سنتیا رچی کے خفیہ اداروں سے تعلقات کی تصدیق ہوگئی


مشکوک امریکی خاتون سنتھیا ڈی رچی کے پاکستانی خفیہ اداروں سے گہرے تعلقات کی اس وقت تصدیق ہو گئی جب اسلام آباد کی ایک عدالت کی جانب سے واضح ہدایات کے باوجود مقامی پولیس نے اس کے خلاف بینظیر بھٹو کے متعلق بیہودہ اور بنیاد ٹویٹس کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ سائبر کرائم کا یہ معاملہ پولیس نہیں بلکہ ایف آئی اے کے دائرہ کار میں آتا ہے۔
یہ بات اب عام ہے کہ خفیہ اداروں کے ایما پر اسلام آباد پولیس سنتھیا کو بچانے میں پیش پیش ہے لیکن بیلنسنگ ایکٹ کے طور پر پولیس نے سنتھیا ڈی رچی کی جانب سے رحمان ملک کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست بھی مسترد کر دی ہے۔ علاوہ ازیں کئی برسوں سے پاکستان میں مقیم سنتھیا ڈی رچی کے پاکستان میں قیام کی مدت میں بھی تین سال کی توسیع کر دی گئی ہے اور یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ کرونا وبا کی وجہ سے جس طرح دیگر غیر ملکی شہریوں کے ویزے کی مدت میں تین ماہ کی توسیع کر دی گئی ہے اسی طرح سنتھیا ڈی رچی کے ویزے کی مدت اب تیس جون سے بڑھا کر تیس ستمبر 2020 ہوگی۔
رحمان ملک کے خلاف ریپ کرنے کے الزامات کی درخواست پر اسلام آباد پولیس کی جانب سے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کے بعد اسں نے عدالت جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسلام آباد پولیس نے سنتھیا کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست جس میں انھوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما رحمان ملک پر عصمت دری کا الزام عائد کیا تھا، شواہد نہ ہونے کی بنا پر ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر دی۔
تاہم پیپلز پارٹی کا الزام ہے کہ یہ سب بیلنسنگ ایکٹ ہے، پولیس دراصل خفیہ اداروں کے ایما پر سنتھیا کو بچانے میں مصروف ہے۔ اسلام آباد کی سیکریٹریٹ پولیس نے اپنی تفتیشی رپورٹ میں لکھا کہ امریکی بلاگر کی جانب سے لگائے گئے الزامات میں کسی قسم کے ثبوت پیش نہیں کیے گئے اور ان میں ایسا کوئی مصدقہ مواد نہیں تھا کہ اس کی بنیاد پر سینیٹر رحمان ملک کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔سنتھیا ڈی رچی کے وکیل عمران فیروز ایڈووکیٹ نے اس بارے میں کہا کہ پولیس نے ثبوت نہ ہونے پر ایف آئی آر اندراج نہیں کی مگر ہمارا موقف ہے کہ دنیا میں کہیں بھی یہ نہیں ہوتا کہ درخواست کنندہ سارے ثبوت لے کر آئے۔ہم نے پولیس کو وقت اور جگہ بتایا، پولیس کا کام ہے کہ تفتیش کرے۔ ہم نے جس شخص پر الزام لگایا اور جس جگہ کا ذکر کیا، اسے تفتیش کرنا بہت آسان ہے۔ وہ ایک حساس جگہ ہے اور وہاں پر ریکارڈ رکھے جاتے ہیں، وہاں سی سی ٹی وی فوٹیج ہوتی ہے، وہاں پر تعینات عملہ بطور گواہ مل سکتا ہے، پولیس تفتیش کیوں نہیں کر رہی اور ہم سے کیوں ثبوت مانگ رہی ہے ہیں۔ عمران کا کہنا تھا کہ ان کی حکمت عملی یہ ہے کہ پولیس نے جو کرنا تھا وہ کر لیا، اب ہم عدالت جائیں گے اور وہاں درخواست جمع کرائیں گے کہ وہ پولیس کو تفتیش کرنے کا حکم دے۔
