سنتھیا رچی کے سہولت کار کھل کر ساتھ کھڑے ہو گئے

اسلام آباد میں پچھلی ایک دہائی سے رہائش پذیر مشکوک امریکی عورت سنتھیا رچی کے سہولت کار کھل کر سامنے آگئے ہیں اور وفاقی وزارت داخلہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے روبرو یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اپنے پاکستانی میں قیام کے دوران وہ کسی قسم کی ملک دشمن یا غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں اور یہ کہ وہ 31 اگست 2020 تک قانونی طور پر پاکستان میں قیام پذیر رہ سکتی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے وزارت داخلہ کے اس موقف کو سختی سے رد کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اداروں نے سنتھیا کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کو پیش کردہ رپورٹ میں دروغ گوئی سے کام لیا ہے کیونکہ ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید اور ان کی جماعت کے وزراء پر جو جھوٹے اور لغو الزامات لگا کر اس عورت نے پاکستان کی ساکھ اور ملکی مفادات کو کس قدر ٹھیس پہنچائی ہے۔ پیپلزپارٹی کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ کی جانبدارانہ رپورٹ سے ثابت ہوگیا ہے کہ پی پی پی مخالف سنتھیا کے پیچھے کون سے خفیہ ہاتھ کارفرما ہیں۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے سینتھیا ڈی رچی کو کلین چٹ دے کر یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ انہی کی کٹھ پتلی ہے۔
17 جولائی کو سنتھیا رچی کو ملک بدر کرنے سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست پر عدالت نے سماعت کی جس میں وزارت داخلہ کی جانب سے سکیورٹی اداروں کی ایک رپورٹ پیش کی گئی۔ خیال رہے کہ مشکوک امریکی شہری سنتھیا ڈان رچی کو ملک بدر کرنے کی درخواست پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک مقامی رہنما افتخار احمد نے دائر کر رکھی ہے۔ اس درخواست میں کہا گیا تھا کہ مذکورہ امریکی شہری کے پاکستان میں ویزے کی میعاد نہ صرف ختم ہو چکی ہے بلکہ وہ ایسی سرگرمیوں میں بھی ملوث ہیں جو کہ ملک کے خلاف ہیں۔
دوسری طرف وزارت داخلہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ سنتھیا اپنی سکیورٹی کلیئرنس کے بعد ہی پاکستان میں قیام پذیر ہے۔ واضح رہے کہ وزارت داخلہ آئی ایس آئی کی کلیئرنس کے بعد ہی غیر ملکیوں کو کسی قسم کی کلیئرنس دیتی ہے جیسا کے سنتھیا کے معاملے میں بھی ہوا ہے۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ سنتھیا کا پاکستان میں قیام کے لیے ویزہ 30 جون 2020 کو ختم ہو گیا تھا لیکن اسے خصوصی طور پر تین ماہ کے اضافی قیام کی اجازت دی گئی تھی۔ اب اس نے پاکستان میں مزید قیام کے لئے دوبارہ ایک سال کا ویزہ اپلائی کر دیا ہے۔
سنتھیا ڈی رچی کے حوالے سے وزرات داخلہ کا اسلام آباد ہائی کورٹ میں 17 جولائی کو یہ کہنا کہ وہ کبھی بھی پاکستان مخالف کسی سرگرمی میں ملوث نہیں رہی اور یہ کہ وہ قانون کی پاسداری کرنے والی خاتون ہے، اس کے یہاں سہولت کاروں کے حوالے سے بڑے واضع اشارے دیتا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی اپنی رپورٹ میں وزارت داخلہ نے یہ بھی نہیں بتایا کہ سنتھیا پاکستان میں پچھلے دس برس سے کیا کر رہی ہے۔ اس رپورٹ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ دس برسوں سے سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد سے ہی پاکستان میں قیام پذیر ہے۔ وزارت داخلہ نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ سنتھیا کے پاس پاکستان میں رہنے سے متعلق تمام قانونی دستاویزات موجود ہیں اور اس کے ویزے کی میعاد 31 اگست تک ہے۔ تاہم وزارت داخلہ نے عدالت کو یہ نہیں بتایا کہ اس کا ویزہ دراصل 30 جون کو ختم ہو گیا تھا جس کے بعد اسے تین ماہ مزید قیام کی خصوصی سہولت دی گئی۔
ملک بدری کی درخواست کی سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کے حکم پر سنتھیا ڈی رچی کے پاکستان میں قیام سے متعلق وزارت داخلہ کا بیان بھی عدالت میں پیش کیا جس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سنتھیا نے اپنے ویزے میں توسیع کی الگ درخواست بھی دے رکھی ہے اور جس پر فیصلہ اس کے ویزے کی میعاد گزرنے کے بعد قانون کے مطابق کیا جائے گا۔ عدالت نے اس درخواست پر مزید کارروائی 24 جولائی تک ملتوی کر دی ہے۔
دوسری جانب درخواست گزار کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ وہ وزارت داخلہ کی اس رپورٹ کو نہیں مانتے اور اسے عدالت میں چیلنچ کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اپنے دلائل کے دوران یہ ثابت کریں گے کہ سنتھیا رچی کو ویزے میں دی جانے والی توسیع نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ وہ پاکستان میں غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔انھوں نے الزام عائد کیا کہ سیکریٹری داخلہ اس معاملے میں قانون کے مطابق کارروائی نہیں کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ گذشتہ ماہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے امریکی شہری سنتھیا ڈی رچی کی جانب سے دائر کردہ ایک درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ایف آئی اے کو اُن کے خلاف تحقیقات جاری رکھنے کا حکم دیا تھا۔ اسی طرح اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج جہانگیر اعوان نے سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر شکیل عباسی کی جانب سے دائر کردہ ایک درخواست پر ایف آئی اے کو سنتھیا رچی کے خلاف تحقیقات کرنے کا حکم دیا تھا۔ درخواست گزار نے سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے خلاف ’نازیبا‘ ٹویٹس کرنے اور درخواست گزار کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے پر سنتھیا رچی کے خلاف مقدمے کے اندارج کی استدعا کی تھی۔سیشن کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف اور ایف آئی اے میں جاری تحقیقات کو رکوانے کے لیے سنتھیا رچی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جو کہ 22 جون کو مسترد کر دی گئی تھی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد پولیس سنتھیا ڈی رچی کی طرف سے سابق وزیر داخلہ رحمان ملک کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست کو بھی مسترد کر چکی ہے۔پولیس کا موقف ہے کہ درخواست گزار کی جانب سے سابق وزیر داخلہ پر مبینہ جنسی زیادتی اور ہراساں کرنے کے جو الزامات عائد کیے ہیں ان کے کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
