اداکارہ سلمیٰ ظفر کا جویریہ سعود پر ایک اور الزام

سینئر اداکارہ سلمیٰ ظفر نے اداکارہ جویریہ سعود پر ایک اور الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’او ماں‘ گانا اُن کا اسکرپٹ تھا جو ماؤں کے عالمی دن پر چلایا گیا تھا، یہ اسکرپٹ انہوں نے فیسٹیول کےلیے رکھا تھا لیکن انہیں دے دیا تھا، جس کا کریڈٹ جویریہ سعود نے انہیں نہیں دیا۔ اداکارہ سلمیٰ ظفر نے مزید کہا کہ تحریر میں کہیں بھی مجھے کریڈٹ نہیں دیا گیا بلکہ لکھاری کے طور پر بھی جویریہ سعود کا نام موجود تھا۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ اداکارہ سلمیٰ ظفر نے اداکارہ جویریہ اور ان کے شوہر سعود پر ایک کروڑ روپے ہڑپ کرنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ان کے ایک کروڑ جب کہ عام ملازمین کے بھی ہزاروں روپے کھا گئے۔ سلمیٰ ظفر نے کہا تھا کہ سعود اور ان کی اہلیہ کی جانب سے بنائے گئے پراڈکشن ہاؤس میں اداکاروں اور ملازمین کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا ہے جب کہ ملازمین کو تنخواہیں تک نہیں دی جاتیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ جویریہ اور سعود نے ماہانہ 7 ہزار روپے کی تنخواہ پر کام کرنے والے ملازمین کو بھی تنخواہیں ادا نہیں کیں جب کہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کو 10 روز کے کام کے بدلے 4 دن کے پیسے دیے۔ ویڈیو میں انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ ان کے پاس جویریہ اور سعود کی کرپشن اور ان کی جانب سے ملازمین کے پیسے کھائے جانے کے شواہد موجود نہیں، تاہم وہ سچ بول رہی ہیں۔
جس کے بعد جویریہ سعود نے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے ان کے پیسے بہت سال پہلے ہی کلیئر کر دیے تھے اور اگر ہم پیسے نہیں دے رہے تھے تو سلمیٰ ظفر نے 7 برس تک ہمارے ساتھ کیوں کام کیا؟ بعدازاں انہوں نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں بتایا تھا کہ وہ اور ان کے شوہر اداکار سعود، اداکارہ سلمیٰ ظفر کے خلاف قانونی کارروائی کرنے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں بتایا تھا کہ ان کا پراڈکشن ہاؤس جے جے پروڈکشن اداکارہ سلمیٰ ظفر کے خلاف جھوٹے الزامات لگانے پر قانونی کارروائی کرے گا۔
جس کے بعد اداکارہ شیری شاہ نے انسٹاگرام پر تقریباً 10 منٹ دوانیے کی ویڈیو میں دعویٰ کیا تھا کہ جویریہ اور سعود نے ان کے 90 لاکھ روپے دینے ہیں اور انہیں محض 10 لاکھ روپے ہی ادا کیے گئے۔
جس کے بعد اداکارہ سلمیٰ ظفر نے جویریہ سعود پر ایک اور الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ جویریہ سعود نے ‘ او ماں’ گانے کا کریڈٹ نہیں دیا۔ حال ہی میں نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں سلمیٰ ظفر نے کہا کہ برداشت کی ایک حد ہوتی ہے جب آپ اپنا پیسہ ہی بار بار مانگیں تو پھر میں تھک گئی تو میں نے انہیں لکھا کہ جو میرے بقایا جات ہیں وہ مجھے دیے جائیں لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے بتایا کہ جواب موصول نہ ہونے کے بعد میں نے انہیں پھر لکھا کہ اگر آپ لوگوں نے پیسے نہیں بھیجے تو میں سوشل میڈیا پر اس حوالے سے اعلان کردوں گی اور ساتھ ہی ان تمام افراد کو سامنے لے آؤں گی جن کے پیسے دینے ہیں۔
سلمیٰ ظفر نے کہا کہ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر یہ بیان جاری کرنے میں، میں نے 7 سال کا وقت لیا لیکن انہوں نے سرے سے انکار کردیا کہ کوئی پیسے نہیں دینے اور دعویٰ کیا کہ مجھ سمیت سب کے معاوضے ادا کردیے گئے تھے۔
اداکارہ کا مزید کہنا تھا کہ جب میں نے ویڈیو بیان جاری کیا تو راتوں رات ٹیکنیشن اور وہ فنکار جن کا معاوضہ باقی رہتا تھا انہیں چیک پہنچانا شروع کیے اور ساتھ ہی کہا گیا کہ ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کریں لیکن عملے نے ایسا نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ کام بند ہونے کے ڈر سے نہیں بولتے اور خاموش ہو جاتے ہیں لیکن میں پھر بھی چپ نہ رہی اور ساری کشتیاں جلا کر آئی ہوں کیوں کہ اگر یہ لوگ مجھے کام نہیں دیتے تو میرے رازق یہ لوگ نہیں ہیں کیوں کہ میں اللہ کے سوا کسی کو رازق نہیں سمجھتی۔
سلمیٰ ظفر نے مزید کہا کہ شروع شروع میں جویریہ اور سعود بہت اچھے تھے، ہم نے بہت انجوائے کیا، ساتھ کھانا کھانے جاتے تھے اور انہوں نے یہ سمجھا کہ ہم اس سب پر خوش ہوجائیں گے۔
اداکارہ نے صلح سے متعلق سوال پر کہا کہ وہ مانیں تو صحیح میں تیار ہوں وہ تو انکار کررہے ہیں جب کہ 7 سال روتے رہے ہیں کہ چینل پیسے نہیں دے رہا اور پیسے آئیں گے تو دے دیں گے۔
