سول و عسکری قیادت کی افغان طالبان کو سخت وارننگ

افغان طالبان کی طرف سے ٹی ٹی پی کو لگام نہ ڈالنے پر پاکستانی عسکری و سول قیادت نے نہ صرف سخت برہمی کا اظہار کیا ہے بلکہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے افغان حکومت کو خبردار کیا ہے کہ  اگر افغان سر زمین سے پاکستان کو نشانہ بنانے والوں کو روکا نہ گیا تو پاکستانی فورسز ’مؤثر جواب‘ دیں گی۔

آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے دہشت گردی میں افغان شہریوں کی شمولیت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان کے محفوظ ٹھکانے ہیں۔ امید ہے افغان حکومت اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گی۔افواج پاکستان کے محکمہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے اعلامیے کے مطابق آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا ہے کہ مسلح افواج کو افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان کی موجودگی پرشدید تحفظات اور تشویش ہے، کالعدم تحریک طالبان کے دہشت گرد افغانستان سے آکر پاکستان میں کارروائیاں کرتے ہیں جو نا قابل برداشت ہیں۔جنرل عاصم منیر نے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں افغان شہریوں کی شمولیت کو باعث تشویش قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ افغان حکومت اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گی۔آرمی چیف نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کے خلاف افواج پاکستان کی کارروائیاں بلا تفریق جاری رہیں گی، اگر آئندہ دہشت گردی کا ایسا کوئی واقعہ ہوا تو افواج پاکستان کی جانب سے مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

خیال رہے کہ آرمی چیف پاکستانی فوجی سربراہ جنرل عاصم منیر کی طرف سے یہ سخت بیان رواں ہفتے پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں عسکریت پسندوں کے دو حملوں کے بعد سامنے آیا ہے جن میں پاک فوج کے 12 اہلکار شہید ہوئے۔دوسری طرف وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں50 سے 60 لاکھ افغان شہریوں کو  40 سے 50 سال سے حقوق کے ساتھ پناہ میسر ہے لیکن اس کے برعکس پاکستانیوں کا خون بہانے والے دہشت گردوں کو افغان سر زمین  پر پناہ دی جا رہی ہے۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ لیکن اب یہ صورت حال مزید جاری نہیں رہ سکتی،  افغانستان نہ دوحہ معاہدے کی پاسداری کر رہا ہے اور نہ ہی ہمسایہ اور  برادر ملک ہونےکا حق نہیں ادا کر رہا ہے۔پاکستان اپنی سرزمین اور شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنے وسائل بروئے کار لائے گا۔

خیال رہے کہ پاکستانی صوبہ بلوچستان میں پاکستانی طالبان کے علاوہ شدت پسند گروپ داعش بھی سرگرم ہے۔ پاکستانی طالبان، افغان طالبان سے الگ گروپ ہے تاہم یہ افغان طالبان کا اتحادی ہے۔ اگست 2021ء میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے تحریک طالبان پاکستان بھی کافی فعال ہو گئی ہے اور بلوچستان میں پاکستانی فوج اور پولیس پر کیے جانے جانے والے زیادہ تر حملوں کی ذمہ داری یہ گروپ قبول کرتا رہا ہے۔

دوسری جانب تجزیہ کاروں کے مطابق تحریک طالبان پاکستان کی افغانستان میں موجودگی اور محفوظ ٹھکانوں کے بارے میں پہلی مرتبہ پاکستان کے کسی آرمی چیف نے خود بیان دیا ہے۔ افغان طالبان افغانستان میں ٹی ٹی پی کی موجودگی کا اقرار نہیں کرتے اور آرمی چیف کے بیان سے ایک واضح اختلاف سامنے آیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں تناؤ پیدا ہو گیا ہے۔ یہی صورت حال رہی تو پاکستان میں انتخابات کے دوران بھی سکیورٹی خدشات بڑھ جائیں گے۔ تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ دہشت گردی کے معاملے میں سب سے بڑا قصور ہماری ریاستی پالیسی کا ہے۔ دہائیوں سے دہشت گرد عناصر افغانستان سے کارروائیاں کر رہے ہیں اور ہم انہیں رکوانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔کیونکہ ہر کچھ عرصے بعد ہماری ریاستی پالیسیاں تبدیل ہوتی رہتی ہیں جس سے ایسے شرپسند عناصر کو شہہ ملتی ہے۔

Back to top button