سلیکٹڈ کی بدتہذیب قوم یوتھ سے کسی کی عزت محفوظ نہیں

کپتان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان نے ایک مرتبہ پھر وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کے نشتر برساتے ہوئے کہا ہے کہ سلیکٹڈ نے قوم لوط کے وزن پر اپنی طرح کی بدتہذیب قوم یوتھ تیارکی ہے جس کے ہاتھوں کسی باعزت شخص کی عزت محفوظ نہیں ہے۔ انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ میں نے عمران خان سے شادی کے بعد ایک سال تک کوئی سیاسی تقریر نہیں کی تھی پھر بھی پی ٹی آئی والوں نے میرے خلاف گھٹیا مہم چلائی؟
یاد رہے کہ چند روز قبل وزیراعظم عمران خان نے پارٹی سوشل میڈیا ٹیم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ کبھی کسی کو اس سطح پر گرنے کی اجازت نہ دیں کہ وہ آپ کے فیملی ممبرز پر ذاتی حملے کرے۔ انہوں نے گلہ کیا کہ بشریٰ بی بی سیاست میں نہیں اور نہ ہی وہ پبلک فگر ہیں لیکن پھر بھی ان پر سوشل میڈیا کے ذریعے اخلاق باختہ تنقید کی جاتی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بشریٰ بی بی پر ذاتی حملے کیے جاتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز پر تنقید کا جواز پیش کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مریم پر اس لیے تنقید کی جاتی ہے کہ وہ سیاست میں ہیں، اور ن لیگ کا میڈیا سیل بھی چلاتی ہیں۔ لیکن بشریٰ بی بی تو سامنے بھی نہیں آتیں۔ پھر ان کو تنقید کا نشانہ بنایا جانا سراسر غیراخلاقی ہے جس کا کوئی جواز نہیں بنتا۔


وزیر اعظم عمران خان کی اس تقریر کو شئیر کرتے ہوئے ریحام خان نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ نومبر 2014 سے اکتوبر 2015 تک جب میں عمران کی اہلیہ تھی تب میرے خلاف پی ٹی آئی کے حامی اینکرز اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے منظم طور پر ایک نفرت انگیز مہم چلائی گئی حالانکہ اس عرصہ میں میں نے کوئی سیاسی تقریر بھی نہیں کی، پھر بھی پی ٹی آئی نے میرے خلاف مہم چلائی۔ ایک اور ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ پہلے پاکستان میں خواتین بلکہ ہر انسان کی عزت کا خیال رکھا جاتا تھا لیکن جب سے سلیکٹڈ نے اپنی طرح کی بد تمیز اور بدتہذیب قوم یوتھ تیارکی ہے، تب سے ملک میں کسی کی عزت محفوظ نہیں۔


اپنی دونوں ٹوئٹس میں ریحام خان نے مکافات عمل کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا ہے جس کا مطلب ہے کہ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ یعنی جس طرح آپ دوسروں کی عزتوں کا جنازہ نکالیں گے اور انھیں ہر فورم پر ہدف تنقید بنائیں گے اس کا نتیجہ آپ کو خود بھی بھگتنا پڑے گا۔ یاد رہے کہ وزیر اعظم کی سابقہ اہلیہ ریحام خان مختلف مواقع پرعمران خان اور ان کی حکومت پر تنقیدی وار کرتی رہتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button