ایف آئی اے میں جاری کیس کے حوالے سے عمران فیروز کا کہنا تھا کہ وہ ایک علیحدہ معاملہ ہے جو کہ سنتھیا ڈی رچی کی ٹویٹس کے حوالے سے اور وہ پی پی پی کے رہنما کی جانب سے درج کرایا گیا ہے۔ سنتھیا نے اپنی درخواست میں یہ بھی کہا تھا کہ پی پی پی سے تعلق رکھنے والے افراد انھیں ہراساں کر رہے ہیں اور انھیں دھمکیاں دے رہے ہیں تاہم پولیس کے مطابق نہ کوئی فون نمبر دیا گیا نہ کسی کا نام دیا گیا ہے۔پولیس نے سنتھیا رچی کی درخواست پر مزید یہ بھی کہا کہ رحمان ملک کے خلاف 2011 میں زنا بالجبر کے الزام کے حوالے سے سنتھیا رچی نے کسی بھی فورم پر زبانی یا تحریری شکایت درج نہیں کرائی۔پولیس نے مزید کہا کہ اس درخواست پر ‘رپٹ’ درج ہوگی اور اور دریافت عمل میں لائی جائے گی جس کے بعد مزید کوئی قدم اٹھایا جائے گا۔
یاد رہے کہ سنتھیا رچی نے جون کے پہلے ہفتے میں فیس بک لائیو اور پھر ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں دعویٰ کیا تھا کہ سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے مبینہ طور پر اپنی سرکاری رہائش گاہ پر ان کا ریپ کیا تھا۔ ان کے مطابق یہ واقعہ سنہ 2011 میں اس وقت پیش آیا جب وہ اہنے ویزے سے متعلق بات چیت کے لیے منسٹرز انکلیو میں وزیر داخلہ کے گھر گئی تھیں۔سنتھیا رچی کا دعویٰ ہے کہ یہ واقعہ اسی وقت کے آس پاس پیش آیا تھا جب ایبٹ آباد میں القاعدہ کے لیڈر اسامہ بن لادن کی ہلاکت ہوئی تھی اور پاکستان اور امریکہ کے تعلقات سازگار نہیں تھے۔وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے سنہ 2011 میں اپنے ساتھ پیش آنے والے مبینہ واقعے سے متعلق امریکی سفارت خانے میں کسی کو بتایا تھا لیکن امریکہ اور پاکستان کے تعلقات اتنے پیچیدہ تھے کہ انھیں ملنے والا ردعمل زیادہ مناسب نہیں تھا۔ سنتھیا نے یہ بھی بتایا تھا کہ ریپ کے بعد رحمان ملک نے ان کو دو ہزار پاؤنڈ بھی دیے جو انہوں نے رکھ لیے۔
سنتھیا رچی کا کہنا تھا کہ گذشتہ کئی روز سے جو کچھ ہو رہا ہے درحقیقت اس جنگ کی وجہ وہ ٹویٹ نہیں بلکہ وہ افراد ہیں جو جانتے ہیں کہ میرے پاس اس ملک کے بہت سارے لوگوں کے بارے میں بہت کچھ ہے۔ سنتھیا ڈی رچی نے یہ بھی کہا کہ گذشتہ چند دنوں میں انھوں نے جو کچھ ٹوئٹر پر شیئر کیا ہے اس کے ان کے پاس شواہد موجود ہیں۔انھوں نے الزام عائد کیا کہ انھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ سنتھیا رچی نے الزام عائد کیا کہا کہ اِن دھمکی آمیز پیغامات میں سے کئی نمبر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارت کے ہیں اور وہ بظاہر پیپلز پارٹی کے حمایتی تھے اور ساتھ ہی وہاں کی حکومتوں کا شکریہ ادا کیا کہ وہ فوری اور بروقت ان معاملات سے نمٹ رہے ہیں۔ تاہم پیپلز پارٹی کی قیادت نے ان تمام الزامات کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button