سندھ اسمبلی نے بھی وارث میر پر غداری کا الزام مسترد کر دیا

پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ پنجاب اور سندھ کی صوبائی اسمبلیوں نے معروف دانشور اور لکھاری پروفیسر وارث میر پر ایک حکومتی وزیر کی جانب سے لگایا جانے والا غداری کا الزام مسترد کرتے ہوئے ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کی قراردادیں متفقہ طور پر منظور کر کے ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔
9 جون 2020 کو پنجاب اسمبلی کی جانب سے پروفیسر وارث میر کو ان کی قومی خدمات کے اعتراف میں خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کیے جانے کے بعد 15 جون 2020 کو سندھ اسمبلی نے بھی پروفیسر وارث میر کی قومی خدمات کے اعتراف میں انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کی قرارداد منظور کرتے ہوئی ان پر لگائے جانے والے غداری کے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا۔
یاد رہے کہ پنجاب کے بدزبان وزیرِ اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے 23 مئی 2020 کو ایک خصوصی ویڈیو بیان میں یہ بھونڈا الزام عائد کیا تھا کہ سینئیر صحافی حامد میر کے مرحوم والد پروفیسر وارث میر غدار وطن تھے چونکہ انہوں نے سقوطِ ڈھاکہ میں بھارت، عالمی طاقتوں، مکتی باہنی اور شیخ مجیب الرحمٰن کی کھلم کھلا حمایت کی تھی۔ چوہان نے مذید کہا کہ وارث میر اپنی تحریروں میں افواجِ پاکستان کو سقوطِ ڈھاکہ کا ذمہ وار ٹھہراتے رہے اور یہی پاکستان مخالف کردار ادا کرنے پر شیخ حسینہ واجد نے وارث میر کو بنگلہ دیش کا سب سے بڑا ایوارڈ عطا کیا۔ چوہان نے یہ بھی کہا کہ انہی وجوہات کی بنا پر پنجاب کی بزدار حکومت نے لاہور میں نیو کمپس انڈر پاس کا نام وارث میر انڈر پاس سے تبدیل کرکے کشمیر انڈر پاس رکھ دیا۔
تاہم چوہان کے اس بیان کے بعد انکی اپنی ہی حکومت میں 9 جون 2020 کو پنجاب اسمبلی میں پروفیسر وارث میر کے حق میں خلیل طاہر سندھو کی جانب سے پیش کردہ ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی جس میں پروفیسر وارث میر کو ان کی گراں قدر قومی خدمات کے اعتراف میں خراج تحسین پیش کیا گیا تھا اور یہ مطالبہ بھی کیا گیا تھا کہ پروفیسر وارث میر انڈر پاس کا نام بحال کیا جائے۔ اس قرار داد کی منظوری بدزبان چوہان کے منہ پر ایک زناٹے دار تھپڑ سے کم نہیں تھی۔ چوہان کے اس بے ہودہ بیان پر وارث میر کے بڑے صاحبزادے حامد میر نے نا صرف اسے ایک ارب روپے ہرجانے کا نوٹس دیا تھا بلکہ ایف ہے آئی اے میں بھی ایک شکایت درج کروا دی تھی۔
9 جون کو پنجاب اسمبلی سے وارث میر کے حق میں قرارداد کی منظوری کے ایک ہفتہ بعد 15 جون 2020 کو سندھ اسمبلی نے بھی وارث میر کو انکی جمہوریت، انسانی حقوق، آزادئ صحافت اور صوبائی خود مختاری کے لئے گراں قدر خدمات پر خراج تحسین پیش کرنے کی ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔ یوں ایک نئی تاریخ رقم ہوگئی کیونکہ اس سے پہلے پاکستان میں کبھی بھی کسی دانشور یا لکھاری کو اس طرح ملک کی دو صوبائی اسمبلیوں نے متفقہ قراردادوں کے ذریعے خراج تحسین پیش نہیں کیا۔
