسے ان دونوں خطوں کے ممالک کے نام لکھ کر پوسٹ کیا۔ پاکستان کو مگر ان ملکوں میں شامل نہیں کیا۔
زلمے خلیل زاد کے دل ودماغ میں پاکستان کے خلاف جمع ہوئے بغض کی نشاندہی کے لئے اس کی ”یروشلم پوسٹ“ پر لگائی پوسٹ پر توجہ ہی کافی ہے۔ جس سعودی کمپنی کو وہ گھیر کر افغانستان لایا ہے اس کا نام ہے ڈیلٹا۔ یاد رہے کہ طالبان کی پہلی حکومت کے دوران بھی TAPکے عنوان سے ایک منصوبہ تیار ہوا تھا۔ اس کے ذریعے ترکمان کی گیس کو بذریعہ افغانستان پاکستان لانا مقصود تھا۔ TAPیوں ترکمانستان، افغانستان اور پاکستان کے لئے استعمال ہوا۔ بعدازاں انگریزی حرف (پی)کے بعد (آئی) یعنی انڈیا بھی شامل کردیاگیا۔ بھارت تک افغانستان اور پاکستان کے ذریعے ترکمانستان کی گیس پہنچانے کی بات چلی تو امریکہ کی ایک کمپنی UNOCAL اس میں سرمایہ کاری کے لئے بے تاب ہوگئی۔ یہ اطلاع سن کر حیران نہ ہوں کہ زلمے خلیل زاد نے افغان نڑاد ہونے کا چورن بیچتے ہوئے مذکورہ کمپنی کے لئے TAPIمیں سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لینے کی رپورٹ تیار کی۔ طالبان کا دل جیتنے کے لئے 1997ءمیں اس نے واشنگٹن پوسٹ کے لئے مضامین بھی لکھے۔ ان کے ذریعے امریکہ کو مائل کرنے کی کوشش کی کہ طالبان سے دوری اختیار کرنے کے بجائے واشنگٹن کوانہیں وسط ایشیائی ممالک کو جنوبی ایشیاءکے ساتھ ملانے کے دیرپا اور دوررس منصوبوں میں شامل کرنا چاہیے۔ اس کی کاوشوں سے دسمبر1997ءمیں طالبان کا آٹھ رکنی وفد یونوکول کمپنی کے امریکی ریاست ٹیکساس کے ہیوسٹن میں واقع ہیڈکوارٹر بھی گیا۔ TAPIمنصوبے پر عملدرآمد کے لئے اس دورے کے دوران چند افغانوں کو یونیورسٹی آف نبراسکا کے ذریعے پائپ لائن کی تعمیر کی مہارت کے حصول کےلئے تربیت کے منصوبے بھی تیار ہوئے۔ جس سعودی کمپنی -ڈیلٹا- نے ہرات میں تیل اور گیس کی تلاش کے لئے طالبان کے ساتھ پیر کے روز معاہدہ کیا ہے وہ یونوکول سے بھی شراکت داری کو تیارتھی۔ 1998ءمیں لیکن امریکہ نے کینیا میں ہوئے دھماکوں کا الزام القاعدہ پر عائد کرتے ہوئے طالبان کے کامل اقتصادی مقاطعے کا فیصلہ کیا اور TAPIمنصوبہ ٹھپ ہوگیا۔
مختصر الفاظ میں عرض یہ کرنا ہے کہ طالبان کی گزشتہ حکومت کے دور سے زلمے خلیل زاد انہیں امریکی اور عالمی سرمایہ کاروں کے خیرخواہوں کی صورت مارکیٹ کرنے میں مصروف رہا ہے۔ ڈیلٹا سے روابط بھی اسی دور میں استوار کئے تھے۔ طالبان کے دوسرے دورِ حکومت میں وہ ایک اور معجون بیچنے کی کاوشوں میں مصروف ہے۔ ایسے موقع شناس اور موقع پرست شخص کی چالوں اور منصوبوں کو ٹھوس پس منظر میں جانچنا چاہیے۔ مبالغہ آمیز کہانیوں پر خود کی ملامت سے گریز اختیار کرنے ہی میں عافیت ہے۔
