سوشل میڈیا پر مذہبی منافرت کے خلاف قانون سازی کا فیصلہ

پنجاب حکومت کی طرف سے سوشل میڈیا پر مذہبی منافرت پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کےلیے قانون سازی کا فیصلہ کرلیا گیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے بتایا ہے کہ قانون سازی کےلیے حکومت پنجاب کی طرف سے وفاقی حکومت سے رابطہ بھی کیا گیا ہے جس میں سائبر ایکٹ میں صوبائی حکومت کو اختیار دینے کےلیے ترامیم کی درخواست کی گئی ہے کیوں کہ قانون کے مطابق مذہبی منافرت پھیلانے والے افراد کے خلاف کارروائی کا اختیار صوبائی حکومت کے پاس نہیں ہے، قوانین میں تبدیلی کےلیے پرائیویٹ اراکین بھی بل لے کر آئے تو سپورٹ کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ محرم الحرام میں سوشل میڈیا پر مذہبی منافرت پھیلانے سےمتعلق 203 شکایات موصول ہوئیں جس کی بنا پر ایڈہاک بنیادوں پر ایسے افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو صرف محرم میں کارروائی کرنے کی اجازت دی۔
واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر مذہبی منافرت پھیلانے والے عناصر کے خلاف کارروائی کے مطالبے کی قرارداد بھی پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرا دی گئی۔
مسلم لیگ (ن)کی رکن حنا پرویز بٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ محرم الحرام کے دوران سوشل میڈیا پر مذہبی منافرت پھیلانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، سوشل میڈیا پر نفرت انگیز اور توہین آمیز مواد اپ لوڈکیا جا رہا ہے، مذہبی منافرت پھیلانے والے عناصر پر امن معاشرے میں فرقہ واریت کو ہوا دے رہے ہیں، ایسے شرپسند عناصر کی حوصلہ شکنی وقت کی ضرورت ہے۔ مطالبہ ہے کہ مذہبی منافرت پھیلانے والے عناصر کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے اوراشتعال انگیزی پھیلانے والے یوٹیوب چینلز، فیس بک اکاؤنٹس اور ویب پیجز کو فوری بند کیا جائے۔