سندھ اسمبلی کی منظور کردہ قرارداد میں لکھا گیا کہ "یہ ایوان حال ہی میں کچھ عناصر کی طرف سے محض سیاسی اختلاف کی وجہ سے پروفیسروارث میر کی حب الوطنی پر اٹھائے گئے سوالات اور انداز بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کرنا چاہتا ہے کہ سچ بولنے والے اہل فکرو دانش اور سیاستدانوں کو غدار قرار دینے کی روائت نے پاکستان کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اب اس روش کو ختم ہونا چاہئیے۔ پروفیسر وارث میر کو ان کی زندگی میں بھی آمریت کے پیروکاروں نے تنگ کیا کیونکہ انہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعہ انتہا پسندی کے مقابلے پر اسلام کے ترقی پسندانہ اور انقلابی پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کی وفات کے بعد بھی ان کے نظریاتی مخالفین ان کے بارے میں ہرزہ سرائی کرنے سے باز نہیں آرہے۔ قراردادمیں کہا گیا کہ وارث میر عورتوں کے حقوق کے سرخیل تھے۔ انہوں نے صوبائی خودمختاری کے ذریعہ وفاق پاکستان کو مضبوط بنانے کا تصور پیش کیا۔ وارث میر نے اہل کشمیروفلسطین کے حقوق کی جنگ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن جنیوا سمیت اہم فورمز پرلڑی۔ ان کی تحریر کردہ کتابیں حریت فکر کے مجاہد، کیا عورت آدھی ہے؟ ، خوشامدی صحافت و سیاست اور ضمیر کے اسیر جہالت کے اندھیروں میں روشنی کی کرنیں کے مترادف ہیں اسی لئے حکومت پاکستان نے بھی انہیں ہلال امتیاز بعد از مرگ کا اعزاز عطا کیا تھا”۔
سندھ اسمبلی کی جانب سے خراج تحسین پیش کرنے کی قرار داد میں مزید کہا گیا کہ "پروفیسر وارث میر نے تمام عمر قائداعظم محمد علی جناح کے اصولوں کے مطابق اپنے قلم کے ذریعہ تعمیری تنقید کا راستہ اختیار کیا لہذا آج سندھ اسمبلی کا یہ ایوان ایک دفعہ پھر اس عزم کا اعادہ کرتاہے کہ ہم ہمیشہ آزادئ صحافت کا دفاع کریں گے اور اختلاف رائے کو دبانے کے لئے غداری اور کفر کے فتوؤں کی مزاحمت کریں گے۔ یہ ایوان 9 جون 2020 کو پنجاب اسمبلی کی جانب سے پروفیسر وارث میر کے حق میں منظور کردہ قرارداد کی تائید کرتے ہوئے یہ مطالبہ دہراتا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی لاہور کے قریب واقع وارث میر سے منسوب انڈر پاس کا نام بدلنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے اور اسے دوبارہ وارث میر کے نام سے منسوب کیا جائے”.
یاد رہے کہ 2013 میں حکومت پاکستان نے وارث میر کی انہیں قومی خدمات کے اعتراف میں ملک کے اعلیٰ ترین سول اعزاز ہلال امتیاز (بعد از مرگ) سے نوازا تھا۔ اسی سال انہیں بنگلہ دیش کی حکومت نے مشرقی پاکستان کے عوام کے خلاف 1971ء کے فوجی آپریشن کی مخالفت کرنے پر فرینڈز آف بنگلہ دیش کا ایوارڈ دیا۔ حکومت بنگلہ دیش نے یہ ایوارڈ فیض احمد فیض ،حبیب جالب،غوث بخش بزنجو ، ملک غلام جیلانی اور دیگرکئی شخصیات کو بھی دیا لیکن حیرت انگیز طور پر سب سے زیادہ پراپیگنڈہ وارث میر کے خلاف کیا گیا۔
حکومت پنجاب کے وزیر اطلاعات چوہان کی جانب سے انہیں غدار قرار دینے کا بیان دراصل پروفیسر وارث میر کے نظریاتی دشمنوں کی اخلاقی پستی تھی چونکہ انہوں نے ایک ایسے شخص کو پاکستان کا دشمن قرار دیا جو تمام عمر پاکستان کے اصل دشمنوں سے نبرد آزما رہا۔ تاہم سندھ اورپنجاب کی صوبائی اسمبلیوں کی جانب سے پروفیسر وارث میر کے حق میں قراردادیں ایسے لوگوں کے منہ بند کرنے کے لیے کافی ہیں۔
