عمران کے تابوت میں آخری کیل اسکا سوشل میڈیا ہی ٹھونکے گا

لوگ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کا سوشل میڈیا بہت کامیاب ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ سوشل میڈیا ہی عمران کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔ کیونکہ نہ وہ سچ بولنے کی اہمیّت سے واقف ہیں نہ کم بولنے کی افادیت کو سمجھتے ہیں اور نہ یہ جانتےہیں کہ زیادہ بولنا نقصان دہ ہوتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار سینئر سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر خالد جاوید جان نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے . وہ لکھتے ہیں کہ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ کسی جرم یا چوری ثابت ہونے سے پہلے ہی اسے مسلسل چور اور ڈاکو قرار دیا جائے ، عمران خان اور اس کے سوشل میڈیا کے ٹائیگر آج بھی اسی روش پر قائم ہیں اسی نفرت آمیز اور خود پرستی کے رویّے نے پہلے عمران کو سیاست دانوں کی برادری سے دور کیا اور پھر اپنے محسنوں اور قریبی دوستوں سے ۔ کیونکہ ان کی نام نہاد ایمانداری اور عقلِ کل ہونے کے جنون نے انہیں ہر محاذ پر تنہا کردیاہے۔ لیکن تھوتھا چنا ، باجے گھنا کے مصداق ان کی جھوٹ پر مبنی لا یعنی گفتگو کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔جس کی بنیاد وہ اپنی اس نام نہاد عوامی مقبولیت کو قرار دیتا ہے جو ان کی اچھی کارکردگی کی بجائے ان کے جھوٹے پروپیگنڈے کی مرہونِ منت ہے۔ جو ان کی اصلیّت ظاہر ہونے کے ساتھ ساتھ ختم ہوتی جائے گی کیونکہ آپ زیادہ دیر تک سب کو بیوقوف نہیں بنا سکتے۔
ڈاکٹر خالد جاوید جان کہتے ہیں کہ کم لفظوں میں زیادہ اظہار ایک خوبی ہے اور یہ تو بہت بڑی خوبی کہ جب انسان کو اس حقیقت کا ادراک ہو جائے کہ کہاں اسے ’’خاموشی‘‘میں بات کرنی ہے لیکن احمق لوگ زیادہ سے زیادہ اور ہر جگہ بولنے کو اپنی قابلیت قرار دیتے ہیں چاہے انہیں اس میں نقصان ہی نہ اٹھا نا پڑے۔لفظوں کے غلط استعمال کی سب سے بڑی مثال آجکل سوشل میڈیا پر نظر آتی ہے ۔ جو اب ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ سوشل میڈیا پر اپنے گھر کے آرام دہ کمرے میں بیٹھ کر جھوٹی خبروں کے ذریعے سنسنی پھیلا نے اور اپنے مخالفین کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈے کو آجکل ایک ’’ آرٹ ‘‘ کی حیثیت حاصل ہو گئی ۔ اس میں ایڈیٹنگ، فوٹو شاپ اور مصنوعی ذہانت سے بنائے ہوئے جعلی مواد کے ذریعے خصوصاَ اپنے سیاسی مخالفین کی کردار کشی ایک عام رواج بن چکا ہے۔ جسکی وجہ سے معاشرے میں نفرت ، خوف اور بے یقینی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
پاکستان میں اس کا آغاز پی ٹی آئی قیادت نے کیا۔ اور سوشل میڈیا کو گندگی کا ڈھیر بنا نے کا ریکارڈ قائم کر دیا۔عمران خان کو اقتدار میں لانے کے لئے پہلے ’’ عمران پروجیکٹ‘‘ کے کرتا دھرتا اسٹیبلشمنٹ کے کارندوں نے سوشل میڈیا پر جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے اسے مسیحا اور مسڑ کلین اور اس کے سیاسی مخالفین کو چور اور ڈاکو ثابت کرنے کی کوشش کی۔ اور اس شخص کی سالوں تک اتنی تشہیر کی کہ نئی نسل کے نزدیک عمران خان کے علاوہ باقی سب چور ، اور غدار قرار پائے حتیٰ کہ عمران خان کو خود بھی یقین ہونے لگا کہ ان کی تمام تر سیاسی حماقتوں ، اور نااہلیوں کے باوجود وہ ایک کامل انسان ہیں اور باقی سارے چور اُچکے ہیں۔ اس پر مزید یہ کہ پروجیکٹ عمران کے سہولت کاروں میں شامل سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اسے ’’ صادق اور امین قرار دے کر بندر کے ہاتھ میں اُسترا دے دیا۔ جس کے ذریعے اس نے اپنے سیاسی مخالفین کی حجامت بنانی شروع کردی . نیب کے سابق چیئرمین ریٹائرڈ جسٹس جاوید اقبال کی مبیّنہ وڈیو کے ذریعے بلیک میلنگ کرتے ہوئے اپنے سیاسی مخالفین کو طرح طرح سے تنگ کرنا شروع کردیا۔ ان پر جھوٹے مقدمات قائم کئے گئے اور انہیں مہینوں تک ضمانت سے بھی محروم رکھا گیا۔
ڈاکٹر خالد جاوید جان کے مطابق سوشل میڈیا پر عمران خان کے جھوٹے امیج نے پہلے سے متکّبر ، نا اہل اور آمرانہ مزاج کے حامل غیر سیاسی شخص کو مزید اکھڑ ، متکّبر اور زبان دراز بنا دیا۔ ان کی خود اعتمادی یا خود پرستی کا یہ عالم ہو گیا کہ وہ اپوزیشن کے دیگر منتخب نمائندوں سے ہاتھ ملانے تک کا روادار نہ رہا ۔ یہ دنیا کی تاریخ کا شاید پہلا سیاستدان ہے ۔ جس نے کبھی بھی سیاستدانوں کا روّیہ نہیں اپنایا ۔ اور نہ ہی خود کو سیاستدانوں کی برادری میں شامل کیا۔ اس نے انتہائی اہم قومی امور پر بھی سیاستدانوں کے ساتھ بیٹھنے کی بجائے آرمی چیف کو آرڈر کیا کہ وہ ان سے بات چیت کرے کیونکہ بقول ان کے ان چوروں اور ڈاکوئوں سے ہاتھ ملانا ان کی توہین کے برابر تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ اب وہ ہر کسی سے بات کرنے کے لئے تیارہیں لیکن ان کے نفرت انگیز رویّے کی وجہ سےکوئی بھی انہیں منہ لگانے کے لئے تیار نہیں۔
