سورج گرہن اختتام پذیر، لاڑکانہ اور سکھر میں رنگ آف فائر دیکھا گیا

پاکستان میں آج رواں سال کا پہلا سورج گرہن اختتام پذیر ہوگیا اور مختلف شہروں میں اس کے نظارے دیکھے گئے۔پاکستان میں سورج گرہن کا عمل آج صبح 9 بج کر 26 منٹ پر شروع ہوا جو 11 بجے کے بعد عروج پر پہنچا تھا۔سورج گرہن کے دوران کراچی سمیت لاڑکانہ اور سکھر میں ‘رنگ آف فائر’ کا نظارا دیکھا گیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں سورج گرہن کا آغاز صبح 9بج کر 26 منٹ پر ہوا جو 11 بجے کے بعد عروج پر پہنچا اور مکمل اختتام دوپہر 12 بج کر 46 منٹ ہوگیا۔کوئٹہ میں سورج گرہن کا آغاز صبح 9 بجکر 26 منٹ جس کا دورانیہ 3گھنٹے 20منٹ رہا جو ایک بجکر 6 منٹ پر اختتام پذیر ہوگیا۔دارالحکومت اسلام آباد میں جزوی سورج گرہن کا آغاز 9 بج کر 50 منٹ پر ہوا جو 1 بج کر 6 منٹ پر ختم ہوا۔اسی طرح لاہور میں سورج گرہن کا آغاز 9 بجکر 50 منٹ پر ہوا جس کا مکمل اختتام ایک بجکر 10 منٹ پر ہوگیا۔
سورج گرہن کے حوالے سے چیئرمین اسپیس سائنسز پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر سید عامر محمود کا کہنا تھا سورج گرہن کا موسم اور ماحول پر زیادہ اثر نہیں پڑتا، زمین پر بھی اس کے اثرات منفی نہیں ہوتے۔
دوسری جانب ماہر فلکیات خالد اعجاز مفتی کا کہنا تھا کہ سورج گرہن محض اجرام فلکی کی گردش کا حصہ ہے، گرہن کے حوالے سے لوگوں میں پھیلی باتیں محض توہمات ہیں۔
سورج گرہن کے دوران چاند زمین اور سورج کے درمیان آجاتا ہے، حالیہ سورج گرہن کے دوران سورج چاند کی پشت سے روشنی کے گول دائرے یا چھلے کی مانند نظر آیا۔پاکستان کے کچھ علاقوں میں جزوی اور کہیں مکمل طور پر روشنی کا ہالہ دیکھا گیا جب کہ گوادر، سکھر اور لاڑکانہ میں سورج گرہن کے دوران ‘رنگ فائر’ کا منظر دیکھا گیا۔ماہرین کی جانب سے سورج گرہن کے دوران براہ راست سورج کا مشاہدہ نہ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ سورج گرہن سے منسلک توہمات کی سائنس میں کوئی حقیقت نہیں، مگر سورج کو براہ راست دیکھنے سے بینائی جا سکتی ہے جو ناقابل واپسی ہے۔ماہرین کہتے ہیں کہ سورج گرہن کے انسانی صحت، موڈ پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہوتے۔
واضح رہے کہ ملک بھر میں آج حلقہ نما (اینولر) سورج گرہن کا مشاہدہ کیا گیا جسے عرف عام میں آگ کا دائرہ (رنگ آف فائر) بھی کہا جاتا ہے۔اس قسم کے سورج گرہن میں چاند، سورج اور زمین کے درمیان سے گزرتے ہوئے سورج کے سامنے اس طرح آجاتا ہے کہ زمین پر رہنے والوں کے لیے سورج کا وسطی حصہ چھپ جاتا ہے اور صرف کنارے سے دائرے کی شکل میں روشنی کا حلقہ نظر آتا ہے۔سورج گرہن کے موقع پر ملک بھر کی متعدد مساجد میں خصوصی طور پر نماز کسوف کا اہتمام کیا گیا۔
خیال رہے کہ رواں سال 4 چاند گرہن اور 2 سورج گرہن دیکھے جائیں گے اور دوسرا سوج گرہن 14 دسمبر کو ہوگا جو پاکستان میں نظر نہیں آئے گا تاہم سال کے 2 چاند گرہن رونما ہوچکے ہیں جو 5-6 جون اور 10 جون کو پاکستان میں بھی دیکھے گئے تھے۔ملک بھر میں یہ جزوی سورج گرہن 2 سے 3 گھنٹے تک دیکھا گیا، پاکستان کے علاوہ چین، شمالی بھارت اور افریقہ کے کچھ حصوں بھی بھی اس کا نظارا کیا گیا۔سورج کو گرہن لگنا صبح 8 بج کر 46 منٹ پر شروع ہوا جو دوپہر 2 بج کر 34 منٹ پر ختم ہوا جبکہ 11 بج کر 40 منٹ پر یہ اپنے عروج پر رہا۔
خیال رہےکہ سورج گرہن فلکیاتی اعتبار سے گردش اجرام فلکی کے گردش کے دوران رونما ہونے والا معمول کا واقعہ جبکہ مذہبی اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی اہم نشانیوں میں سے ایک ہے۔تاہم اس سے کئی توہمات بھی وابستہ ہیں، جس میں ایک یہ بھی ہے کہ سورج گرہن اقتدار منتقل ہونے سمیت عالمی سیاست میں بڑی تبدیلیاں لاسکتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ 1999 میں سورج کو لگنے والے مکمل گرہن کے بعد 2 ماہ کے عرصے میں ہی اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا تھا۔اس کے علاوہ اس کے علاوہ دیگر عقائد میں خوف کے خیالات شامل ہیں، قدیم چین میں لوگ سورج گرہن کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک جگہ جمع ہو کر زور سے چیختے تھے، ان کا ماننا تھا کہ ایک بڑا سانپ چاند کھارہا ہے جسے شور کے ذریعے ڈرا کر روکنے کی ضرورت ہے۔
اس کے علاوہ کچھ کا ماننا ہے کہ سورج گرہن کے دوران حاملہ خواتین کو کوئی کام نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی باہر نکلنا چاہیے اس کے ساتھ تیز دھار والی اشیا سے دور رہنا چاہیے۔ان توہمات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سورج گرہن کے دوران جراثیم آتے ہیں لہٰذا کھانے پینے کی تمام اشیا کو ڈھک کر یا فریج میں رکھا جاتا ہے جبکہ کچھ ممالک میں عام تعطیل کا اعلان بھی کیا جاتا ہے۔اس حوالے سے معروف مذہبی عالم مفتی منیب نے قرآنی آیات اور واقعات کا حوالہ دے کر بتایا کہ ‘1400 سال قبل عرب میں بھی یہ عقیدہ تھا کہ گرہن کا تعلق کسی بڑی شخصیت کی موت و حیات سے ہے لیکن نبی کے فرمان کے مطابق سورج گرہن یا چاند گرہن کا تعلق کسی کی موت یا زندگی سے نہیں بلکہ یہ خدا تعالیٰ کے تشکیل کردہ نظام کے مظاہر ہیں’۔مفتی منیب کا کہنا تھا کہ اس طرح کے توہمات مثلاً سورج گرہن کے طبعی اثرات حاملہ خواتین یا دیگر افراد پر مرتب ہوتے ہیں یہ غلط ہیں اور دین میں اس کی کوئی اصل موجود نہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ایمان والوں کو اس قسم کے توہمات پر یقین کرنے کے بجائے خود احتسابی اور آخرت کی فکر کرنی چاہیے اس کے علاوہ نماز کسوف کی ادائیگی کا اہتمام کرنا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button